قیدیوں کے تبادلے کے دوسرے مرحلے میں نیتن یاہو کی رکاوٹوں پر صیہونی عہدیداروں کا ردعمل

قیدیوں کے تبادلے کے دوسرے مرحلے میں نیتن یاہو کی رکاوٹوں پر صیہونی عہدیداروں کا ردعمل

?️

سچ خبریں:صیہونی اپوزیشن رہنماؤں اور سابق حکام نے قابض وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے دوسرے مرحلے اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔  

فلسطینی میڈیا سینٹر کی رپورٹ کے مطابق صیہونی قابض وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر، قیدیوں کے تبادلے کو روکنے اور غزہ کے لیے انسانی امداد معطل کرنے پر صیہونی سیاسی حلقوں میں شدید اختلافات ابھر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور سابق عہدیداروں نے نیتن یاہو کو فریب کاری، بدنظمی اور ذاتی سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کا الزام دیا ہے۔
مرتس پارٹی کی سابق سربراہ زہاوا گالئون نے نتنیاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 24 اسرائیلی قیدیوں کی جان قربان کر دے، جو خیال کیا جاتا ہے کہ ابھی تک زندہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد روکنے کا مطلب یہی ہے، وہ صرف اپنی حکومت بچانے اور اسموٹریچ کے ساتھ اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے جنگ کو ہوا دے رہا ہے۔
سابق صیہونی وزیر اعظم ایہود باراک نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ نیتن یاہو امریکہ کو دھوکہ دے رہا ہے اور یوکرین جنگ سے فائدہ اٹھا رہا ہے، اس کے تمام اقدامات کا مقصد صرف اپنی حکومت کو برقرار رکھنا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائیر لاپید نے بھی حکومت پر عدم منصوبہ بندی اور بدنظمی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کا تبادلہ رک چکا ہے، غزہ کے لیے امداد معطل ہو چکی ہے،قابض حکومت نے 400000 ریزرو فوجی متحرک کر دیے ہیں لیکن مقصد کیا ہے؟ کیا حکومت نے قیدیوں کو چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ کیا کوئی اس سے بڑا مقصد ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم دوبارہ جنگ شروع کریں گے تو اس کا ہدف کیا ہوگا؟ آخر میں حماس کی جگہ کون لے گا؟ یہ حکومت بغیر کسی حکمت عملی، بغیر کسی ویژن کے آگے بڑھ رہی ہے اور بس امید کر رہی ہے کہ حالات خود ہی سنبھل جائیں گے، ان کی منصوبہ بندی کی یہی آخری حد ہے۔

مشہور خبریں۔

افغانستان سے لائے غیر ملکی اسلحے کے پاکستان میں استعمال کے مزید ثبوت منظر عام پر آگئے

?️ 31 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں افغانستان سے لائے غیر ملکی اسلحے

ہمارے ملک کے کتنے فیصد لوگ وزیراعظم کا نام نہیں جانتے؟

?️ 4 اگست 2024سچ خبریں: گیلپ پاکستان نے موجودہ وزیراعظم کا نام جاننے کے حوالے

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف ایک بار پھر شدید مظاہرے، فوج کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی

?️ 1 مئی 2021میانمار (سچ خبریں)  میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف ایک بار پھر

امریکی صدارتی امیدوار کا عوام فریبانہ بیان

?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: بائیڈن کی نائب صدر، امریکی مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے

پاکستان اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط کے امکانات روشن

?️ 3 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری

لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر موجودہ صورتحال خطرناک ہے: اقوام متحدہ

?️ 7 اپریل 2023سچ خبریں:لبنان میں مقیم اقوام متحدہ کی امن فوج کے میڈیا دفتر

پاکستان اور ایران کا 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف،سندھ کے وزیراعلیٰ کی ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات

?️ 18 اکتوبر 2025پاکستان اور ایران کا 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف،سندھ

حکومت کا قبائلی علاقوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر غور

?️ 17 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر  نے وزارت خزانہ کو تجویز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے