عالمی میڈیا میں ایران کے خلاف جنگ کے اثرات؛ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور علاقائی جنگ کے پھیلاؤ پر تشویش

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:عالمی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جنگ اب ایک مہنگے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں آبنائے ہرمز میں کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکی اڈوں کو لاحق خطرات اور علاقائی جنگ پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

دنیا کے مختلف میڈیا اداروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے ایک ایسے مہنگے مرحلے میں داخل ہونے کی خبر دی ہے جس کے ساتھ خلیج فارس میں کشیدگی، آبنائے ہرمز کا بحران اور جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے اب تک نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی میڈیا کے اعتراف کے مطابق حملہ آوروں کو اسٹریٹجک تعطل اور میدان جنگ و سیاسی محاذ پر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 یہ جنگ بڑے پیمانے پر حملوں اور بے گناہ شہریوں، بالخصوص معصوم طلبہ کی ہلاکتوں سے شروع ہوئی اور تیزی سے انسانی، سکیورٹی اور اقتصادی بحران کی وسیع شکل اختیار کرگئی۔

دنیا کے مختلف میڈیا اداروں نے اپنے اپنے زاویہ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تجزیوں کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

مغربی میڈیا

تجزیاتی ویب سائٹ دی کنورسیشن نے لکھا کہ ایران کے حالیہ دوٹوک بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 6 ماہ سے جاری تنازع اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

 تہران نے اعلان کیا ہے کہ ٹھوس ایندھن سے چلنے والا بیلسٹک میزائل قاسم بصیر ایران کو کسی بھی خطرے کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کے خلاف کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے اور حالیہ تجربات میں اس میزائل کو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے خلاف بھی استعمال کیا گیا ہے۔

 تجزیے کے مطابق ایران اب صرف کشیدگی میں اضافے کا ردعمل نہیں دے رہا بلکہ بڑھتے ہوئے طور پر خود اس کا محرک بننے کی کوشش کررہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کو بھاری نقصان پہنچانے کے باوجود امریکی فوجی برتری واشنگٹن اور تل ابیب کے مطلوبہ سیاسی مقاصد حاصل نہیں کرسکی۔ ایران کی حکومت برقرار ہے، اس کے میزائل فعال ہیں، اس کا جوہری پروگرام بدستور حل طلب ہے اور اس کا علاقائی نیٹ ورک اپنی حملہ آور صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

 آبنائے ہرمز سے تجارتی سامان کی آمدورفت مئی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور تہران نے بحری نقل و حرکت پر مزید وسیع پابندیوں کی دھمکی دے کر تنازع کی منطق تبدیل کردی ہے۔ تجزیے کے مطابق ٹرمپ ایران کی مزاحمت کو مہنگا بنانا چاہتے تھے، اب ایران بھی بتدریج امریکہ کے لیے جبر کی قیمت بڑھا رہا ہے۔

دی کنورسیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ ٹرمپ کشیدگی کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ وہ محاصرہ مزید سخت کرسکتے ہیں، لیکن ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو متاثر کرسکتا ہے۔

 امریکہ بمباری میں اضافہ کرسکتا ہے، لیکن تہران واشنگٹن کے عرب اتحادیوں کے خلاف اپنے جوابی حملوں کا دائرہ وسیع کرسکتا ہے۔ امریکہ مذاکرات کرسکتا ہے، لیکن ایران کے پاس اب زیادہ مضبوط ضمانتوں اور بہتر شرائط کا مطالبہ کرنے کی وجوہ موجود ہیں۔ امریکی دھمکیوں نے کشیدگی بڑھانے اور دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹنے کے چکر کے باعث اپنی جبری قوت کھودی ہے۔

 امریکہ اب بھی ایران کی صلاحیت سے کہیں زیادہ کشیدگی بڑھا سکتا ہے، لیکن وہ یہ فرض نہیں کرسکتا کہ کشیدگی میں اضافہ اسے فتح کے قریب لے جائے گا۔

سی این این نے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کی بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ ایران کو فوجی کشیدگی بڑھانے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے خارج کیے جانے کے بعد تہران جنگ کا دائرہ وسیع کرنے اور نئی حکمت عملی اپنانے کی دھمکی دے کر واشنگٹن کو دوبارہ سفارت کاری کی جانب لانے کی کوشش کررہا ہے۔

 ایران کی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی نے خبردار کیا کہ اقتصادی جنگ کا جواب خلیج فارس میں وسیع بحری ممنوعہ علاقے کے ذریعے دیا جائے گا اور امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں کے خلاف آپریشنل صورتحال کو بنیادی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی بات کی۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے سینئر تجزیہ کار حمیدرضا عزیزی نے کہا کہ تہران کی منطق یہ ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے اپنے فوجی اور اقتصادی دباؤ کے ذرائع کو بتدریج کمزور کیے جانے کو محض دیکھتا نہیں رہ سکتا۔

ان کے مطابق اس کا مطلب لازماً ایک اور بڑی جنگ نہیں، بلکہ بحری جہازوں کی آمدورفت پر زیادہ دباؤ، امریکی اڈوں کے خلاف وسیع تر حملے یا خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہداف کو نشانہ بنانے کی صورت میں حساب شدہ کشیدگی ہوسکتی ہے۔

عزیزی کے مطابق مقصد واشنگٹن کے لیے موجودہ صورتحال کو اتنا مہنگا بنانا ہے کہ سفارت کاری دوبارہ ترجیح بن جائے۔ بسیج کے کمانڈر حسین طائب نے بھی واضح کیا کہ ایرانی عوام نہ دھمکی اور جبر قبول کریں گے اور نہ ایسی مذاکراتی کارروائی جس کا نتیجہ ملک کے حقوق کو کمزور کرنا ہو۔

رپورٹ کے اختتام پر سعودی عرب کے خلاف یمن کی انصاراللہ تحریک کے حملوں کا حوالہ دیا گیا، جن میں 73 افراد زخمی ہوئے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اگر سرخ لکیروں کو آزمایا گیا تو غلط اندازے اور دوبارہ مکمل جنگ کی طرف واپسی کا خطرہ بہت بڑھ جائے گا۔

عرب میڈیا

الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ صہیونی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر کی جانب سے ستمبر 2026 میں منعقد کی گئی طلوع فجر 2.0 فوجی مشق کا مقصد 7 محاذوں پر بیک وقت جنگ کے لیے فوج کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق میں مسلح دراندازی، یرغمال بنانے، میزائل حملوں، صہیونی بستیوں اور اسٹریٹجک اہداف پر حملوں جیسے مختلف منظرنامے پیش کیے گئے۔

اسی دوران ایلات اور عربہ وادی میں بھی ایک وسیع فوجی مشق منعقد ہوئی جس میں فوج، پولیس، بحریہ، فضائیہ اور امدادی اداروں نے حصہ لیا۔ اس کا مقصد اردن کی سرحد اور سمندری علاقوں سے ممکنہ حملوں کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔

یہ مشقیں 2026 سے 2030 تک فوج کو مضبوط بنانے کے لیے ہوشن نامی کثیر سالہ منصوبے کا حصہ ہیں۔ تاہم اسرائیل کو تقریباً 15,000 فوجیوں کی کمی، ریزرو فوجیوں کی تھکن اور دفاعی اخراجات میں شدید اضافے کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مشق لازماً کسی قریب آتی جنگ کی علامت نہیں بلکہ اسرائیل کے دفاعی نظریے میں تبدیلی اور ایک اچانک و کثیر محاذی حملے کے لیے تیاری کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ افرادی قوت، مالیات اور سیاست سے متعلق مسائل اس تیاری کے اہم چیلنجز ہیں۔

المیادین نے ایک تجزیے میں کہا کہ امریکی وزیر جنگ ڈان ڈریسکول کا استعفیٰ محض ذاتی اختلاف یا انتظامی تبدیلی کا معاملہ نہیں بلکہ امریکی فوجی معیشت کے مستقبل پر جاری کشمکش کی علامت ہوسکتا ہے۔ ڈریسکول مہنگے اور طویل عرصے میں تیار ہونے والے روایتی ہتھیاروں کے ماڈل سے کم قیمت ڈرونز، بغیر پائلٹ نظام، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر اور تیز رفتار پیداوار کی جانب منتقلی کے حامی تھے۔

تجزیہ کے مطابق یہ حکمت عملی روایتی فوجی صنعتی کمپلیکس کی سرمایہ کاری کو سلی کون ویلی کی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور وینچر کیپیٹل کے ساتھ مسابقت میں لے آتی ہے۔ اینڈوریل اور پالانٹیر جیسی کمپنیاں اس تبدیلی کی مثال ہیں۔

تجزیہ میں زور دیا گیا کہ ایران کے ساتھ جنگ اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ خلل نے توانائی، خام مال اور سپلائی چین کی لاگت بڑھا دی ہے، جس سے اس تبدیلی پر عمل درآمد مزید مشکل ہوگیا ہے۔ نتیجتاً واشنگٹن جاری جنگ کے اخراجات پورے کرنے اور مستقبل کی فوج میں سرمایہ کاری کے درمیان پھنس گیا ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق ڈریسکول کا استعفیٰ امریکی فوجی طاقت کی پیداوار اور مالی معاونت کے 2 مختلف ماڈلز کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کی علامت ہے۔

رائے الیوم نے ایک تجزیہ میں جنوبی لبنان اور حزب اللہ کے حوالے سے ایران کے کردار اور پالیسی کا جائزہ لیا، بالخصوص علی الطاہر کے علاقے میں حالیہ پیش رفت کے بعد۔

 تجزیہ کار کے مطابق بنیادی سوال یہ نہیں کہ آیا ایران نے جنوبی لبنان کو چھوڑ دیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس علاقے کے فوجی دفاع کے لیے تہران کی وابستگی اور تیاری کی حد کہاں تک ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایران نے عمان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ علی الطاہر میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیل کے بڑے حملے کا جواب ایران دے گا، تاہم اسرائیل کی جانب سے علاقے کا عملی کنٹرول حاصل کیے جانے کے بعد ایران براہ راست محاذ آرائی میں داخل نہیں ہوا۔

تجزیہ کار کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ممکنہ طور پر جنوبی لبنان کے ہر علاقے کے دفاع کے بجائے حزب اللہ کو ایک اسٹریٹجک طاقت کے طور پر برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔

تجزیہ میں امریکہ اور عرب ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کے لیے دباؤ اور ایران کی جانب سے وسیع جنگ روکنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

 تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اگر جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی مستقل ہوگئی تو بنیادی سوال یہ ہوگا کہ جنوبی لبنان کے سیاسی اور فوجی جغرافیے میں تبدیلی روکنے کے لیے ایران اور حزب اللہ کی حقیقی صلاحیت کتنی ہے۔

روسی اور چینی میڈیا

روس کے اخبار کومرسنت نے غیر ملکی میڈیا کا جائزہ لیتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر توجہ مرکوز کی اور لکھا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔

منڈی کو تیل کی ممکنہ فراہمی میں خلل پر تشویش ہے اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خلیج فارس سے تیل کی برآمدات پر پابندیاں سال کے اختتام تک جاری رہ سکتی ہیں۔

 امریکی وزارت خارجہ نے بھی ایران کو آبنائے ہرمز بند کرکے عالمی معیشت سے بلیک میلنگ کی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔

روئٹرز نے جنگ کے دوران وقفے کے بعد وقفے سے ہونے والی کشیدگی میں اضافے کو ایران کے طرز عمل کی نمایاں خصوصیت قرار دیا اور کہا کہ تہران نے امریکی بحری جہازوں پر حملے کے ذریعے محاذ آرائی کا نیا دور شروع کیا ہے۔

 اسی دوران یمن کی انصاراللہ فورسز کی جانب سے سعودی عرب کے کئی شہروں پر حملوں، جن میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے، نے تنازع کے علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سفارتی مذاکرات معطل ہیں۔

کومرسنت نے الجزیرہ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف 7 بحری جہاز اس آبنائے سے گزر سکے۔

 اس کے برعکس باب المندب میں بحری آمدورفت میں اضافہ ہوا اور پیر کے روز 29 مال بردار جہاز اس راستے سے گزرے۔ ایران خلیج فارس میں محدود رسائی کا ایک علاقہ قائم کرنے اور بحری جہازوں کے لیے نئے راستے تیار کرنے پر بھی غور کررہا ہے۔

بلومبرگ نے ایران اور عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے نئے قواعد وضع کرنے کے منصوبے پر شکوک کا اظہار کیا اور 6 ستمبر کو ایرانی تیل بردار جہازوں پر امریکی حملے کا حوالہ دیا۔

 اسی دوران چین کی جانب سے تیل کی خریداری میں اضافے کے باعث افریقہ، کینیڈا اور لاطینی امریکہ سے آنے والے تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ میں بھی مشرق وسطیٰ میں فوجی اور انٹیلی جنس موجودگی کم کرنے پر بحث جاری ہے۔ سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران خطے میں امریکی بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں نمایاں ہوگئیں اور گزشتہ 6 ماہ کے دوران خطے میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

چائنا ڈیلی نے رپورٹ کیا کہ ایران آنے والے دنوں اور ہفتوں کے دوران آبنائے ہرمز سے باہر ایک ممنوعہ علاقہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران کی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی کے مطابق یہ علاقہ امریکی بحری ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہوکر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے بعض حصوں تک پھیل جائے گا۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے کے مقصد سے اس علاقے میں داخل ہونے والے ہر بحری جہاز کو ایران کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے عارضی بحری راستہ متعین کرنے کے لیے تہران اور مسقط کے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں پہنچ گئے ہیں اور امکان ہے کہ یہ معاہدہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں درج ہوجائے گا۔

چائنا ڈیلی نے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں شدید کمی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ہفتے کے روز صرف 2 اور اتوار کے روز 6 بحری جہاز اس آبنائے سے گزرے، جبکہ خام تیل کی قیمت تقریباً 97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

 اخبار نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جھڑپوں، ایران کے 2 امریکی بحری جہازوں پر میزائل حملوں اور دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے کے بحری جہازوں کے خلاف جوابی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔

اس میڈیا رپورٹ کے مطابق علاقائی حکام نے جنگ کے طویل ہونے کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے، جبکہ قطر نے خلیج فارس کے ممالک کی سکیورٹی میں خود انحصاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ سابق امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے بھی جنگ مزید 6 ماہ جاری رہنے اور اس کے لامتناہی جنگ میں تبدیل ہونے کے امکان کا اظہار کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

ایک اشتہار کی وجہ سے کینیڈا پر امریکی محصولات میں 10 فیصد اضافہ

?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک گمراہ کن اشتہار کی

خورد برد کیس: فواد چوہدری کی درخواست ضمانت پر نیب سے جواب طلب

?️ 18 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہلم میں تعمیراتی منصوبوں

نیتن یاہو: ٹرمپ اور میں جانتے تھے کہ ایران کا زوال یقینی نہیں ہے

?️ 11 مئی 2026سچ خبریں: جنگ کے تیسرے دن امریکی میڈیا میں وائٹ ہاؤس کے

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

?️ 25 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ نے حکومت کو پی ٹی آئی  کے چیئرمین

حالیہ غزہ جنگ کے بارے میں نیتن یاہو کے جھوٹے دعوے،صیہونی میڈیا کی زبانی

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے عسکری تجزیہ کاروں میں سے ایک نے اس

نیویارک کے میئر پر ترکی سے رشوت لینے کا باقاعدہ الزام عائد

?️ 26 ستمبر 2024سچ خبریں: امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیویارک کے میئر کو ترکی

عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم، ’جیل بھرو تحریک‘ معطل کرنے کا اعلان

?️ 1 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عمران خان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت

جہاد اسلامی کے کمانڈروں کی شہادت موبائل فون کی وجہ سے ہوئی:زیاد النخالہ

?️ 24 مئی 2023سچ خبریں:فلسطین کی جہاد اسلامی تحریک کے سکریٹری جنرل نے نیتن یاہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے