?️
سچ خبریں:چتم ہاؤس کے مشرقِ وسطیٰ امور کی ڈائریکٹر صنم وکیل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ اور ایران کے تعلقات کو نئے سرے سے متعین کرنا چاہتے ہیں اور واشنگٹن نے تاحال معاہدے کے راستے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔ مکمل اردو ترجمہ اور تجزیاتی پس منظر۔
برطانوی تھنک ٹینک چتم ہاؤس میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے امور کے پروگرام کی ڈائریکٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق مؤقف میں آنے والے اتار چڑھاؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعلقات کو نئے سرے سے متعین کرنا چاہتے ہیں، اور انہوں نے معاہدے کے راستے کو مکمل طور پر ایجنڈے سے خارج نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی جریدے کا ایران میں حالیہ کشیدگی پر پاکستان کی بہترین سفارتکاری کا اعتراف
صنم وکیل نے منگل کی شب چتم ہاؤس میں مغربی ایشیا کی علاقائی صورتحال پر منعقدہ ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کے پُرشور اور غیر متوقع طرزِ عمل کو بیان کیا اور کہا کہ ان کی شخصیت کی وضاحت کے لیے مختلف تعبیرات استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کے بقول، شاید ٹرمپ کے بارے میں مشہور کہاوت ہی ان پر صادق آتی ہے کہ:
ٹرمپ آخرکار ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
انہوں نے کشیدگی میں کمی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما تھے۔ ایک جانب، موقع پر مطلوبہ سطح کے عسکری وسائل اور اثاثے موجود نہیں تھے، اور دوسری جانب ایران نے ان کے بقول براہِ راست اور بالواسطہ طور پر یہ پیغام دیا کہ کسی بھی اقدام کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
چتم ہاؤس کی اس تجزیہ کار کے مطابق ایک اور اہم عنصر اگلے دن کے لیے کسی واضح منصوبے کا فقدان تھا، یعنی اگر ایک مہنگے اور پرخطر راستے پر قدم رکھا جاتا تو نہ فوری نتائج کے لیے اور نہ ہی اس کے بعد کے مرحلے کے لیے کوئی واضح تصویر موجود تھی۔
صنم وکیل نے واشنگٹن کے فیصلوں میں علاقائی ماحول کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں، نہ صرف ایران کے اندر کسی مضبوط متبادل آپشن کی عدم موجودگی بلکہ خطے کے بعض ممالک کی مشاورت اور لابنگ نے بھی پسپائی کو ایک قابلِ فہم انتخاب بنا دیا۔
مزید پڑھیں:ظالمین کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟؛وینزوئلا کے واقعات سے سبق
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس پسپائی کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کا معاملہ ترک کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا:
ٹرمپ کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات کو ازسرِنو تشکیل دیا جائے، اور یہ مقصد مختلف راستوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جن میں سے ایک راستہ—ان کے مطابق—ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے، جو اب بھی ایک قابلِ غور آپشن کے طور پر موجود ہے۔


مشہور خبریں۔
تل ابیب اور مقبوضہ علاقوں میں یافا کی بندرگاہ میں تین دھماکے
?️ 1 جنوری 2022سچ خبریں:صیہونی ذرائع ابلاغ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب
جنوری
عاطف اسلم اور نصرت فتح علی خان کے وی ایف ایکس مکسچر گانے نے دل جیت لیے
?️ 4 مئی 2025کراچی: (سچ خبریں) مقبول گلوکار عاطف اسلم اور مایہ ناز مرحوم گلوکار
مئی
کیا امریکہ یوکرین کے تنازعے سے دستبردار ہوگا؟
?️ 22 فروری 2025سچ خبریں: انٹرفیکس، سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار لیری جانسن نے
فروری
سعودیہ سے معاہدہ خالصتاً دفاعی، کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔ دفتر خارجہ
?️ 21 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے
ستمبر
پہلے ہی ڈرامے میں عمران اشرف کو کہا تھا مستقبل میں بڑے اداکار بنو گے، سمیع خان
?️ 6 فروری 2025 کراچی: (سچ خبریں) مقبول اداکار سمیع خان نے عمران اشرف کے
فروری
اسرائیل میں جعلی نوٹوں کی چھپائی
?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں:اسرائیل کی سڑکوں پر مظاہروں اور سیاسی بدامنی کے دائرہ کار
جولائی
بلنکن کا ریاض کا دورہ
?️ 7 جون 2023سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ ٹونی بلنکن منگل کو سعودی عرب روانہ ہو
جون
ٹرمپ کی کمپنی کے خلاف ٹیکس چوری کرنے کا مقدمہ
?️ 3 جولائی 2021سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک کمپنی پر الزام عائد
جولائی