سعودی عرب میں نماز کے وقت تجارتی مراکز بند رکھنے کی پابندی کو ختم کردیا جائے گا

سعودی عرب میں نماز کے وقت تجارتی مراکز بند رکھنے کی پابندی کو ختم کردیا جائے گا

?️

جدہ (سچ خبریں)  سعودی عرب میں نماز کے وقت تمام تجارتی مراکز اور دوکانیں بند کردی جاتی ہیں جس کے بارے میں اب اسلامک اینڈ جوڈیشل افیئرز کمیٹی نے وزارت اسلامی امور کے سامنے اہم سفارش پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پابندی کو ختم کردیا جائے۔

سعودی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اراکین شوریٰ کی اسلامک اینڈ جوڈیشل افیئرز کمیٹی نے وزارت اسلامی امور کی رپورٹ میں چند اضافی سفارشات پیش کی ہیں جن میں نماز کے اوقات میں کاروباری مراکز کو بند کرنے کی پابندی ختم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

یہ سفارش شوریٰ کے ارکان عطا الصبیتی، ڈاکٹر فیصل الفادل، ڈاکٹر لطیفہ الشالان اور ڈاکٹر لطیفہ ال عبدالکریم کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔

وزارت اسلامی امور سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ متعلہ ایجنسیوں سے مشاورت کریں کہ تجارتی سرگرمیوں بشمول پیٹرول پمپس اور فارمیسیز کو نماز کے اوقات میں بند نہ کیا جائے البتہ جمعے کی نماز میں تمام تجارتی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رکھی جائے۔

نماز کے اوقات میں کاروبار بند کرنے کی پابندی ختم کرنے کے حق میں اراکین نے بہت سے دلائل دیے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ پوری دنیا بشمول اسلامی ممالک میں کہیں بھی ایسا نہیں کہ نماز کے اوقات میں کاروبار بند کیا جاتا ہے، ایسا صرف سعودی عرب میں ہوتا ہے۔

ارکان کا کہنا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی دیگر سرکاری و نجی کمپنیوں کی طرح شاپنگ سینٹرز اور دکانیں بھی لوگوں کو ملازمت فراہم کرتی ہیں اور حصول معاش کا ذریعہ ہیں لہٰذا دیگر شعبوں کی طرح انہیں بھی بند نہیں کیا جانا چاہیے۔

ارکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نماز کے اوقات میں دکانوں کو بند کرنے کا حکم قرآن اور سنت میں بھی کہیں نہیں ملتا، سوائے نماز جمعہ کے۔

ارکان کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے جو احادیث موجود ہیں وہ ضعیف ہیں اور کوئی مستند حدیث نہیں نظر آتی اور نہ ایسے کوئی شواہد موجود ہیں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے یا خلفائے راشدین کے دور میں نماز کے اوقات میں کاروبار بند کرنے کا طریقہ رائج تھا۔

ارکان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کاروباری مراکز بند ہونے سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ تاجروں کو بھی نقصان ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کے ایک عالم دین نے نماز کے اوقات میں بازار اور دیگر مقامات کی بندش کو بدعت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس امر کی کوئی عقلی اور دینی دلیل نہیں ہے، بہ قول عالم دین کاروبار زندگی بند کرنے سے متعلق حکم کی خلاف ورزی شریعت کا حکم ہے۔

مشہور خبریں۔

وفاقی حکومت کو کرپٹو کرنسی پر قانون سازی کیلئے 2 ماہ کی مہلت

?️ 11 اپریل 2025پشاور: (سچ خبریں) پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو کرپٹوکرنسی پر قانون

کیا پاپ فرانسس امریکی صدر کو شیطان سمجھتے ہیں؟

?️ 15 ستمبر 2024سچ خبریں: کیتھولک دنیا کے روحانی پیشوا پاپ فرانسس نے امریکہ کے

نیپرا نے بجلی کی قیمت میں کمی کر دی ہے

?️ 20 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 99 پیسے

عمران خان کی عبوری ضمانت منظور

?️ 2 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچی خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج دھمکی کیس میں

روس نے یوکرائن کی سرحد پر تعینات فوج کو واپس بلانے کا اعلان کردیا

?️ 23 اپریل 2021ماسکو (سچ خبریں) روس نے روس نے یوکرائن کی سرحد پر تعینات

خرسون پر یوکرینی افواج کے حملے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی

?️ 7 اکتوبر 2022سچ خبریں:    روسی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خرسون شہر

پیوٹن کا یوکرینی صدر کو امان نامہ؛صیہونیوں کا دعوی

?️ 6 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی سابق وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ یوکرین میں روسی فوجی

افغان لڑکیوں کے قتل کی مذمت

?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں:    گزشتہ دنوں جب ایران کے مختلف شہروں میں مہسا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے