?️
سچ خبریں:سعودی عرب نے 39 ممالک کی شرکت کے ساتھ نئے کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کی باضابطہ سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، تاہم اتحاد کے ایجنڈے اور ارکان کے درمیان تعاون کی سطح اب بھی واضح نہیں۔
سعودی عرب نے 39 ممالک کی شرکت کے دعوے کے ساتھ بحری دفاعی اتحاد کی باضابطہ سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، تاہم اتحاد کے ایجنڈے، تعاون کی سطح اور رکن ممالک کے وعدوں سے متعلق اب بھی سنگین ابہامات موجود ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے لیے منصوبہ بندی کا تیسرا اجلاس جدہ شہر میں مغربی بحری بیڑے کے کمانڈ ہیڈکوارٹر میں 39 ممالک کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوا۔
سعودی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے ایک بیان میں مزید کہا کہ مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے والے ممالک کی تعداد 15 ہے، جبکہ 13 ممالک نے اپنی قومی سطح کی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں، اتحاد کے منشور پر دستخط کیے ہیں اور باضابطہ طور پر اس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ دیگر ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے کے لیے ضروری قومی اقدامات مکمل کر رہے ہیں۔
سعودی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق، یہ پیش رفت اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تکمیل کے عمل میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اتحاد کے کمانڈر کا تقرر کیا گیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے کے لیے اس کے نائب کا تقرر پاکستان سے کیا گیا ہے۔ اتحاد کے صدر دفتر، نعرے، تنظیمی ڈھانچے، منصوبہ بندی اور کام کے آغاز کے لیے رہنما ہدایات کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
اس اتحاد کا مقصد بڑھتے ہوئے بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ادارہ جاتی دفاعی ڈھانچہ قائم کرنا قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے بحری سلامتی کو مضبوط بنانے اور جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی راستوں کی سلامتی، توانائی کی فراہمی کے راستوں اور آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں مشترکہ بحری مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔
رکن ممالک اس اتحاد کے ذریعے ایک دوسرے کے درمیان انٹیلی جنس اور جاسوسی سے متعلق معلومات کے تبادلے کو مضبوط بنائیں گے۔ اس کے علاوہ عملیاتی منصوبہ بندی کی تیاری، مشترکہ بحری مشقوں اور جنگی مشقوں کا انعقاد، فوجی صلاحیتوں میں اضافہ اور مشترکہ بحری کارروائیوں کے نفاذ کے شعبوں میں بھی تعاون کریں گے۔
سعودی عرب نے گزشتہ 30 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ 14 ممالک نے کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام سے اتفاق کیا ہے۔ اس وقت ان ممالک نے سعودی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے میں کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور اس کے قیام سے متعلق طے پانے والے انتظامات کا خیرمقدم کیا تھا۔
اتحاد کے ایجنڈے کی تفصیلات اور مشترکہ عملیاتی امور کے حوالے سے رکن ممالک کے درمیان تعاون کی سطح اب بھی ابہام کا شکار ہے۔ خطے کے سیاسی امور کے متعدد ماہرین اور تجزیہ کار سعودی بحری اتحاد کو بھی مکہ معاہدے کی طرح ایک ایسا منصوبہ قرار دے رہے ہیں جس میں تشہیری اور نمائشی پہلو نمایاں ہیں۔
ان کے مطابق یہ اتحاد انصاراللہ یمن کی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فوجی تعطل سے نکلنے کی کوشش ہے، جبکہ یمن کی یہ ناکہ بندی 12 سالہ محاصرے اور اس کے خلاف جنگ کے آغاز کے ردعمل میں کی گئی تھی۔


مشہور خبریں۔
فلسطین کی حمایت میں اسکاٹ لینڈ میں لوگ سڑکوں پر
?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں:برطانوی میڈیا کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں فلسطین کے حامیوں نے
نومبر
ملک بھر میں کورونا وبا کی لہر شدت اختیار کر رہی ہے: وزیرخارجہ
?️ 2 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان
اپریل
محرم میں سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصرکیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ
?️ 26 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے محرم کے دوران امن وامان
جون
Police to deploy more than 5,800 personnel for IMF-World
?️ 9 اگست 2021 When we get out of the glass bottle of our ego
بھارت جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت ہرگز تبدیل نہیں کر سکتا، کل جماعتی حریت کانفرنس
?️ 27 جنوری 2023سرینگر: (اسلام آباد) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر
جنوری
چین نے امریکہ کو دنیا کا نمبر ون معاشی ڈاکو بتایا
?️ 12 اپریل 2022سچ خبریں: چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چننگ نے ٹویٹ کیا
اپریل
عدالت کا علیمہ خان کا بینک اکاؤنٹ منجمد ، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ضبط کرنے کا حکم
?️ 24 اکتوبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے بانی پی ٹی آئی
اکتوبر
پاکستان نے بھارت میں جوہری مواد کی چوری پر تشویش کا اظہار کیا
?️ 31 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق پاکستان نے بھارت میں جوہری مواد
اگست