یورپی یونین نے برطانیہ کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اہم قدم اٹھا لیا

یورپی یونین نے برطانیہ کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اہم قدم اٹھا لیا

?️

برسلز (سچ خبریں) یورپی یونین نے بریگزٹ ڈیل کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے برطانیہ کے خلاف اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے، برسلز کے مطابق شمالی آئرلینڈ سے متعلق تجارتی انتظامات میں لندن کی طرف سے یک طرفہ تبدیلی بریگزٹ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس بلاک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے آج پیر پندرہ مارچ کے روز لندن حکومت کے خلاف برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے حوالے سے طے پانے والے بریگزٹ معاہدے کی عملا خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کر دی۔

یورپی یونین کے برطانیہ کے ساتھ روابط کے نگران اعلیٰ ترین اہلکار ماروس سیفکووچ نے وہ باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت لندن حکومت کے خلاف بریگزٹ معاہدے کی خلاف ورزی کی وجہ سے قانونی کارروائی کی جانا چاہیے۔

اس نوٹس کی وجہ سے یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت برطانیہ کو بہت زیادہ جرمانہ بھی کر سکتی ہے، تاہم اس عمل میں چونکہ کم از کم ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے، اس لیے یہ امکان بھی ہے کہ تب تک فریقین کے پاس یہ موقع ہو گا کہ وہ آپس کی بات چیت کے ذریعے اس تنازعے کو اپنے طور پر ہی حل کرنے کی کوشش کریں۔

یورپی یونین کے ماروس سیفکووچ  نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ فروسٹ کو ایک علیحدہ خط بھی لکھا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ لندن حکومت شمالی آئرلینڈ کے لیے طے شدہ تجارتی انتظامات کے حوالے سے اپنی طرف سے کوئی بھی یک طرفہ اقدامات کرنے سے باز رہے اور اسے یہ معاملہ برسلز کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔

برسلز اور لندن کے مابین اس تنازعے کی وجہ لندن حکومت کا اسی مہینے کیا جانے والا ایک فیصلہ بنا، اس فیصلےکے تحت برطانوی حکومت نے شمالی آئرلینڈ میں درآمد کی جانے والی مختلف اشیائے خوراک کے حوالے سے یونین کی طرف سے دی گئی رعایتی مدت میں یک طرفہ طور پر اس سال یکم اکتوبر تک کے لیے توسیع کر دی تھی۔

برسلز کے ساتھ طے شدہ بریگزٹ ڈیل کے تحت یہ رعایتی مدت رواں ماہ کے اختتام پر ختم ہو جانا ہے اور برطانیہ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس مدت میں اپنے طور پر ہی کوئی یک طرفہ توسیع کر سکے۔

یورپی یونین کے اس دعوے کے برعکس لندن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شمالی آئرلینڈ کے حوالے سے 31 مارچ تک کی رعایتی مدت میں یکم اکتوبر تک کی توسیع کے ساتھ بریگزٹ کے تناظر میں جمہوریہ آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ سے متعلق طے شدہ امور میں سے کسی کی بھی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوئی۔

برطانیہ کا صوبہ شمالی آئرلینڈ جزیرہ آئرلینڈ پر واقع ہے اور اس جزیرے کا ایک حصہ اگر برطانیہ میں شامل ہے تو دوسرا حصہ جمہوریہ آئرلینڈ پر مشتمل ہے، جو یورپی یونین کا رکن ملک ہے۔

اس طرح آئرلینڈ کے جزیرے پر ہی برطانیہ اور یورپی یونین کی بین الاقوامی سرحد بھی ہے اور یہ تنازعہ جمہوریہ آئرلینڈ سے برطانوی صوبے شمالی آئرلینڈ میں اشیائے خوراک کی درآمد سے متعلق ہے، جو یورپی داخلی منڈی کے ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات پر کوئی پابندی نہیں: امیر عبداللہیان

?️ 18 جون 2023سچ خبریں:اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے پاکستان کے

عراق کا خطے کے ممالک کے استحکام کے خلاف دشمنانہ سرگرمیوں پر سخت انتباہ

?️ 9 فروری 2026سچ خبریں:عراقی سیکیورٹی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور

ٹرمپ پر مقدمہ دائر،جج نے کی ٹرمپ کی درخواست مسترد

?️ 18 اپریل 2023سچ خبریں:جج نے ٹرمپ کی جانب سے جنسی زیادتی کے الزامات پر

پوپ فرانسس کے بعد ایک اور اهم شخصیت نے کیا نجف اشرف کا تاریخی دوره

?️ 25 مارچ 2021نجف (سچ خبریں) پاکستان آرمی کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی

جولانی حکومت کے وزیر خارجہ کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات

?️ 3 جنوری 2025سچ خبریں:جولانی حکومت کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے سعودی عرب کے

قفقاز میں امریکہ کا عظیم موقع پرستی؛ کیا "ٹرمپ روڈ” بن رہا ہے؟

?️ 9 اگست 2025سچ خبریں: ممکنہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، آرمینیائی حکومت

جرمن حکومت کی انتہا پسندی، حماس کے پرچم پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا

?️ 22 جون 2021برلن (سچ خبریں)  جرمن حکومت نے انتہا پسندی اور یہود نوازی کا

اسرائیلی خانہ جنگی اور سیاسی قتل و غارت کے بارے میں انتباہ

?️ 21 اپریل 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کی وحشیانہ جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے