?️
سچ خبریں:فرانس میں حجاب پر ممکنہ پابندی اور جرمانے کی بحث کے درمیان متعدد غیر محجّب خواتین نے سوشل میڈیا پر اپنے بال ڈھانپ کر مسلمان خواتین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور لباس انتخاب کرنے کے حق کی حمایت کی۔
فرانس میں حجاب پر ممکنہ پابندی یا عوامی مقامات پر اسلامی حجاب پہننے پر جرمانے کی سیاسی بحث شدت اختیار کرنے کے ساتھ ہی متعدد ایسی خواتین نے، جو عام طور پر حجاب نہیں کرتیں، سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرکے باحجاب مسلمان خواتین سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ خواتین کے بال ڈھانپ کر سامنے آنے کے اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس میں حجاب کا معاملہ اب صرف مسلم معاشرے تک محدود نہیں رہا۔
اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران متعدد غیر محجّب خواتین نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شائع کی ہیں جن میں انہوں نے اپنے بال ڈھانپ کر مسلمان خواتین کے خلاف مبینہ بدنامی اور منفی تاثر کی مخالفت کا اظہار کیا۔
ان خواتین میں سے بعض نے اپنے پیغامات میں محجّب خواتین کی حمایت اور لباس کے انتخاب کے حق کے دفاع پر زور دیا۔ بعض ویڈیوز میں یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اگر حجاب پر پابندی عائد کی گئی تو وہ بھی حجاب پہنیں گی۔
بحث کا آغاز فرانسیسی دائیں بازو کے رکن پارلیمنٹ کے بیان سے
سوشل میڈیا پر ردعمل کی یہ لہر فرانسیسی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (RN) کے رکن پارلیمنٹ ژاں فیلیپ تانگی کے بیان کے بعد سامنے آئی۔
تانگی نے 30 اگست کو BFMTV کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو عوامی مقامات پر اسلامی حجاب پہننے پر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ریلی اس چیز کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے جسے وہ اسلام پسند نظریہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے حجاب پر جرمانے کو ان خواتین کی حمایت کے اقدام کے طور پر بھی پیش کیا جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ بعض ممالک میں انہیں حجاب پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
تانگی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس تجویز کو فرانس کے 60 سے 70 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہے، تاہم ان کے بیان میں یہ دعویٰ کسی سروے کے حوالے سے کیا گیا اور دستیاب رپورٹس میں اس سروے کا ماخذ واضح نہیں کیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر حجاب پر پابندی عائد کردی گئی تو عوامی مقامات پر اسے پہننے والی خواتین پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی کا معاملہ نیشنل ریلی کے سیاسی ایجنڈے میں نیا نہیں۔ اس سے قبل بھی یہ تجویز میرین لو پین کی انتخابی مہم کے دوران سامنے آچکی ہے۔
تاہم تانگی کے حالیہ بیان نے 2027 کے فرانسیسی صدارتی انتخابات سے قبل ایک بار پھر حجاب کے معاملے کو ملک کی سیاسی بحث کے اہم موضوعات میں شامل کردیا ہے۔
فرانسیسی مسلم کونسل کا ردعمل
فرانسیسی کونسل برائے مسلم مذہب (CFCM) نے بھی ان بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 1 ستمبر کو ایک بیان جاری کیا اور سیاست دانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جنہیں کونسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مترادف سمجھتی ہے۔
کونسل نے ایسے سیاسی بیانات کے محجّب خواتین پر سماجی اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیاسی بیانات مسلمان خواتین کو توہین، دھمکی، خوف و ہراس اور حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
فرانسیسی مسلم کونسل نے خواتین کے حجاب پہننے یا نہ پہننے کے انتخاب کے حق پر بھی زور دیا اور عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی کی مخالفت کی۔ اس ادارے کے مطابق ایسی پابندی ضمیر کی آزادی، شخصی آزادی اور فرانس میں سیکولرازم کے اصول سے متصادم ہوگی۔
فرانس میں حجاب کا معاملہ؛ لباس کے مسئلے سے کہیں آگے
فرانس میں گزشتہ کئی برسوں سے حجاب کا معاملہ سیکولرازم، مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق اور سماجی شناخت سے متعلق مباحث کے مرکز میں رہا ہے۔
تاہم موجودہ قوانین اور حالیہ سیاسی تجویز کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ فی الحال فرانس میں عمومی طور پر عوامی مقامات پر اسلامی حجاب ممنوع نہیں ہے۔ فرانسیسی قوانین کے تحت مخصوص شعبوں میں کچھ پابندیاں موجود ہیں، جن میں 2004 کا وہ قانون بھی شامل ہے جو سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی جانب سے نمایاں مذہبی علامات کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔
اسی طرح سرکاری شعبے کے ملازمین اپنے فرائض انجام دیتے وقت مذہبی غیر جانب داری کے اصول کے پابند ہیں اور کام کی جگہ پر نمایاں مذہبی علامات کے ذریعے اپنی مذہبی وابستگی کا اظہار نہیں کرسکتے۔
دوسری جانب نیشنل ریلی کی جانب سے عوامی مقامات پر حجاب پر پابندی کی نئی تجویز فی الحال ایک سیاسی منصوبہ ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے قانونی اور سیاسی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ خود جماعت کے اندر بھی اس پالیسی کے نفاذ کے طریقہ کار پر بحث جاری ہے۔ نیشنل ریلی کے سربراہ ژوردان باردیلا نے اسلام پسند نظریے سے متعلق معاملات کو ریفرنڈم کے ذریعے عوام کے سامنے رکھنے کی تجویز پر بھی بات کی ہے۔
حجاب؛ آزادی اور ریاستی مداخلت کے درمیان ایک سوال
حجاب نہ کرنے والی خواتین کی جانب سے باحجاب خواتین سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنے بال ڈھانپنے کی حالیہ مہم ظاہر کرتی ہے کہ فرانس میں حجاب کی بحث اب صرف مسلمان معاشرے تک محدود نہیں رہی۔
حجاب پر پابندی کے مخالفین کے ایک حلقے کے نزدیک اصل مسئلہ لباس کا انتخاب نہیں بلکہ افراد کا اپنے جسم اور ظاہری حلیے کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق ہے۔
دوسری جانب حجاب پر پابندی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ریاست کو اسلام پسند رجحانات کے مظاہر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اور ان خواتین کا تحفظ کرنا چاہیے جنہیں حجاب پہننے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یوں فرانس میں جاری تازہ بحث نے ایک بار پھر اس بنیادی سوال کو جنم دیا ہے کہ سیکولرازم کے اصول، ریاستی مداخلت اور لباس کے انتخاب کی انفرادی آزادی کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے؟
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے حالیہ ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل یہ سوال ایک بار پھر فرانس میں اہم سیاسی اور سماجی تنازع کا موضوع بن سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
وزیر خارجہ اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی گفتگو میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
?️ 30 جنوری 2021وزیر خارجہ اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی گفتگو میں دو طرفہ
جنوری
صیہونی وزیر ران ڈیمر کے سیاسی عہدے سے دستبردار ہونے کی اطلاعات
?️ 12 اگست 2025سچ خبریں: اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے بعض ذرائع کے حوالے سے
اگست
مودی کی ٹرمپ اور نیتن یاہو سے غزہ کی صورتحال پر گفتگو، جنگ بندی منصوبے کا خیر مقدم
?️ 11 اکتوبر 2025مودی کی ٹرمپ اور نیتن یاہو سے غزہ کی صورتحال پر گفتگو،
اکتوبر
کن عرب ممالک نے اسرائیل کو ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی؟
?️ 13 اکتوبر 2024سچ خبریں: ذرائع کے مطابق، سعودی عرب، امارات اور قطر نے امریکہ
اکتوبر
9 مئی کے واقعات:عامر محمود کیانی کا پی ٹی آئی و سیاست چھوڑنے کا اعلان
?️ 17 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایڈیشنل سیکریٹری
مئی
غزہ میں جنگ بندی کے مسودے کی تازہ ترین صورتحال
?️ 15 جنوری 2025سچ خبریں: باخبر ذرائع کے مطابق ابتدائی مسودے پر اب فریقین کے
جنوری
افغان طالبات کا اسکولوں کی بندش کے خلاف مظاہرہ
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبات نے لڑکیوں کے اسکولوں
مارچ
زخمی اسرائیلی فوجیوں نے نیتن یاہو کو اپنے کمرے میں جانے کیوں منع کیا ؟
?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں:مقبوضہ یروشلم کے ایک اسپتال کے شعبے میں ایک اسرائیلی فوجی
دسمبر