موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم کانفرنس، امریکا نے پاکستان کو شرکت کی دعوت دے دی

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم کانفرنس، امریکا نے پاکستان کو شرکت کی دعوت دے دی

?️

واشنگٹن (سچ خبریں)  امریکا کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے منعقد کی جانے والی کانفرنس میں بھارت، چین اور بنگلہ دیش سمیت 40 ممالک کے رہنماؤں کو دعوت دی گئی تھی لیکن پاکستان کو کسی قسم کی کوئی دعوت نہیں دی گئی تھی جو باعث تشویش بات تھی لیکن اب امریکا کی جانب سے پاکستان کو باقاعدہ طور پر اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت مل چکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم کو اس ہفتے کے آخر میں صدر جو بائیڈن کی زیر قیادت منعقد ہونے والے آب و ہوا سے متعلق ورچوئل لیڈرز سمٹ میں ممتاز مقرر کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق 17 اپریل کو ملک امین اسلم کو لکھے گئے اس خط میں امریکی خصوصی صدارتی ایلچی برائے آب و ہوا جان کیری نے کہا کہ میں امریکا کے صدر کی طرف سے آب و ہوا سے متعلق ورچوئل لیڈرز سمٹ میں بطور مقرر آپ کو شرکت کی دعوت دینا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں، ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ 22 اپریل کو آب و ہوا کی موافقت اور لچک کے موضوع سے منعقد ہونے والی گفتگو میں دیگر وزرا اور رہنماؤں کے ہمراہ اس کا حصہ بنیں۔

اس دعوت نامے کے مطابق لیڈرز سمٹ میں دنیا کی بڑی معیشتوں اور دیگر شراکت داروں کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں گے جس میں عالمی رہنما موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مستحکم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد بائیڈن کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ وہ اریکا کو دوبارہ پیرس معاہدے کا حصہ بنائیں جو ایک ایسا عالمی فریم ورک ہے جس میں اراکین کو ماحولیات کے حوالے سے مشترکہ کوششیں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جو بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکا نومبر میں گلاسگو میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں شرکت سے قبل آب و ہوا کے حوالے سے تمام ممالک کے ساتھ مل کر مربوط حکمت عملی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ قائدین کے اجلاس کے وقت تک امریکا 2030 کے لئے آب و ہوا کا ایک منصوبہ پیش کرے گا کیونکہ پیرس معاہدے کے تحت ہماری قومی سطح پر طے شدہ شراکت ہے، صدر نے دیگر رہنماؤں پر بھی زور دیا کہ وہ اس اجلاس میں آ کر بتائیں کہ ان کی حکومتیں 1.5 ڈگری سینٹی کی حد تک قابو میں رکھنے کے لیے کیا قدامات کررہی ہیں۔

اس سربراہی اجلاس میں توانائی اور آب و ہوا کے بارے میں اہم معیشتوں کے فورم کی بحالی ہوگی جس کے ساتھ ہی عالمی اخراج کے 80 فیصد ذمے دار 17 ممالک ایک جگہ جمع ہو کر اس مسئلے کا حل نکالیں گے۔

مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں دیگر ممالک کی آواز کو شامل کرنے کے لیے صدر نے چند اضافی ممالک کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا شکار ہیں۔

جان کیری نے ملک امین اسلم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ آپ آب و ہوا کی موافقت اور لچک پر مبنی سیشن میں پاکستان کے قیمتی نقطہ نظر کو پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور مجھے امید ہے کہ آپ اس اجتماع میں حصہ لینے کے قابل ہوں گے، امریکہ آب و ہوا کے بحران پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے

امریکہ کی میزبانی میں ہونے والی اجلاس سے پاکستان کے اخراج پر ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان متعدد عالمی فورمز پر اس مسئلے کو اٹھا چکے ہیں اور یہ باور کرا چکے ہیں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کا سامنا کررہے ہیں، تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ امریکا، پاکستان کے ساتھ مختلف سطحوں پر آب و ہوا کے بحران پر کام کرنے کا منتظر ہے۔

جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے ڈان نے پوچھا تھا کہ پاکستان کو عالمی اجلاس سے کیوں نظر انداز کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ امریکا ماحولیاتی تبدیلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان سمیت تمام ممالک سے تعاون کرنے کو تیار ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے اس حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو وائٹ ہاؤس کے سربراہی اجلاس میں اس لیے مدعو نہیں کیا گیا تھا کیونکہ وہ پاکستان سے سب سے کم اخراج ہوتا ہے اور اس کا اخراج میں حصہ صرف ایک فیصد ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ ماہ سربراہی اجلاس میں بھارت، چین اور بنگلہ دیش سمیت 40 ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا تھا، اس وقت یہ سمجھا گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ملک ہونے کے باوجود کانفرنس میں شریک ممالک کی فہرست سے پاکستان کا نام نکال دیا گیا ہے، تاہم ملک امین اسلم نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے کل اس اجلاس میں شرکت کے لیے اجازت لی جائے گی۔

مشہور خبریں۔

عبرانی میڈیا: اسرائیل یمن میں گہرائی میں گھسنے کی تیاری کر رہا ہے

?️ 4 جنوری 2026سچ خبریں:  تل ابیب ملک کے جنوب میں علیحدگی پسندوں کے ذریعے

پی ٹی آئی کو پرویز الہٰی پر حملہ آور نہیں ہونا چاہیے، زلفی بخاری

?️ 12 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ

تل ابیب اسرائیل کے خلاف پابندیوں سے پریشان

?️ 8 مئی 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار Haaretz نے منگل کے مطابق اسرائیل کے خلاف ترکی

صیہونی کابینہ تباہی سے ایک قدم کے فاصلہ پر

?️ 16 جون 2022سچ خبریں:نفتالی بینیٹ کی اتحادی کابینہ ایک نمائندے کے جانے کی وجہ

یوکرین پر ٹرمپ کا 28 نکاتی منصوبہ 

?️ 24 نومبر 2025سچ خبریں: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 20 نومبر 2025 کو کیف کو

صیہونیوں کی انصار اللہ کا مقابلہ کرنے لیے امریکہ سے مدد کی بھیک

?️ 26 دسمبر 2024سچ خبریں:صیہونی اخبار نے اپنی تازہ رپورٹ میں انصار اللہ یمن کے

موجودہ دور کی جنگ ارادوں کی جنگ ہے:ایرانی صدر

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کا کہنا ہے کہ آج کے

وزیراعظم شہباز شریف سے بلاول بھٹو کی ملاقات، ملکی صورتحال پر گفتگو

?️ 23 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے