?️
سچ خبریں:ایران کے ایٹمی مراکز پر امریکی حملہ، ایران کے میزائل حملوں سے اسرائیل کی ناکامی کے بعد ایک سیاسی اور نمائشی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر تباہ کن میزائل حملوں کے بعد جب صہیونی دفاعی نظام کی کمزوری دنیا پر عیاں ہو گئی، تو امریکہ کی جانب سے اچانک ایک غیر متوقع حملہ سامنے آیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی جنگندوں نے ایران کے نطنز، اصفہان اور فردو میں تین جوہری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر خودساختہ اخلاقی برتری اور امن کی دعوت کے دعووں کے ساتھ ایران سے کہا کہ اب وہ تسلیم کرے اور صلح اختیار کرے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ چند روز قبل ٹرمپ خود ہی دو ہفتے کی مہلت دینے کی بات کر چکے تھے تاکہ ایران کے ساتھ سفارتی راہ باقی رہے۔ اس حملے نے اس دعوے کی قلعی کھول دی اور ظاہر کر دیا کہ واشنگٹن کی دیپلومیسی محض ایک فریب تھی۔
حملے کے پیچھے اصل محرکات:
ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی پوزیشن کمزور ہو چکی تھی، اور امریکہ پر دباؤ تھا کہ فوری عسکری مداخلت کرے۔
ایران کے بعض حلقوں نے یہاں تک کہا کہ:
یہ تینوں جوہری مراکز حملے سے پہلے خالی کرا لیے گئے تھے۔
ایران کا مؤقف:
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قوانین، بالخصوص NPT (عدم پھیلاؤ معاہدہ) کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو بدقسمتی سے آئی اے ای اے کی خاموشی اور بعض مواقع پر ہمراہی کے باعث ممکن ہوا۔
امریکی حلقوں میں مخالفت:
متعدد امریکی سیاستدانوں نے اس حملے کو بغیر کنگریس کی منظوری اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یہاں تک کہ اوکلاہوما میں عوام نے سڑکوں پر آ کر نعرے لگائے:
No more wars! – مزید جنگیں نہیں!
اسکاٹ ریٹر (سابق UN اسلحہ معائنہ کار) نے کہا کہ یہ حملہ محض سیاسی عزت بچانے کی کوشش تھی۔ دو مراکز پہلے ہی اسرائیل کے نشانے پر آ چکے تھے، اور فردو ایک انتہائی مستحکم مقام ہے اس پر اثر ڈالنا ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں:امریکہ اسرائیلی جارحیت میں شریک ہے، جس مقام سے حملہ ہوگا اسی جگہ جواب دیں گے، ایرانی سفیر
ایران کی جانب سے سرکاری سطح پر جواب ابھی سامنے نہیں آیا، لیکن یہ واضح ہے کہ یہ حملہ طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک بےبس اتحادی کی مدد تھی ایک ایسی کارروائی جو نہ قانونی جواز رکھتی ہے، نہ فوجی فائدہ۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
صنعا نے مصری اور سعودی بیان کا مذاق اڑایا
?️ 22 جون 2022سچ خبریں: سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے
جون
اسرائیل کی موجودہ صورتحال؛ شاباک کے سابق سربراہ کی زبانی
?️ 11 مئی 2024سچ خبریں: شین بٹ یا شاباک کے نام سے مشہور صیہونی حکومت
مئی
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مصری صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
?️ 25 اکتوبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ مصر، قاہرہ
اکتوبر
اسلام آباد کو مثالی شہر بنانے کا وقت آگیا ہے
?️ 4 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ معاشی
جون
ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت
?️ 26 اپریل 2026 سچ خبریں:ایران اور مصر کے وزرائے خارجہ نے ایک ٹیلی فونک
اپریل
سپریم جوڈیشل کونسل سابق جج کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتی، فیض حمید، عرفان رامے
?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے
فروری
پولیٹیکو کا ٹرمپ پر امریکہ اور برطانیہ کے عدم اعتماد کا بیان
?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: امریکہ اور برطانیہ کے درمیان نئے تجارتی معاہدے کا حوالہ
مئی
صرف انتہا پسند چھوٹے دماغ کے ہوتے ہیں: فواد چوہدری
?️ 22 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ آج
نومبر