?️
میانمار (سچ خبریں) میانمار کی باغی فوج نے احتجاج کرنے والے ہزاروں ملازمین کو نوکری سے نکال دیا ہے جس کے بارے میں اساتذہ کے ایک گروپ نے بتایا میانمار میں فوجی حکومت نے مخالفت کرنے والے 11 ہزار زائد ماہرین تعلیم اور یونیورسٹی کے دیگر عملے کو معطل کردیا ہے، انہوں نے بتایا کہ فوجی حکومت کے عتاب کا نشانہ بننے والے افراد نے آمریت کے خلاف احتجاجاً ہڑتال کی تھی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق معطلی کا فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب کورونا وبا کی وجہ سے تعلیمی ادارے ایک سال بعد دوبارہ کھلے اور فوجی بغاوت کے خلاف تدریسی، غیر تدریسی عملے سمیت طلبہ نے آمریت کے خلاف احتجاجاً بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
37 سالہ یونیورسٹی کے ایک ریکٹر نے بتایا کہ معطل ہونے پر پریشان ہوں لیکن مجھے ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونے پر فخر محسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے محکمے نے آج مجھے طلب کیا لیکن میں نہیں جا رہا، ہمیں فوجی کونسل کے احکامات پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔
امریکا میں فیلو شپ پر موجود پروفیسر نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ وہ ہڑتالیوں کی مخالفت کریں یا اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی یونیورسٹی کے حکام نے انہیں بتایا تھا کہ ہر اسکالر کو تلاش کیا جائے گا اور انہیں کسی ایک چیز کا انتخاب کے لیے مجبور کیا جائے گا۔
میانمار ٹیچرز فیڈریشن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 11 ہزار 100 سے زیادہ تدریسی اور دیگر عملے کو کالجوں اور جامعات سے معطل کردیا گیا۔
ورلڈ بینک کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق میانمار میں 2018 میں جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں 26 ہزار سے زائد اساتذہ موجود تھے۔
اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ حکومت پر فوج کے قبضے کے بعد شمال اور مغرب میں سرحدی علاقوں نسلی فسادات بھی پھوٹ پڑے ہیں، ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔
میانمار کے متعدد علاقوں میں مسلح عوام اور فوج کے درمیان بھی جھڑپیں جاری ہیں اور حکومتی تنصیبات کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو راکٹ، دھماکوں اور چھوٹے اسلحے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سیاسی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے حکومت پر قبضے کے بعد اب تک تقریباً 765 شہریوں کو قتل کیا۔
خیال رہے کہ آنگ سانگ سوچی فروری کے شروع سے ہی زیر حراست ہیں اور 75 سالہ رہنما کے ہمراہ دیگر سیاسی رہنما بھی جیلوں میں ہیں۔
اپریل میں میانمار میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یانگون کے قریب ایک علاقے باگو میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاون کے دوران فائرنگ سے مزید 80 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
یاد رہے کہ میانمار فوج کا مؤقف ہے کہ نومبر میں دھاندلی کے ذریعے آنگ سان سوچی کی جیت ہوئی جس کے بعد انہوں نے بغاوت کی۔
واضح رہے کہ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے ملک میں منتخب سیاسی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور دیگر سیاست دانوں سمیت آنگ سان سوچی کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔
فوج کے اس عمل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تاحال جاری ہے، جس میں اب تک فورسز کی جانب سے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، جس میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کرکے قید کردیا گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
فرنٹیئر کانسٹیبلری ملک گیر وفاقی فورس میں تبدیل، صدارتی آرڈیننس جاری
?️ 14 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کو
جولائی
ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد کی فائرنگ، خاتون سمیت 38 افراد جاں بحق، 29 زخمی
?️ 21 نومبر 2024 پشاور: (سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے ضلع ضلع کرم میں مسافر
نومبر
امریکہ اور یوکرین کے درمیان بڑھتی کشیدگی؛امریکی مطالبات میں اضافہ
?️ 12 اپریل 2025 سچ خبریں:مطلع ذرائع نے امریکہ اور یوکرین کے درمیان ہونے والے
اپریل
ہانیہ عامر کا تکلیف دینے والوں کا پیچھا چھوڑنے کا مشورہ
?️ 16 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں) پاکستان فلم و ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ
اکتوبر
گروسی کا ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات حل کرنے میں مدد کی آمادگی کا اعلان
?️ 30 مئی 2026سچ خبریں: بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے اعلان
مئی
8 تضادات کا شکار مکہ معاہدہ ؛کیا ریاض سہ فریقی عہد پر بھروسہ کر سکتا ہے؟
?️ 10 اگست 2026سچ خبریں:سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدہ متعدد تضادات
اگست
آئی ایس آئی کے نئے ڈی جی کی تعیناتی کے حوالے سے تین نام سامنے آگئے
?️ 14 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی
اکتوبر
9600 فلسطینی صیہونی حکومت کی قید میں
?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: 7 اکتوبر 2023 کو غزہ جنگ کے آغاز کے بعد
جولائی