?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے جنگ کے عسکری، سیاسی، انسانی اور معاشی اثرات پر مختلف زاویوں سے رپورٹس اور تجزیے شائع کیے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہ ہو سکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ آوروں کو تزویراتی تعطل اور عسکری و سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وسیع پیمانے پر حملوں اور شہریوں، جن میں طلبہ بھی شامل تھے، کی ہلاکتوں کے ساتھ شروع ہونے والی اس جنگ نے جلد ہی انسانی، سلامتی اور معاشی پہلو اختیار کر لیے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس کے مختلف پہلوؤں پر رپورٹنگ کی گئی۔
دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنی اپنی پالیسی اور زاویہ نظر کے مطابق اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی، جن کا جائزہ موجودہ صورت حال اور ممکنہ مستقبل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ
روئٹرز نے دبئی سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ کے مسلسل ساتویں شب حملوں کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے خلیج فارس میں واشنگٹن کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں دوبارہ تیز کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق کویت مسلسل حملوں کی زد میں رہا، جہاں ایک سمندری پانی صاف کرنے کی تنصیب کو نقصان پہنچا، جبکہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے باعث کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی پروازیں معطل کر دی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کیمپ عریفجان میں امریکی فوج کے ایک سپورٹ مرکز اور علی السالم فضائی اڈے پر موجود ایک ریڈار تنصیب کو نشانہ بنایا۔
اسی طرح پاسداران انقلاب نے بحرین کے شیخ عیسیٰ فضائی اڈے اور ایک انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر پر حملے کا بھی دعویٰ کیا، جبکہ اردن کے الازرق فضائی اڈے پر کم از کم 2 امریکی جنگی طیاروں اور 3 دیگر طیاروں کی تباہی کا بھی دعویٰ کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے قرآنی حکم "جو تم پر حملہ کرے، تم بھی اسی طرح اس کا جواب دو” کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کے اتحادیوں کو مزید حملوں سے خبردار کیا۔
روئٹرز نے مزید کہا کہ غیر فوجی بنیادی ڈھانچہ بھی تیزی سے حملوں کی زد میں آ رہا ہے۔ ایران کے جاسک میں بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے مراکز پر کئی میزائل گرے، جس سے 20 دیہات کے تقریباً 10000 افراد پانی سے محروم ہو گئے۔
اسی طرح کویت میں ایک بجلی گھر اور سمندری پانی صاف کرنے کی تنصیب بھی حملے کی زد میں آئی۔ صوبہ ہرمزگان میں 3 افراد شہید اور 8 زخمی ہوئے جبکہ 2 پل اور ایک سڑک کی سرنگ کو نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایران اور پورے خطے میں شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں پر تشویش ظاہر کی، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر مزید وسیع فضائی حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے ساحلی علاقوں یا جزائر پر زمینی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتیں بھی ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
ہل نے سی بی ایس کے حوالے سے رپورٹ دی کہ رواں ہفتے اردن میں 2 امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں میں متعدد امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی سرکاری ہلاکتوں کی تعداد 14 ہو چکی ہے، جس میں بحیرہ عرب میں ایک بحری پائلٹ کی ہلاکت بھی شامل ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم پینٹاگون نے اس واقعے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ہل کے مطابق ایرانی فوج نے رواں ہفتے خلیج فارس میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافہ کیا، جو ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ ماہ کی نازک جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے اور امریکہ نے مسلسل ساتویں روز بھی ایران پر حملے کیے۔
دوسری جانب مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سیکریٹری اور رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی میزائل حملے جاری رہے تو واشنگٹن کو مکمل فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاسداران انقلاب اسلامی نے شام میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے کا بھی دعویٰ کیا۔
ہل کے مطابق ایران نے قطر، اردن، بحرین اور کویت میں کارروائیاں کیں، جبکہ کویتی فوج نے بھی اپنے بعض اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ان تمام حالات کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے اور عوام جلد ہی اس کے نتائج دیکھیں گے۔
گارڈین میں رابرٹ ٹیٹ نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ کو دوبارہ شروع کر کے، جسے وہ پہلے خود تباہ کن قرار دے چکے تھے، اپنی صدارت کا سب سے بڑا سیاسی جوا کھیلا ہے۔
تجزیے کے مطابق ورسائی محل میں جنگ بندی کی یادداشت پر دستخط کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد ٹرمپ نے ایران کے فوجی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف پر حملے دوبارہ شروع کر دیے، حالانکہ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن اکثریت برقرار رکھنے کے لیے بھی سیاسی طور پر فائدہ مند نہیں۔
گارڈین کے مطابق ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کشیدگی میں اضافہ ایران کے بعض علاقوں، بشمول جزیرہ خارک، پر فوجی قبضے کی کوشش تک پہنچ سکتا ہے اور ٹرمپ کو انہی ہمیشہ جاری رہنے والی جنگوں میں پھنسا سکتا ہے جن کی وہ ماضی میں مخالفت کرتے رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے الیکس واتانکا کے مطابق ٹرمپ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ ایران کی قیادت نیویارک کے تاجروں کی طرح نہیں بلکہ مختلف انداز میں سوچتی ہے اور زیادہ مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ولی نصر نے بھی کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی ناکامی کسی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ دونوں فریقوں کی غلط حکمت عملی کا براہ راست نتیجہ تھی۔
تجزیے میں کہا گیا کہ اس تنازعے کا مرکزی نکتہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ہے۔ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو بند کر کے اپنے سب سے اہم تزویراتی دباؤ کے ذریعے کو استعمال کیا، جبکہ ٹرمپ سفارت کاری کے بجائے فوجی طاقت سے اس برتری کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی مرکزی کمان کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل جوزف ووٹل کے مطابق مؤثر حکمت عملی صرف سفارت کاری اور ایران کی تزویراتی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے امتزاج سے ممکن ہے، جبکہ موجودہ کشیدگی کئی ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
عربی ذرائع ابلاغ
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کا جائزہ لیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا دونوں ممالک ایک مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ساتویں شب حملوں کے دوران ایران کے فوجی ڈھانچے، اسلحہ گوداموں اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ حملوں کا نشانہ ہوائی اڈے، پل، بندرگاہیں اور ریلوے اسٹیشن جیسے شہری بنیادی ڈھانچے بھی بنے۔
الجزیرہ نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی اور خطے کے مختلف ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں کویت پر حملوں اور بحرین و اردن میں ایرانی میزائل روکنے کے دعووں کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ امریکی اور صہیونی ذرائع کے مطابق واشنگٹن نے درجنوں اضافی ایندھن بردار طیارے روانہ کیے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ ایران پر مزید وسیع حملوں کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ بحری اور فضائی مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے ایران کی سپلائی لائنز اور پاسداران انقلاب کی بحری صلاحیت کو کمزور کرنا چاہتا ہے، جبکہ ایران بدستور میزائل اور ڈرون حملوں پر انحصار کر رہا ہے۔
المیادین نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی وسیع جنگ کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر کے اسے اپنے سب سے اہم تزویراتی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔
تجزیہ نگار کے مطابق ایران کی فوجی مزاحمت اور آبنائے ہرمز پر عملی کنٹرول نے امریکہ کو ایسی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس میں ایران کے متعدد مطالبات شامل تھے۔
تجزیے میں کہا گیا کہ یہ مفاہمت اختلافات کے خاتمے کا نہیں بلکہ بحران کے عارضی انتظام کا ایک طریقہ ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے۔
تجزیہ نگار نے مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز کے انتظام کی ذمہ داری ایران کے پاس ہے، جبکہ عمان کے ساحل کے قریب نیا بحری راستہ بنانے کی امریکی کوشش ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ایک حکمت عملی ہے۔
تجزیہ میں امریکہ پر جنگ بندی اور مالی پابندیوں سے متعلق اپنے وعدوں پر مکمل عمل نہ کرنے کا بھی الزام لگایا گیا اور خبردار کیا گیا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی کشمکش دوبارہ وسیع فوجی تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔
رأی الیوم نے اپنے تجزیہ میں یہ سوال اٹھایا کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے آخری ایسے صدر ہوں گے جو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کی بلند ترین سطح کی نمائندگی کرتے ہیں۔
تجزیہ نگار نے یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی، جولان پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے، صدی کی ڈیل، اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے کی مالی امداد بند کرنے اور یہودی بستیوں کی حمایت جیسے فیصلوں کو ریپبلکن جماعت، انجیلی حلقوں اور اسرائیل نواز لابیوں کے اتحاد کا نتیجہ قرار دیا۔
دوسری جانب تجزیہ میں کہا گیا کہ غزہ جنگ کے بعد امریکی معاشرے، بالخصوص نوجوانوں، طلبہ اور ڈیموکریٹک جماعت کے بعض حلقوں میں اسرائیل پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق اگرچہ امریکی ریاستی اداروں کی اسرائیل کے لیے حمایت برقرار ہے، تاہم ماضی کا مکمل اتفاق رائے کمزور پڑ رہا ہے اور مستقبل میں اس تعلق پر مزید تنقید اور نظرثانی کے امکانات موجود ہیں۔ ان کے بقول اس سوال کا حتمی جواب ٹرمپ نہیں بلکہ امریکی معاشرے، آبادیاتی تبدیلیوں، ثقافتی رجحانات اور نئی نسل کی ترجیحات دیں گی۔


مشہور خبریں۔
یمنی سپریم کونسل کے چیئرمین: ہم سعودی عرب سے یمن پر جارحیت، محاصرہ اور قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں
?️ 14 اکتوبر 2025سچ خبریں: مہدی المشاط نے سعودی حکومت سے جارحیت اور محاصرہ ختم
اکتوبر
پاک – چین کے سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل، ہوگا جشن
?️ 2 مارچ 2021اسلام آباد{سچ خبریں} چین اور پاکستان کے بیچ سفارتی تعلقات کے قیام
مارچ
چین کی طرف عرب ممالک کی گردش واشنگٹن سے پیغامات اور دھمکیاں
?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے متحدہ عرب امارات
نومبر
ترکی کے صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر حماس کا ردعمل
?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما نے ترکی اور صیہونی حکومت
اپریل
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد مریم اورنگزیب کی کانفرنس
?️ 7 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کابینہ
جون
نابلس کا محاصرہ فلسطینی قوم کے خلاف ہمہ گیر جنگ کا اعلان ہے:فلسطینی اتھارٹی
?️ 20 اکتوبر 2022سچ خبریںفلسطینی اتھارٹی کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ نابلس کا محاصرہ،
اکتوبر
امریکی کانگریس کے درجنوں ارکان نے ایک بار پھر سینچری ڈیل ختم کرنے کا مطالبہ کردیا
?️ 2 جولائی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 جنوری
جولائی
پی اے سی اجلاس: چیف جسٹس اور ججز کی مراعات کی تفصیلات طلب
?️ 16 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پارلیمنٹ کی طاقتور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی)
مئی