?️
سچ خبریں:امریکہ اور مراکش کے اعلیٰ عسکری حکام نے دفاعی صنعتوں کے فروغ اور دوطرفہ فوجی تعاون کے توسیعی منصوبے پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔
امریکی افریقہ کمان (AFRICOM) کے سربراہ جنرل مائیکل لینگلے نے دارالحکومت رباط کا دورہ کیا اور مراکش کے وزیر مملکت برائے دفاع، عبداللطیف لودی سے ملاقات کی،دونوں فریقوں نے 2020 تا 2030 کے دفاعی تعاون کے روڈ میپ کے مطابق تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں:افریقی شیروں کی مشق میں اسرائیلی فوج کی شرکت نے مراکشی باشندوں کو غصے میں ڈال دیا ہے
مراکش کی وزارتِ دفاع کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک تعاون کو مستحکم کرنے، نئی دفاعی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور جدید عسکری صنعتوں کے قیام پر بھی اتفاق کیا۔
وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے موجودہ عسکری تعلقات کے اعلیٰ معیار پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں دفاعی روابط کو نئی سطح تک لے جایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں امریکہ کے سابق وزیر دفاع مارک ایسپر نے مراکش کا دورہ کیا تھا، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دس سالہ فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، اس معاہدے کے تحت واشنگٹن اور رباط نے دفاعی اشتراکِ عمل کو مختلف شعبوں تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اخبار القدس العربی کے مطابق، افریقہ کمان کے سربراہ کا حالیہ دورہ پیر کے روز شروع ہوا تاہم اس کی اختتامی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے نئے دفاعی شعبوں میں تعاون، جدید دفاعی صنعتوں کے قیام اور مشترکہ تربیتی پروگراموں پر بھی گفتگو کی۔
امریکہ گزشتہ دو دہائیوں سے مراکش میں “شیرِ افریقہ” کے نام سے سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کرتا آرہا ہے، جن میں متعدد علاقائی اور بین الاقوامی ممالک شریک ہوتے ہیں، ان مشقوں کا مقصد افریقی خطے میں فوجی تعاون اور آپریشنل ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
دسمبر 2020 میں مراکش اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی معمول پر لانے کے معاہدے کے بعد سے تل ابیب کے فوجی بھی ان مشقوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں رباط، واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان فوجی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، اور مراکشی فوج کو امریکی و اسرائیلی اسلحہ، ٹیکنالوجی اور دفاعی آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:تیونس اور مراکش سے آسٹریلیا تک صہیونی مجرموں کے خلاف عالمی بیزاری کی لہر
مراکش میں اس وقت متعدد امریکی اور اسرائیلی دفاعی کمپنیاں بھی سرگرم ہیں جو جدید فوجی سازوسامان اور دفاعی ڈھانچے کی تیاری میں تعاون کر رہی ہیں۔


مشہور خبریں۔
چکوال: ایاز امیر کی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر
?️ 3 جنوری 2024چکوال:(سچ خبریں) چکوال سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار
جنوری
ٹرمپ انتظامیہ کی ونزوئلا پر سخت کارروائیاں خاندانی پابندیوں کے بعد تیل بردار جہاز بھی ضبط
?️ 12 دسمبر 2025 ٹرمپ انتظامیہ کی ونزوئلا پر سخت کارروائیاں خاندانی پابندیوں کے بعد
دسمبر
پاکستان اور یورپی یونین کے 7 ویں سٹریٹجک ڈائیلاگ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس کی مشترکہ صدارت
?️ 22 نومبر 2025برسلز: (سچ خبریں) پاکستان اور یورپی یونین نے7 ویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد برسلز میں
نومبر
سعودی عرب میں غیر ملکی سرمایہ کاری
?️ 22 اگست 2023سچ خبریں:سعودی عرب میں ترقی کے عمل کا براہ راست تعلق بادشاہ
اگست
ایران کے خلاف جنگ کی مجموعی لاگت ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے؛ سی این این کا انکشاف
?️ 13 مئی 2026سچ خبریں:امریکی میڈیا سی این این کے مطابق پینٹاگون نے ایران کے
مئی
کیا ٹرمپ نے اپنے روایتی اتحادی برطانیہ کو نظرانداز کر دیا ہے؟
?️ 24 جون 2025 سچ خبریں:ایران پر امریکی حملوں میں برطانیہ کا کوئی کردار نہیں
جون
حکومت کا کراچی اور حیدرآباد کے درمیان نئی موٹروے بنانے کا فیصلہ
?️ 3 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان
ستمبر
امریکہ کی یوکرین کو 322 ملین ڈالر کی نئی فوجی امداد کی منظوری
?️ 26 جولائی 2025 سچ خبریں:امریکہ نے یوکرین کو 322 ملین ڈالر مالیت کے فضائی
جولائی