ایپسٹین کیس میں نیا تنازع

ایپسٹین

?️

سچ خبریں:جیفری ایپسٹین کیس کے متاثرین نے امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل ٹیڈ بلانچ سے ملاقات کو توہین آمیز اور نمائشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سینیٹ کی منظوری کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔

امریکی ویب سائٹ اکسیوس کی رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹین کیس کے متعدد متاثرین نے کہا ہے کہ گزشتہ جمعرات کو امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل ٹیڈ بلانچ کے ساتھ ہونے والی ملاقات سنجیدہ اور بنیادی گفتگو کے بجائے محض ایک رسمی کارروائی محسوس ہوئی۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ بلانچ نے ملاقات کے دوران زیادہ تر وقت براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور اس اجلاس پر صرف اس لیے رضامندی ظاہر کی تاکہ ریپبلکن سینیٹر ٹام ٹیلس کو مطمئن کیا جا سکے، کیونکہ انہوں نے عدالتی کمیٹی میں بلانچ کی نامزدگی کی حمایت کو متاثرین سے ملاقات کی شرط سے مشروط کر رکھا تھا۔

اکسیوس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ یہ ملاقات بلانچ کے لیے عدالتی نظام کی سربراہی سنبھالنے کے لیے درکار حمایت حاصل کرنے کی ایک اہم سیاسی ضرورت تھی، جبکہ متاثرین کے لیے یہ انصاف کے حصول کی طویل جدوجہد کا ایک تاریخی موقع تھا۔

 رپورٹ کے مطابق اگر سینیٹ کی عدالتی کمیٹی میں شامل کسی ایک ریپبلکن رکن نے بھی مخالفت کی ہوتی تو بلانچ کی نامزدگی رک سکتی تھی۔

ایپسٹین کیس کی متاثرہ خاتون اینی فارمر نے کہا کہ بلانچ کا رویہ گستاخ، متکبر اور متاثرین کے حقوق کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ تھا۔ ان کے مطابق یہ رویہ اس مؤقف سے بالکل مختلف تھا جو بلانچ نے اپنی توثیقی سماعت کے دوران عوامی طور پر اختیار کیا تھا۔

اس مقدمے کی ایک اور متاثرہ خاتون ڈینی پنسکی نے ایم ایس ناؤ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پہلے کچھ امید تھی، لیکن یہ ملاقات کسی بھی اعتبار سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔

متاثرہ خاتون الزبتھ اشٹائن نے بھی دیگر متاثرین کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پوری ملاقات کا مقصد صرف یہ تھا کہ بلانچ اپنی پیشہ ورانہ ترقی کی راہ ہموار کر سکیں۔ ان کے بقول اس عمل کا متاثرین سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ انتہائی مایوس کن تھا۔

دوسری جانب امریکی وزارت انصاف کے ترجمان نے اس ملاقات کو ابتدائی اور تعمیری گفتگو قرار دیا۔ ان کے مطابق اجلاس میں ٹیڈ بلانچ، متاثرین، وزارت انصاف کے اعلیٰ حکام، وفاقی تحقیقاتی ادارے کے خصوصی اہلکاروں اور متاثرین کی معاونت سے متعلق نمائندوں نے شرکت کی۔

ترجمان نے اکسیوس کو جاری بیان میں کہا کہ ٹیڈ بلانچ نے متاثرین کے سوالات کے جواب دیے اور جاری تحقیقات سے متعلق قانونی تقاضوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے متاثرین کو اگلے مرحلے کے طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے تفتیش کاروں سے ملاقات کی بھی ترغیب دی۔

بلانچ نے اس ملاقات کے دوران اعتراف کیا کہ وہ نئے فوجداری مقدمات کے اندراج کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت انصاف متعدد بار واضح کر چکی ہے کہ اگر نئی معلومات سامنے آئیں تو مزید تحقیقات کی جائیں گی، تاہم اس وقت حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جو ایپسٹین سے وابستہ دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی حمایت کر سکیں۔

مشہور خبریں۔

میرے بیٹے نے گھر کے مالکوں کی خاطر ہتھیار ڈالے:فلسطینی قیدی کے والد

?️ 19 ستمبر 2021سچ خبریں:جلبوع جیل سے فرار ہونے والے فلسطینی قیدیوں میں سے ایک

انتخابات کیلئے درکار فنڈز نہیں ملے، الیکشن کمیشن

?️ 29 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سپریم

یوکرین کے لاجسٹک مراکز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے گودام تباہ: روس 

?️ 16 جولائی 2026سچ خبریں: روس کی وزارت دفاع نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان

سعودی عرب میں شراب سے بھرا ٹرک الٹ گیا

?️ 24 دسمبر 2022سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کی ایک سڑک پر شراب لے

اسلام آباد کی اہم تنصیبات کے سیکیورٹی آڈٹ کا حکم

?️ 26 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سوات میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)

سرینگرمیں متحدہ مجلس علماء کا اہم اجلاس ، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزیوں کے تدارک کے لیے پینل قائم

?️ 16 جولائی 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مختلف

کونڈولیزا رائس نے اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا تھا، یوسف رضا گیلانی

?️ 2 فروری 2024ملتان: (سچ خبریں) سابق وزیر اعظم و رہنما پاکستان پیپلز پارٹی یوسف

حماس: قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون، مقبوضہ حکومت کی طرف سے ان کے قتل عام کو جائز قرار دینے کی جانب ایک خطرناک قدم ہے

?️ 25 مارچ 2026سچ خبریں: حماس نے صہیونی حکومت کی کینیسٹ پارلیمان میں فلسطینی قیدیوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے