صیہونیوں کی لبنان دھماکوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش

صیہونیوں کی لبنان دھماکوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش

?️

سچ خبریں: صیہونی تجزیہ نگاروں کی جانب سے بیروت میں پیجر حملوں پر شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں۔

الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی میڈیا نے حالیہ حملوں کے بعد حزب اللہ پر صیہونی حکومت کے حملے اور اس کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں تجزیے پیش کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان میں پھٹنے والے وائرلیس آلات کس ماڈل کے تھے؟

میڈیا تجزیوں میں لبنان میں ہونے والے کمیونیکیشن ڈیوائسز کے دھماکوں اور صیہونی ریاست کی شمالی سرحدوں پر ممکنہ نتائج سے نمٹنے کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

صیہونی ٹی وی چینل 13 نے حزب اللہ کے ارکان کے ذریعہ استعمال ہونے والے آلات پر ہالیووڈی انداز میں کیے جانے والے حملوں کو ایک مربوط اور پیچیدہ آپریشن قرار دیا۔

اس نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا یہ حملہ حزب اللہ کے ساتھ ایک مکمل اور وسیع جنگ کا پیش خیمہ بنے گا یا نہیں۔

موساد کے سابق چیف دانی یاتوم نے چینل 13 کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس حملے کا مقصد کیا تھا؟ ہم نہیں جانتے کہ اس کا مقصد کیا ہے اور یہ کس نے انجام دیا ہے؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ حملہ حزب اللہ کے 3000 درمیانی سطح کے ارکان کو غیر مؤثر بنانے میں کامیاب رہا ہو تو یہ ایک بڑی کامیابی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگلا قدم کیا ہوگا؟

دوسری جانب، صیہونی چینل 12 کے فوجی رپورٹر نیر دفوری نے بھی حزب اللہ کے وائرلیس ڈیوائسز کے دھماکوں کے مقاصد پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس واقعے کے اہداف کیا ہیں اور یہ ہمیں کہاں لے جائے گا؟” انہوں نے اشارہ کیا کہ ان سوالات کا ابھی تک کوئی واضح جواب نہیں ہے۔

اسی سلسلے میں، صیہونی ریاست کی رائخمن یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اینڈ اسٹریٹیجی کے سربراہ اور وزارت جنگ کے سابق سیاسی و سکیورٹی سربراہ عاموس گلعاد نے کہا کہ حزب اللہ اس واقعے کو اسرائیل سے منسوب کر رہی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ آیا اسرائیل کے پاس اس حملے کے نتائج سے نمٹنے کی حکمت عملی ہے یا نہیں؟

مزید پڑھیں: لبنان میں دھماکہ ہونے والے پیجرز کس کمپنی کے تھے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کیا کرے گا؟ کیا وہ وسیع پیمانے پر جواب دے گا؟ کیا ہم کسی بڑے آپریشن کے لیے تیار ہیں؟ کس مقصد کے لیے اور کس کے خلاف؟” انہوں نے جنگ کی وسعت کو صیہونی ریاست کے لیے ایک چیلنج قرار دیا نہ کہ حزب اللہ کے لیے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز لبنان میں پیجرز جیسے کمیونیکیشن ڈیوائسز کے دھماکے ہوئے جن میں لبنانی وزیر صحت کے مطابق 11 افراد شہید اور 3000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل کے وزیر جنگ کے الفاظ سے جولانی کی توہین

?️ 14 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کے جنگی وزیر یسرائیل کاٹز نے شام کے مقبوضہ

غزہ جنگ کے بارے میں سید حسن نصراللہ کا اظہار خیال

?️ 26 مئی 2021سچ خبریں:لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن

سانچیز: جنگ ایران کے خلاف خاموشی بزدلی اور جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے

?️ 25 مارچ 2026سچ خبریں: ہسپانیہ کے وزیر اعظم نے اشارہ کیا کہ ان کا

معاشی استحکام کے لیے 2025 کامیاب سال رہا۔ بلال اظہر کیانی

?️ 10 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا ہے

نیٹن یاہو کے سابق حفاظتی دستے کے سربراہ کی فیملی کے رویوں پر قابل توجہ انکشافات

?️ 7 فروری 2026 سچ خبریں:اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیٹن یاہو کے سابق حفاظتی دستے کے

صیہونی جیلوں میں 700 بیمار فلسطینی قیدی

?️ 3 جون 2023سچ خبریں:فلسطین کے ایک تحقیقی مرکز نے صیہونی حکومت کی جیلوں میں

ایران امریکہ کے لیے جرمنی اور جاپان کیوں نہیں بن سکتا؟

?️ 12 مئی 2026سچ خبریں:امریکہ اور مغرب کا ایران کے خلاف رویہ جرمنی اور جاپان

حزب اللہ اسرائیل کو دی جانے والی ڈیڈ لائن میں سنجیدہ ہے:امریکی جاسوس ایجنسی

?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت نے اعلان کیا کہ اسے امریکی جاسوسی ادارے کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے