نیتن یاہو کی پالیسیوں نے اسرائیل کو دنیا کا ناپسندیدہ برینڈ بنا دیا ہے:صیہونی اخبار

نیتن یاہو کی پالیسیوں

?️

سچ خبریں:صیہونی اخبار ہارٹیز نے اپنے اداریے میں خبردار کیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کے باعث اسرائیل عالمی سطح پر ایک ایسی ناپسندیدہ اور متنازع شناخت اختیار کر رہا ہے جس سے دنیا کے مختلف ممالک اور عوام فاصلہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

عبرانی زبان کے اخبار ہارٹیز نے اپنے آج کے اداریے میں لکھا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت میں اسرائیل ایک زہریلا برینڈ بنتا جا رہا ہے، جس سے نفرت اور دوری اختیار کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

اخبار کے مطابق، گزشتہ روز کے واقعات نے اس صورتِ حال کی دو تشویش ناک مثالیں پیش کیں۔

پہلا واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا کہ امریکہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کو دی جانے والی 3.8 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد بند کر دے گا۔

ہارٹیز نے لکھا کہ اگرچہ اسرائیل کے لیے سکیورٹی امداد روکنے کا اعلان سیاسی مفادات کے تحت کیا گیا ہو یا محض ایک غیر سنجیدہ تشہیری حربہ ہو، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی عوام کی نظر میں اسرائیل کی شبیہ کتنی منفی ہو چکی ہے اور اسے ایک ناپسندیدہ ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔

اخبار نے دوسری مثال یورپ کی پیش رفت کو قرار دیا، جہاں یورپی یونین کے تحقیقی پروگرام ہورائزن میں شرکت کے ضوابط میں نئی شرائط شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ دنیا کے بڑے تحقیقی مالی معاونتی پروگراموں میں سے ایک ہے، جس سے اسرائیل کئی دہائیوں سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔

مجوزہ شرائط کے مطابق، اس پروگرام میں شرکت کے خواہش مند کسی بھی غیر یورپی ملک کو انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا، اس کا طرزِ عمل اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن سے مطابقت رکھنا چاہیے اور اسے مساوات و برابری کے فروغ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

ہارٹیز نے مزید لکھا کہ یہ محض اتفاق نہیں کہ ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے روز اسرائیل کے لیے امداد روکنے کا اعلان کیا۔ اخبار کے مطابق، ٹرمپ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی عوام، حتیٰ کہ ریپبلکن پارٹی کے حلقوں میں بھی اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اسرائیل کو امداد فراہم کرنے سے پیچھے ہٹنا سیاسی طور پر ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

اخبار نے اپنے اداریے کے اختتام پر کہا کہ اسرائیل اب نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ ان کی حکومت اسرائیل کی عالمی تنہائی میں مزید اضافہ کرتی رہے گی۔

ہارٹیز کے مطابق، اسرائیل میں تبدیلی کے خواہاں سیاسی رہنماؤں کو ایک ایسی نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے جو موجودہ پالیسیوں سے مختلف راستہ اختیار کرے اور ملک کی موجودہ سمت تبدیل کر سکے۔

مشہور خبریں۔

صہیونی منصوبے کے خاتمےکی 6 نشانیاں

?️ 17 جنوری 2024سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے مشہور یہودی اسرائیلی مبشر الان پوپ نے حیفہ

طولکرم میں صیہونی فوجی فلسطینی مجاہدین کے آہنی پنجوں میں گرفتار

?️ 29 فروری 2024سچ خبریں: مغربی کنارے میں تعینات مزاحمتی فورسز نے ایک کاروائی کے

دی اکانومسٹ کا سرورق اردگان کے لیے باعث پریشانی

?️ 6 مئی 2023سچ خبریں:ترک صدر رجب طیب اردگان نے دی اکانومسٹ کے نئے شمارے

طاقت کے بغیر سفارت کاری بے کار ہے: حزب اللہ

?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ میں وفاداری بہ مقاومت کے گروہ کے رکن علی

صیہونیوں کو درپیش اہم خطرات

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:صیہونی تجزیہ کار نے اس حکومت کو درپیش اہم اور بڑے

طالبان کا لڑکیوں کے اسکول دوبارہ کھولنے کا منصوبہ

?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں:طالبان کی وزارت تعلیم کے ترجمان نے اعلان کیا کہ چھٹی

اسرائیل کی کامیابی عالم اسلام کی تباہی کے راستے ہموار کرے گی۔ لیاقت بلوچ

?️ 17 جون 2025لاہور (سچ خبریں) جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا

اپنے ملک کو پیش آنے والے ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں:ایرانی جنرل

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر کیومرث حیدری کا کہنا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے