آئی اے ای اے اور اسرائیلی حملہ؛رافائل گروسی کی دوہری پالیسی 

آئی اے ای اے اور اسرائیلی حملہ؛رافائل گروسی کی دوہری پالیسی 

?️

سچ خبریں:آئی اے ای اے پر الزام کہ وہ اسرائیل کے ایٹمی حملے اور فلسطین و ایران سے متعلق دوہری معیار پر عمل پیرا ہے،رافائل گروسی کے بیان اور مغربی دباؤ کے سائے میں ایٹمی اپارتھائیڈ کے نفاذ پر عالمی تنقید۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) اپنے دوہرے معیار کی وجہ سے نہ صرف عالمی سلامتی کے تحفظ میں ناکام ہے، بلکہ ایک نسل پرستانہ ایٹمی اپارتھائیڈ سسٹم کے نفاذ کا آلہ بن چکی ہے۔
المیادین نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کی جانب سے ایران پر مسلسل حملے، جو امریکہ کی مکمل ہم آہنگی اور براہ راست شمولیت کے ساتھ جاری ہیں، نے ایٹمی پھیلاؤ کی روک تھام اور آئی اے ای اے کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
یہ جنگ واضح کرتی ہے کہ این پی ٹی جیسے معاہدے دراصل مغربی تسلط کو برقرار رکھنے اور ترقی پذیر ممالک کو ایٹمی علوم و ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کا ہتھیار ہیں، جس سے مغربی سامراجی طاقتوں کی اجارہ داری کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
آئی اے ای اے اور اس کی گورننگ باڈی نے 12 روزہ جنگ سے قبل ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے اور ایجنسی کے انسپکٹروں کو سہولت فراہم کرنے میں اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔
اسی قرارداد کے چند گھنٹے بعد اسرائیل جو خطے میں ایٹمی ہتھیار رکھنے والا واحد ملک ہے اور این پی ٹی کا رکن بھی نہیں ،نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا، حالانکہ ایران آئی اے ای اے کا رکن ہے۔
یہ رویہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئی اے ای اے اسرائیل کی جارحیت کو جواز فراہم کرتی ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کی اجارہ داری اور دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے خطرے کو قانونی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے، رافائل گروسی کی اسرائیلی حملے کے بعد صرف ‘گہری تشویش’ کے اظہار پر اکتفا کرنا بھی اسی تعصب کا ثبوت ہے۔
آئرش مصنف ڈیلان ایوانز کے مطابق، آئی اے ای اے کو کبھی بھی غیر جانبدار ادارہ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس کی پالیسیاں مکمل طور پر مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکہ کے زیر اثر ہیں، جو ایجنسی کے فیصلوں پر سفارتی دباؤ ڈالتا ہے۔
آئی اے ای اے ایران کے خلاف متعصبانہ رویہ اپناتی ہے اور اکثر مغربی، اسرائیلی اور امریکی بیانیے کو دہراتی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں یہ ایجنسی ایران کے خلاف پانچ قراردادیں منظور کر چکی ہے۔
ایوانز کے مطابق، گزشتہ دو دہائیوں میں آئی اے ای اے نے اسرائیل کے جوہری پروگرام کے خلاف ایک بھی قرارداد جاری نہیں کی، باوجود اس کے کہ اسرائیل این پی ٹی کا رکن نہیں اور اس کی ایٹمی تنصیبات ایجنسی کے کنٹرول سے باہر ہیں۔
سن 2018 میں اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے ایٹمی آرکائیو سے متعلق کچھ معلومات آئی اے ای اے کو دی ہیں، جس کے بعد ایران کے پرامن جوہری پروگرام پر مزید شبہات پیدا ہوئے اور معائنوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ آئی اے ای اے نے یہ معلومات، اسرائیل کی طرف سے جو نہ صرف این پی ٹی کا رکن نہیں بلکہ ایٹمی ہتھیار بھی رکھتا ہے ،قبول کر کے اپنی غیرجانبداری کو مشکوک کر دیا۔
وکی لیکس کے مطابق، 2010 میں سامنے آنے والے ٹیلیگرامز میں انکشاف ہوا کہ سابق آئی اے ای اے سربراہ یوکیو آمانو (2009 تا 2019) امریکی پالیسیوں کے حامی تھے اور ایران کے حساس مقامات کی معلومات مغربی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو فراہم کی گئی۔
ایوانز کے مطابق، ایران پر سخت عالمی پابندیاں عائد کی گئیں، باوجود اس کے کہ اس کے ایٹمی پروگرام کی خطرناک نوعیت کے کوئی واضح ثبوت نہیں، جبکہ اسرائیل پر نہ کوئی بین الاقوامی دباؤ ہے نہ ہی اسے این پی ٹی میں شامل ہونے یا ایٹمی تنصیبات کے معائنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
امریکہ نے بھی ہمیشہ آئی اے ای اے اور اقوام متحدہ کو اسرائیلی ایٹمی سرگرمیوں کی مذمت سے روکے رکھا ہے، حالانکہ مردخائی وانونو جیسے سابق اسرائیلی سائنسدان نے 80ء کی دہائی میں اسرائیلی ایٹمی ہتھیاروں کے متعلق انکشافات کیے تھے۔
ایوانز نے اس منافقانہ رویے کو ‘ایٹمی اپارتھائیڈ’ قرار دیتے ہوئے اس دوغلے معیار کی شدید مذمت کی، جو عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔
کالم کے آخر میں ایوانز لکھتے ہیں کہ آئی اے ای اے کا رویہ واضح کرتا ہے کہ بین الاقوامی ادارے مغرب کے اسٹریٹجک ہتھیار بن چکے ہیں، تاکہ سامراجی منصوبے آگے بڑھائے جا سکیں۔
اس منطق کے تحت، اگر آپ امریکہ کے دوست ہیں تو آپ بغیر کسی سزا کے ایٹمی ہتھیار بنا سکتے ہیں، لیکن اگر آپ امریکہ کے مخالف ہیں تو آپ کو پرامن جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی کی بھی اجازت نہیں۔
 یہ نظام اصل میں روک تھام نہیں بلکہ طاقتوروں کے تسلط کو قانونی جواز دینے کے لیے ہے۔ یوں، آئی اے ای اے نہ صرف عالمی سلامتی کی محافظ نہیں، بلکہ ایٹمی اپارتھائیڈ اور نسلی امتیاز کے نظام کے نفاذ کا ذریعہ ہے۔

مشہور خبریں۔

حماس: دمشق کے خلاف اسرائیلی جارحیت خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے

?️ 29 نومبر 2025سچ خبریں: شام کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پر سفری پابندی عائد ہونے کے بعد دہشتگردی کا مقدمہ بھی درج

?️ 12 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

جنوبی لبنان پر صیہونی حکومت کے نئے ہوائی اور زمینی حملے

?️ 10 جولائی 2026سچ خبریں:لبنانی ذرائع نے بتایا ہے کہ صیہونی حکومت کی جانب سے

کچے میں جرائم پیشہ افراد کیخلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہنا چاہیے۔ وزیراعلی سندھ

?️ 1 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا

افغانستان کا بینکاری نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے: اقوام متحدہ

?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ نے تین صفحات پر مشتمل اپنی ایک رپورٹ میں

نفتالی بینٹ کی کابینہ تباہی کے دہانے پر ہے: رائٹرز

?️ 14 جون 2022سچ خبریں:   وزیر اعظم نفتالی بینٹ کی جانب سے کنیسٹ میں سیکیورٹی

ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان انتقال کر گئے

?️ 10 اکتوبر 2021راولپنڈی(سچ خبریں) محسن پاکستان،  ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان انتقال کر

صیہونی ریاست میں سیاسی تعطل جاری

?️ 29 مارچ 2021سچ خبریں:نیتن یاہو کے مخلاف مقدمات کی سماعت اس دن ہوگی جس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے