فلسطینی قیدیوں پر منصوبہ بند تشدد، جیلوں میں بھوک اور بیماریوں سے جانوں کو خطرہ؛ صیہونی اخبار کا اعتراف

فلسطینی قیدی

?️

سچ خبریں:صیہونی اخبار ہارٹیز کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلسطینی قیدی گزشتہ 3 سال سے صیہونی جیلوں میں منظم تشدد، دانستہ بھوک، طبی غفلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں قیدیوں کے جسمانی استحصال اور عدالتی نگرانی کی ناکامی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

صیہونی اخبار ہارٹیز نے صہیونی حکومت کی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر منظم تشدد کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ تل ابیب کی جانب سے شدید تشدد اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے باعث قیدیوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

ہارٹیز نے ہاجر شیزاف اور نیر حسون کی تحریر کردہ ایک میدانی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران صیہونی جیلیں اور حراستی مراکز فلسطینیوں کے لیے تشدد کے کیمپوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق، ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو دانستہ طور پر بھوکا رکھنے، شدید تشدد اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سامنا ہے، جبکہ یہ سب کچھ صہیونی حکومت کے وزیرِ داخلی سلامتی ایتمار بن گویر کی براہِ راست نگرانی اور سرپرستی میں ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ستمبر تک زیرِ حراست موجود 9,329 فلسطینی قیدیوں میں سے صرف 16 فیصد کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

 اس کے برعکس، 34 فیصد قیدی بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں تھے، 34 فیصد تفتیش کے انتظار میں تھے، جبکہ دیگر قیدیوں کو غیر قانونی جنگجوؤں کے عنوان سے بین الاقوامی قوانین سے متصادم درجہ بندی کے تحت حراست میں رکھا گیا تھا۔

رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی گواہیاں: بھوک، تشدد اور خونریز حملے

اس تحقیقاتی رپورٹ میں حال ہی میں مجدو، نفحہ، کتسیعوت، عوفر اور دامون کی جیلوں سے رہا ہونے والے 5 فلسطینی قیدیوں کی روداد بیان کی گئی ہے۔

علی سمودی: جنین سے تعلق رکھنے والے صحافی علی سمودی نے بتایا کہ وہ ایک سال تک بغیر کسی الزام کے انتظامی حراست میں رہنے کے بعد رہا ہوئے۔ ان کا وزن 120 کلوگرام سے کم ہو کر 60 کلوگرام رہ گیا۔ ان کے مطابق، بھوک، طبی غفلت اور خراب یا زائد المیعاد خوراک کھانے کے باعث وہ 10 دائمی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔

انہوں نے جیل کے محافظوں کے وحشیانہ رویے، تذلیل آمیز تلاشیوں کے لیے قیدیوں کو برہنہ کرنے پر مجبور کرنے، غسل خانوں کے اندر پلاسٹک کی گولیاں چلانے اور فلسطینی قیدیوں کو علاج سے محروم رکھنے کے واقعات بھی بیان کیے۔

ہبہ علاوی: الخلیل سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون قیدی ہبہ علاوی اپنے خاندان کی کفالت کرتی تھیں۔ وہ دامون جیل میں تقریباً 5 ماہ قید رہنے کے بعد رہا ہوئیں۔ ان کے مطابق، دورانِ حراست ان کا وزن 36 کلوگرام کم ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جیل پر چھاپوں کے دوران انہیں شدید مارپیٹ، برقی جھٹکوں، گیس اسپرے اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں ان کے ناخن اکھڑ گئے، دانت ٹوٹ گئے اور انہیں رحم سے شدید خون بہنے کی شکایت لاحق ہوئی۔

سامر خویرہ: نابلس سے تعلق رکھنے والے سامر خویرہ نے بتایا کہ وہ صحافتی سرگرمیوں کے الزام میں 9 ماہ انتظامی حراست میں رہنے کے بعد رہا ہوئے۔ اس دوران ان کا وزن 22 کلوگرام کم ہو گیا۔

ان کے مطابق، قیدیوں کو روزانہ تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ انہیں ہتھکڑیاں لگا کر ڈومینو کے انداز میں حرکت کرنے پر مجبور کیا جاتا اور محافظ گھٹنوں سے وار کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ہی تشدد کے نتیجے میں ان کی 2 پسلیاں ٹوٹ گئیں، لیکن انہیں علاج فراہم نہیں کیا گیا۔

انہوں نے صہیونی حکومت کی جیلوں میں خارش کی بیماری پھیلنے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس بیماری نے قیدیوں کو چلتے پھرتے مردوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، قیدیوں کے جسموں سے خون بہتا ہے اور سوزش پیدا ہوتی ہے، لیکن انہیں کوئی دوا فراہم نہیں کی جاتی۔

ربیع ابو نعیم: رام اللہ سے تعلق رکھنے والے ربیع ابو نعیم نے بتایا کہ آبادکاروں کے حملوں کے خلاف پُرامن سرگرمیوں میں حصہ لینے کی وجہ سے انہیں 9 ماہ تک انتظامی حراست میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کا وزن 15 کلوگرام کم ہو گیا۔

ان کے مطابق، انہیں انتہائی معمولی مقدار میں خوراک دی جاتی تھی اور مناسب کھانا حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنی روٹی کے ٹکڑے دوسرے قیدیوں کے ساتھ تبدیل کرنا پڑتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں برقی جھٹکوں، گھٹنوں اور ہتھیاروں سے مارپیٹ، قیدیوں پر پولیس کے کتوں کو چھوڑنے اور بیرکوں کے اندر پلاسٹک کی گولیاں چلانے کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڈیاں ٹوٹنے اور شدید درد کے باوجود انہیں طبی علاج سے محروم رکھا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت کی عدالتوں نے جیلوں میں ہونے والے تشدد کے معاملات میں مبینہ طور پر ملی بھگت اور دانستہ تاخیر سے کام لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، قیدیوں کے حالات پر حقیقی عدالتی نگرانی اور توجہ کا فقدان ہے، جبکہ عدالتی نظام حکام کے اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے اور انتظامی حراست میں باقاعدگی سے توسیع کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

سیکیورٹی فورسز کی جنوبی وزیرستان اور لکی مروت میں کامیاب کارروائیاں، 8 خارجی دہشت گرد ہلاک

?️ 6 دسمبر 2024 خیبرپختونخوا: (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت

اعلیٰ عدلیہ کے ججز عوامی تنازع، میڈیا سے رابطوں، سیاسی معاملات سے دور رہنے کے پابند

?️ 19 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے ہفتے

5 میں سے 1 امریکی اسلحے کے تشدد میں اپنا خاندان کھو چکا ہے

?️ 15 اپریل 2023سچ خبریں:ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ

اسرائیلی ابھی بھی شمال کو محفوظ نہیں سمجھتے

?️ 17 دسمبر 2024سچ خبریں: لبنان اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ بندی کے قیام کو

دہشتگردوں کو پسپا کرنے میں پولیس اور فوج کا نمایاں کردار ہے، وزیر داخلہ

?️ 8 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پمز اسپتال

اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے صہیونی حکومت کی شکست کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کردیا

?️ 18 جون 2021تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیلی فوجی امور کے ماہر نے فلسطینیوں کے

قیدیوں کے تبادلے میں حماس کیسے صیہونیوں کو ذلیل کرتی ہے؟ امریکی اخبار کی زبانی

?️ 4 فروری 2025سچ خبریں:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا

مصطفیٰ کمال کا حکومت سے این ایف سی فنڈز براہ راست اضلاع کو دینے کا مطالبہ

?️ 4 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) متحدہ قومی مومنٹ ( ایم کیو ایم پاکستان)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے