?️
سچ خبریں:وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے طویل ہونے پر شدید برہم اور مایوس ہیں، جبکہ اس کے سیاسی اور انتخابی اثرات پر وائٹ ہاؤس میں تشویش بڑھ رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ جاری جنگ کے طویل ہونے پر شدید برہم اور مایوس ہیں اور اب انہیں اس تنازع کے سفارتی حل کی کامیابی کی امید بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ اپنے پانچویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ ٹرمپ کو ابتدا میں یقین تھا کہ یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔ تاہم اب انہیں اس جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران صرف فوجی طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور وہ اس وقت تہران کے خلاف سخت مؤقف اور انتقامی حکمت عملی اختیار کرنے کے خواہاں ہیں۔
کانگریس انتخابات پر خدشات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہے اور ٹرمپ کے متعدد مشیر اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ جنگ کا تسلسل ان کی صدارت کو متاثر کر سکتا ہے اور ریپبلکن پارٹی کے لیے آئندہ وسط مدتی کانگریس انتخابات میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، جنگ کے باعث بڑھتی مہنگائی، ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں نے ریپبلکن امیدواروں کے انتخابی امکانات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
سفارتی کوششیں ناکام
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران جنگ ختم کرنے کے لیے متعدد کوششیں کیں، جن میں جنگ بندی کا اعلان اور ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت بھی شامل تھی، تاہم یہ تمام اقدامات جلد ہی ناکام ہو گئے اور لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔
اسی دوران امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے، اسلحہ اور فوجی سازوسامان بھیج رہا ہے تاکہ اگر ٹرمپ فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا فیصلہ کریں تو ان کے پاس زیادہ عسکری اختیارات موجود ہوں۔
مذاکرات سے مایوسی
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف جیسے افراد اب بھی تہران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے لیے سرگرم ہیں، لیکن ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران مذاکرات کے ذریعے اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوگا، اسی لیے وہ پہلے سے زیادہ فوجی دباؤ کی پالیسی پر انحصار کر رہے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی میں اختلافات
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ایران جنگ نے ریپبلکن اتحاد کے اندر بھی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
فاکس نیوز کی معروف میزبان لورا انگراہم نے خبردار کیا کہ وسط مدتی انتخابات تیزی سے قریب آ رہے ہیں اور جنگ کے سیاسی اثرات ریپبلکن پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن نے کہا کہ نیتن یاہو ہمیں ایک خوفناک اور جھوٹ پر مبنی جنگ میں لے آیا ہے، اور عوام خود حالات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام اس وقت عوامی توجہ کو جنگ سے ہٹا کر معاشی معاملات کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔
زیارت اور تجارت کا نیا باب، ایران پاکستان بحری راستہ جلد فعال ہونے کا امکان
?️ 17 دسمبر 2025 زیارت اور تجارت کا نیا باب، ایران پاکستان بحری راستہ جلد
دسمبر
حزب اللہ کے مجاہدین کا سید حسن نصر اللہ کے نام کھلا خط
?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے مجاہدین نے اس جماعت کے سکریٹری جنرل
جنوری
ایف اے ٹی ایف پر اپوزیشن کا بیانیہ افسوسناک ہے: حماد اظہر
?️ 26 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ
جون
آئی ایس او کی جانب سے پاکستانی رکنیت معطل کرنے کی وارننگ، کاروباری برادری تشویش میں مبتلا
?️ 3 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) کاروباری برادری نے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار اسٹینڈرڈائزیشن (آئی ایس
ستمبر
ٹرمپ کی مصنوعی جنگ؛ ایران پر حملے کے فرضی مناظر سوشل میڈیا پر جاری
?️ 27 جولائی 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر
جولائی
سعودی پیسے سے اسرائیل میں سرمایہ کاری
?️ 9 مئی 2022سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت کے سابق
مئی
عراق کے صوبہ کرکوک میں تین داعشی خواتین گرفتار
?️ 24 فروری 2021سچ خبریں:عراقی فورسز نے اس ملک کے صوبہ کرکوک میں تین داعشی
فروری
امریکہ کب تک تھامے گا صیہونیوں کو؟
?️ 11 جولائی 2023سچ خبریں:امریکی فضائیہ اور صیہونی حکومت نے تزویراتی اہداف کو نشانہ بنانے
جولائی