?️
برسلز (سچ خبریں) یورپی یونین نے چین کے متعدد عہدیداران کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں جن کی وجہ سے انہیں بلیک لیسٹ کیا جاتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یورپی یونین کے سفارتکاروں نے چین کے 4 عہدیداران اور ایک کمپنی پر سفری پابندیاں عائد کرنے اور اثاثے منجمد کرنے کی منظوری دی، ان افراد اور کمپنی کا نام 22 مارچ کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی باضابطہ منظوری تک سامنے نہیں لائے جائیں گے۔
بلاک کے ایک سفارتکار نے کہا کہ مبینہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور تشدد کے خلاف پابندی عائد کرنے کے اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔
یورپی یونین کے سفارتکاروں نے بتایا کہ چینی عہدیداران پر ایغور مسلم اقلیت کے خلاف مبینہ طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے، انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایغورز کے حوالے سے یورپ، امریکا اور کینیڈا میں شدید تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
یورپی یونین نے اپنے دوسرے تجارتی پارٹنر چین پر آخری بار پابندیاں جون 1989 میں لگائی تھی اور بیجنگ پر اسلحے کی پابندی عائد کردی تھی جو اب بھی برقرار ہے۔
سماجی کارکنان اور اقوام متحدہ کے ماہرین حقوق کا کہنا تھا کہ چین کے دور دراز مغربی خطے سنکیانگ میں کم از کم 10 لاکھ مسلمانوں کو کیمپوں میں مبینہ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
سماجی کارکنان اور چند مغربی سیاستدان چین پر مسلمانوں پر مبینہ تشدد، جبری مشقت اور ان کی نس بندی کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، کینیڈا اور امریکا کے بعد ڈچ پارلیمنٹ نے بھی ایغور سے چین کے برتاؤ کو نسل کشی قرار دیا تھا، جسے چین نے مسترد کردیا تھا۔
یورپی یونین میں چینی مشن نے ٹوئٹر پر بلاک کے لیے چینی سفیر زانگ مِنگ کے نئی پابندیوں سے متعلق بیان کو ری پبلش کیا کہ بیجنگ اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرے گا۔
چینی مشن نے کہا کہ پابندیاں محاذ آرائی ہے، ہم مذاکرات چاہتے ہیں، محاذ آرائی نہیں، ہم یورپی یونین سے کہیں گے اپنے فیصلے پر دوبارہ سوچے، اگر کوئی محاذ آرائی پر اصرا کرتا ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہمارے پاس عوام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا’۔
خیال رہے کہ چین، سنکیانگ میں انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ پیشہ وارانہ تربیت فراہم کرتے ہیں اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ان کی ضرورت ہے۔
سفارتکاروں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے منظور کردہ 11 ناموں میں روس، لیبیا، جنوبی سوڈان اور شمالی کوریا کے عہدیداران بھی شامل ہیں۔


مشہور خبریں۔
بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ پیچھے ہٹی
?️ 22 جولائی 2024سچ خبریں: بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ قانون کے خلاف
جولائی
مقبوضہ کشمیر کا نام تبدیل کرنے کے بھارتی وزیرداخلہ کے بیان کی شدید مذمت
?️ 3 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر
جنوری
2024 میں ترکی کے کارنامے؟
?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں:2023 میں ترکی کے لوگ مشکل حالات سے گزرے کیونکہ مہنگائی
جنوری
روس کا یوکرین کی توانائی اور نقل و حمل تنصیبات پر بڑا حملہ
?️ 28 جون 2026سچ خبریں:روسی افواج نے یوکرین کی توانائی، ایندھن اور نقل و حمل
جون
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل دوسرے مہینے سرپلس
?️ 17 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں مسلسل دوسرے مہینے سرپلس
مئی
لبنان کا صہیونی ریاست کے خلاف سلامتی کونسل میں شکایت کرنے کا اعلان
?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں:لبنان کے وزیر خارجہ صہیونی عناصر کی جانب سے ایک لبنانی
نومبر
سوڈان: پاکستان سمیت دیگر ممالک کے 150 افراد، امریکی سفارتی عملے کا بحفاظت انخلا
?️ 24 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) افریقی ملک سوڈان میں مسلح افواج کے درمیان خون
اپریل
نیتن یاہو اور موساد و شاباک کے سربراہان کے درمیان غیر معمولی کشیدگی
?️ 19 فروری 2025 سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے بنیامین نیتن یاہواور اسرائیلی جاسوس اداروں موساد
فروری