صیہونی فوج کو غزہ جنگ میں نئے بحران کا سامنا

صیہونی فوج کو غزہ جنگ میں نئے بحران کا سامنا

?️

سچ خبریں:صیہونی ذرائع کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے دوران فوجی ساز و سامان کی شدید فرسودگی، فنی خرابیاں اور پرزوں کی قلت اسرائیلی فوج کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہیں، جس کے نتیجے میں حالیہ آپریشن میں تین فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

صیہونی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی فوج، جو کئی ماہ سے غزہ میں ایک تھکا دینے والی جنگ میں مصروف ہے، اب سنگین فنی مسائل اور ساز و سامان کی فرسودگی کا شکار ہو چکی ہے۔
 صیہونی روزنامہ معاریو کے مطابق، یہ مسائل نہ صرف فوج کی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ حالیہ جبالیا آپریشن کے دوران تین اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا سبب بھی بنے ہیں۔
روزنامہ معاریو کے مطابق، فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کو ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں (نمر)، اور دیگر جنگی ساز و سامان میں شدید تکنیکی خامیوں کا سامنا ہے۔ جنگی ساز و سامان کے پرزہ جات، جیسے انجن، زنجیریں، اور پاور ٹرانسمیشن سسٹمز کی قلت ایک بڑتا ہوا مسئلہ ہے۔
بٹالین 7 زرهی کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے کہا کہ ہم تقریباً دو سال سے لگاتار لڑ رہے ہیں پہلے غزہ، پھر لبنان، شام، اور اب دوبارہ غزہ، فوجی ساز و سامان شدید حد تک گھِس چکا ہے کسی نے بھی اتنی طویل جنگ کے لیے تیاری نہیں کی تھی۔ ہر پرزے کی ایک عمر ہوتی ہے۔”
یہ مسئلہ صرف بٹالین 7 تک محدود نہیں، بلکہ توپ خانے، پیدل فوج، اور دیگر جنگی یونٹیں بھی انہی حالات سے گزر رہی ہیں۔
عید شاووعوت کے موقع پر گفعاتی بریگیڈ میں ایک بکتر بند گاڑی کے انجن میں زیادہ گرمی کے باعث جبالیا کے ایک محلے میں آگ بھڑک اٹھی،جب فائر بریگیڈ کی گاڑی کو تحفظ فراہم کرنے والا کاروان آگ بجھانے کے لیے پہنچا تو فلسطینی مزاحمتی فورسز کے نصب شدہ بموں کی کمین گاہ میں پھنس گیا، جس کے نتیجے میں تین صیہونی فوجی ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔
معاریو نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اس سنگین صورتحال کو عوام سے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ میدان جنگ میں موجود کمانڈرز بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتائج نہایت ہولناک ہوں گے۔
صیہونی فوجی ماہرین پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ فلسطینی مزاحمت کی کاروائیوں نے کئی ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فوج کو ہنر مند اہلکاروں کی قلت کا بھی سامنا ہے، کیونکہ طوفان الاقصی آپریشن کے دوران کئی ماہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے اگرچہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک سے بڑی تعداد میں فوجی ساز و سامان درآمد کیا ہے، لیکن نہ صرف اس کا ذخیرہ کم ہو چکا ہے بلکہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے والے ماہرین کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
فوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کا اصل مقصد نوارِ غزہ میں کوئی عسکری کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے۔ ان کے بقول، اس جنگ کا کوئی بھی مستقل فوجی فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا اور بالآخر صیہونی حکومت کو پسپائی اختیار کرنی پڑے گی اور مزاحمت کے مطالبات کے سامنے جھکنا ہو گا۔

مشہور خبریں۔

یمنی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنا ناممکن ہے؛صہیونی تجزیہ کار کا اعتراف 

?️ 5 مئی 2025 سچ خبریں:صہیونی تجزیہ کار آوی اشکنازی نے اعتراف کیا ہے کہ

غزہ کی صورتحال تباہ کن ہے: جرمنی

?️ 21 دسمبر 2024سچ خبریں: جرمن وزارت خارجہ کے نائب ترجمان کرسچن واگنر نے جمعے

اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی لڑائی، سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کو شوکاز جاری

?️ 2 ستمبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) پنجاب  کے ہوم ڈپارٹمنٹ نے اڈیالہ جیل کے سابق

سعودی اتحاد ہمارے تیل کے جہازوں کو چھوڑنے میں تاخیر کر رہا ہے: یمن

?️ 8 اپریل 2022سچ خبریں:بحیرہ احمر کی یمنی بندرگاہوں کی تنظیم کے نائب صدر نے

لبنان کے خلاف صیہونیوں کے وحشیانہ حملے جاری

?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: جنوبی لبنان میں موجود المیادین نیوز چینل کے رپورٹر نے

وزیر اعظم سے کئی ممالک کے وزرا کی ملاقاتیں

?️ 20 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان سے او آئی سی کے

4 ووٹ ابھی بھی ہماری جیب میں تھے، 28 ویں ترمیم کیلئے رکھ لئے۔ فیصل واوڈا

?️ 12 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ چار ووٹ

امریکہ اور چین کے درمیانسرد جنگ کے نتائج

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے