?️
سچ خبریں:حزب اللہ نے طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ پر کہا ہے کہ اس آپریشن کے اثرات صرف فلسطین یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوئے ہیں۔
حزب اللہ نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی تیسری سالگرہ کے موقع پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس عظیم آپریشن کا پیغام خطے اور مسئلہ فلسطین کی حدود سے کہیں آگے بڑھ کر پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔
جنگی ذرائع ابلاغ کے مطابق حزب اللہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے شروع کیے گئے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی تیسری سالگرہ کے موقع پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو دنیا کو ہلا دینے والے طوفان الاقصیٰ کو 3 سال گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی اس آپریشن کی مختلف تعبیرات اور اس کے بارے میں بحث ختم نہیں ہوئی۔ یہ وہ آپریشن تھا جس نے مسئلہ فلسطین کو ایک بار پھر ان لوگوں کی یاد میں زندہ کر دیا جنہوں نے برسوں تک فلسطین کو فراموشی کے غار اور مفاہمت کی راہداریوں میں دفن کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
حزب اللہ کے مطابق، جو لوگ اس آپریشن کے محرکات کو سمجھتے ہیں، وہ اپنی دلیل کے نتیجے میں اس بات تک پہنچتے ہیں کہ طوفان الاقصیٰ فلسطین اور اس کے عوام کو درپیش ظلم و جبر اور تباہی کے خطرے کے مقابلے میں ایک بہادر، بے مثال، فطری، جائز اور قانونی اقدام تھا۔
حزب اللہ نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ ایک بڑا دھچکا تھا، جس کے نتائج کو طاقت، برتری اور خواتین و بچوں کی نسل کشی کی حد تک پہنچنے والے بے تحاشا تشدد کے پیمانے سے نہیں بلکہ اقدار، قوانین اور سیاسی اثرات کے پیمانے سے پرکھا جانا چاہیے۔
عالمی سطح پر فلسطین کی حمایت میں اضافہ
بیان کے مطابق، اگرچہ طوفان الاقصیٰ کے ذریعے مسئلہ فلسطین سے وابستہ انسانی اور قانونی اقدار کے دفاع کے لیے دنیا بھر کے عوام نے آواز بلند کی اور مغربی ممالک کے دارالحکومتوں اور جامعات میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، تاہم فلسطین کے گرد موجود خطہ اس آپریشن کے نتیجے میں ایک نئی صورتحال سے دوچار ہوا۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ طوفان الاقصیٰ اس معمول پر آنے اور تسلیم و مفاہمت کے اس عمل کے بالکل برعکس تھا جس کی جانب عرب حکومتوں کو صیہونی حکومت اور اس کے بین الاقوامی حامیوں کی خواہش کے مطابق دھکیلا جا رہا تھا۔
اسرائیل مزاحمتی تحریک کو ختم کرنے میں ناکام
حزب اللہ نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت اپنی وحشیانہ کارروائیوں اور نسل کشی کے باوجود حماس، دیگر مزاحمتی گروہوں اور غزہ کے عوام کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
بیان کے مطابق، صورتحال بدستور جاری ہے اور ایسے واقعات و تبدیلیوں کی جانب بڑھ رہی ہے جن کے اثرات صرف غزہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے مستقبل، مسئلہ فلسطین، بین الاقوامی سلامتی و امن اور یہاں تک کہ نام نہاد بین الاقوامی نظام اور انسانی حقوق کے تحفظ کے دعووں تک پھیلیں گے۔
طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کا اصلی چہرہ بے نقاب کر دیا
لبنانی مزاحمت نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ نے فلسطینی عوام کی عظمت، ان کی قوت ارادی اور صیہونی حکومت کی قتل و غارت کی مشین کے مقابلے میں ان کی استقامت کو آشکار کیا۔
حزب اللہ کے مطابق، اس آپریشن نے صیہونی حکومت کے مجرمانہ اور وحشیانہ کردار اور اس کے پیچھے موجود امریکی دشمن اور عالمی استکباری قوتوں کے کردار کو بھی بے نقاب کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ 7 اکتوبر نے آزادی اور انصاف کے دفاع کے حوالے سے عالمی برادری اور اس کے اداروں کے دعووں کی حقیقت بھی آشکار کر دی اور بنیادی ترین انسانی حقوق کے تحفظ میں ان کی ناکامی کو واضح کیا۔ اس واقعے نے ان قوتوں کا اصل چہرہ بھی دنیا کے سامنے لایا جو ایک قوم کے خلاف بدترین جرائم، قتل عام اور نسل کشی کے سامنے خاموش رہیں۔
حزب اللہ کا فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
بیان میں کہا گیا کہ حزب اللہ لبنان مسئلہ فلسطین کی انصاف پر مبنی حیثیت کے لیے پرعزم ہے اور مظلوم و مزاحمت کرنے والے فلسطینی عوام کی مدد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
حزب اللہ نے ایک بار پھر صیہونی حکومت کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی برادری کی جعلی اقدار کو بے نقاب کرنے والا عمل قرار دیا اور امریکہ اور ان مغربی ممالک کو بھی ان جرائم کا ذمہ دار قرار دیا جو صیہونی جرائم کے سامنے خاموش ہیں۔
حزب اللہ نے دنیا بھر کی اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے دفاع، انصاف کے تحفظ اور طاقتور ممالک کو بین الاقوامی قوانین اور ان کے نفاذ پر اپنی مرضی مسلط کرنے سے روکنے کے لیے آواز بلند کریں۔
مزاحمتی گروہوں کو متحد رہنے کا پیغام
حزب اللہ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وہ تمام مزاحمتی گروہوں کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں دشمن، اس کے حامیوں اور اس کے اتحادیوں کے منصوبے کے خلاف اپنے مؤقف پر ثابت قدم اور متحد رہنے کی دعوت دیتا ہے۔
حزب اللہ نے خطے کے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اور اس کے اتحادیوں کے سامنے خاموشی، رواداری اور خوشامد کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں ہوگا کہ ان کی طاقت کمزور ہو جائے گی، ان کی پوزیشن متزلزل ہوگی اور دشمن کو ان کے ممالک اور عوام کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کا مزید موقع ملے گا۔


مشہور خبریں۔
حماس اسرائیل کے لیے ناقابلِ نفوذ؛ صیہونی اخبار کا اعتراف
?️ 31 جنوری 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار نے اعتراف کیا ہے کہ حماس کی تنظیمی ساخت
جنوری
ماہرین، کم وزن ہونا شوگر سے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں ہے
?️ 19 فروری 2021لاہور {سچ خبریں} ماہرین کے مطابق اگر کئی قسم کے رسک فیکٹرز
فروری
ٹرمپ کے نائب کی ایران کے ساتھ مفاہمت کی روداد
?️ 16 جون 2026سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ کے نائب صدر، جے ڈی وینس نے امریکی
جون
عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کا اعلان
?️ 3 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر
جولائی
عراقی حکومت کا مستقبل ایک متفقہ وزیر اعظم کی طرف بڑھ رہا ہے
?️ 20 نومبر 2025 عراقی حکومت کا مستقبل ایک متفقہ وزیر اعظم کی طرف بڑھ
نومبر
غیر جانبداری کے ساتھ اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں:الیکشن کمیشن آف پاکستان
?️ 26 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ تمام فارن
اپریل
یمن کے ایک تہائی باشندوں کو غذائی تحفظ حاصل نہیں ہے: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ
?️ 8 جون 2022سچ خبریں: اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ انرجی کرائسز گروپ کا کہنا
جون
باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کا معصوم شہریوں پر حملہ، 4 بھائی شہید
?️ 15 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) باجوڑ میں افغان طالبان رجیم کے معصوم شہریوں
مارچ