روس کا افغانستان کے حوالے سے بڑا بیان، ایران اور پاکستان کے کردار کو خطے کے امن کے لیئے اہم قرار دے دیا

روس کا افغانستان کے حوالے سے بڑا بیان، ایران اور پاکستان کے کردار کو خطے کے امن کے لیئے اہم قرار دے دیا

?️

ماسکو (سچ خبریں) روس نے افغانستان کے حوالے سے بڑا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان اور خطمے میں پائیدار امن کے قیام کے لیئے ایران اور پاکستان کا کردار سب سے اہم ہے اور کسی بھی قسم کے فیصلے کے لیئے ان دونوں ممالک سے بات چیت کرنا بہت ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگر نے افغانستان میں پائیدار امن کے لیے ایران اور پاکستان کے کردار کو اہمیت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد خطے میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ‘آر آئی اے’ کے مطابق انٹرنیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے 9ویں ماسکو کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی حمایت کے بغیر افغانستان میں امن و استحکام کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کی بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پڑوسیوں اور بین الاقوامی اداروں کی خصوصی توجہ درکار ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکا اور نیٹو فورسز مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگر نے خبردار کیا کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ہی افغانستان میں خانہ جنگی کا آغاز ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ اسی کانفرنس سے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے روس، چین اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ افغان امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام پائیدار مستقبل کے خواہاں ہیں لیکن وہ عالمی طاقتوں کے تعاون کے بغیر اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہیں گے۔

سابق افغان صدر نے کہا کہ روس، چین اور پاکستان عالمی امن کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے شرکت کریں گے اور ‘ہمیں اُمید ہے کہ ایران بھی اس عمل کا حصہ بنے گا’۔

خیال رہے کہ روسی وزیر دفاع کے بیان سے قبل امریکا نے طالبان کو خبردار کیا تھا کہ دنیا افغانستان میں طاقت کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کو قبول نہیں کرے گی کیونکہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ امریکی انخلا کے بعد کابل میں موجودہ سیٹ اپ 6 ماہ کے اندر ہی ٹوٹ سکتا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھی عندیہ دیا تھا کہ افغانستان کے لیے امریکی مالی مدد صرف اسی صورت میں جاری رہ سکتی ہے جب اس ملک میں ایسی حکومت بنتی ہے جسے سب تسلیم کریں۔

خیال رہے کہ طالبان نے افغانستان کی تاجکستان کے ساتھ مرکزی سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کرلیا تھا اور حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں سے سرحد پار کر کے فرار ہو گئے تھے۔

قندوز شہر سے 50 کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان کے شمال میں شیر خان بندر پر قبضہ امریکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے طالبان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

مشہور خبریں۔

اس گروپ کے اعلیٰ عہدیداروں کی کارکردگی پر طالبان کے وزیر دفاع کی تنقید

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:    طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے

سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندی جاری، مسلم خواتین کے خلاف نیا قانون منظور کرلیا گیا

?️ 29 اپریل 2021سری لنکا (سچ خبریں)  سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی

امریکہ سے مہلک ہتھیاروں اور ایئر ڈیفنس سسٹمز کی خریداری اور یوکرین کو ترسیل

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ

صیہونیوں کا یوکرین کی خفیہ امداد کرنے کا اعتراف

?️ 29 جنوری 2023سچ خبریں:جرمنی میں صیہونی حکومت کے سفیر نے ایک انٹرویو میں اعتراف

وزیراعظم شہبازشریف کی ترلائی دھماکے کی شدید مذمت

?️ 6 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو رہا کردیا گیا

?️ 2 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما سمی

حریت رہنماؤں کا غیر قانونی طور پر نظربند کشمیریوں کی حالتِ زار پر اظہارتشویش

?️ 21 اکتوبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

ترکی امریکی F-16 جنگی طیارے حاصل کرنے کے لائق نہیں:امریکی سنیٹر

?️ 24 مارچ 2023سچ خبریں:امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ باب مینینڈیز نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے