صیہونی انتخابات کے امیدواروں میں کوئی فرق نہیں، سب لبنان کے خلاف جارحیت کے حامی ہیں: حزب اللہ

لبنان کے خلاف جارحیت

?️

سچ خبریں:حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ شیخ علی الدعموش نے کہا کہ تمام صیہونی جماعتیں لبنان کے خلاف جارحیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ شیخ علی الدعموش نے کہا ہے کہ صیہونی انتخابات کے نتائج کی کوئی اہمیت نہیں، کیونکہ اقتدار کے لیے مقابلہ کرنے والی تمام جماعتیں لبنان کے خلاف جارحیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مزاحمت برقرار رہے گی اور لبنان کی سرزمین کو قابض افواج سے آزاد کرایا جائے گا۔

المنار کی رپورٹ کے مطابق، شیخ علی الدعموش نے بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں واقع سید الشہداء کمپلیکس میں ’’سوق الارضی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کے عزم و ارادے نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ یہ ایسا ناقابل شکست عزم ہے جو ثابت قدمی، استقامت اور باوقار زندگی گزارنے کے پختہ عہد کے ساتھ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے تاکہ جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہونے والی چیزوں کو ازسرنو تعمیر کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ ہم اسے قابض افواج کے وجود سے پاک کریں گے، دوبارہ تعمیر کریں گے اور عزت و وقار کے ساتھ آباد کریں گے۔

حزب اللہ کے عہدیدار نے کہا کہ بہت سے لوگ صیہونی انتخابات کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے اور انہوں نے ان انتخابات کو ایک ایسا اہم واقعہ بنا دیا تھا جس سے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔ لیکن ہمارے خطے کے معاملات کے حوالے سے اقتدار کے لیے مقابلہ کرنے والوں کے درمیان آخر کب کوئی بنیادی اختلاف رہا ہے؟ یہ تمام جماعتیں ہمارے ملک کے خلاف جارحیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔

علی الدعموش نے زور دے کر کہا کہ ماضی کے تمام تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت کے توسیع پسندانہ منصوبے اور ہمارے ملک میں قابض قوتوں کے عزائم ایک ہی ہیں۔ ہمارے لیے اصل اہمیت قابض افواج کا انخلا، جارحیت کا خاتمہ، ہمارے قیدیوں کی واپسی اور ہمارے دیہات کی تعمیر نو ہے۔

لبنان کے سیاسی بحران اور مزاحمت کا مستقبل

حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ نے کہا کہ لبنانی حکام کی جانب سے براہ راست مذاکرات کے ذریعے اختیار کیا گیا سیاسی راستہ ناکام ہو چکا ہے۔ ایسی صورت میں لبنان کے لیے واحد راستہ داخلی طاقت کو مضبوط بنانا اور قومی سطح پر باہمی مفاہمت کی زبان کی طرف واپس آنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور ذمہ دار حکومت کا وجود ضروری ہے، جو اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔ بدقسمتی سے، اب تک لبنانی عوام ایسی ذمہ دار اور نگہبان حکومت تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جس کے باعث بعض حلقوں کو خود یہ ذمہ داریاں سنبھالنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، جن میں قبضے کے خلاف مزاحمت بھی شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کے ہتھیار سرزمین کو آزاد کرانے کے لیے ہیں اور کوئی بھی اس ذمہ داری کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ایسی صورت میں جب قابض قوتیں ہماری سرزمین پر موجود ہوں، یہ اصرار ناقابل قبول ہے کہ کارروائی کا خصوصی اختیار صرف حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔ جب تک قبضہ برقرار رہے گا، مزاحمت بھی باقی رہے گی اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔

شیخ علی الدعموش نے مزید کہا کہ جب لبنان آزاد ہو جائے گا، اس کے عوام اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئیں گے اور تعمیر نو کا عمل شروع ہوگا تو حزب اللہ ملک کے مستقبل کی فکر رکھنے والے تمام فریقوں کے ساتھ داخلی مذاکرات کے لیے تیار ہوگی۔

انہوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی کارکردگی اور اختیار کردہ پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے، لبنان پر امریکی جارحیت کے مقابلے میں قومی خودمختاری کا دفاع کرے، قومی مفادات کو ترجیح دے اور لبنان میں امریکا کی کھلی مداخلت کا خاتمہ کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حزب اللہ لبنان کی سیاسی زندگی پر کنٹرول حاصل کرنے اور اسے امریکا کے زیر سرپرستی ایک ملک میں تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہے۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو صرف وقت خریدنا چاہتا ہے،کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے

?️ 24 اگست 2025نیتن یاہو صرف خریدنا چاہتا ہیں،کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ

امریکی فوج کا بحرالکاہل میں ایک اور کشتی پر حملہ، 3 افراد ہلاک

?️ 19 جون 2026سچ خبریں:امریکی فوج نے مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں

انڈونیشیا اور فرانس کے درمیان 11 بلین ڈالر کے تعاون کے معاہدوں پر دستخط

?️ 29 مئی 2025سچ خریں: انڈونیشیا اور فرانس نے ایمانوئل میکرون کے جنوب مشرقی ایشیا

پاکستان چیلنجز سے محفوظ نہیں لیکن ہم بے بس بھی نہیں۔ صدر زرداری

?️ 1 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے

حزب اللہ کے میزائلوں سے نیتن یاہو کے بیٹے کی شادی ملتوی 

?️ 30 اکتوبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے شدید راکٹ حملے شمال سے مقبوضہ فلسطین

یورپ کے بحران سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟

?️ 29 اکتوبر 2026سچ خبریں: یورپ بھر میں مہنگائی، رہائشی بحران اور زندگی کے بڑھتے اخراجات

وزیر داخلہ نے افغان سفیر کی بیٹی کے انٹرویو کو پاکستان کے خلاف جنگ قرار دے دیا

?️ 12 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

امریکہ نائیجر سے اپنی فوجیں کیوں نکال رہا ہے؟

?️ 11 ستمبر 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ دفاع کے دو عہدیداروں نے اعلان کیا کہ امریکہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے