?️
سچ خبریں:علاقائی امور کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے فوری جوابی کارروائی، جنگ کا دائرہ وسیع کرنے اور جدید میزائلوں کے استعمال کا راستہ اختیار کیا ہے۔
علاقائی امور کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور گزشتہ چند روز کے دوران غیر معمولی اقدامات کے ذریعے اپنا نام تاریخ میں درج کر دیا ہے۔
عبدالباری عطوان نے اپنے ایک تجزیے میں خطے میں حالیہ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جاری محاذ آرائی کا جائزہ لیتے ہوئے خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹینکر جنگ، ایران کی جانب سے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور 2 امریکی جنگی جہازوں پر میزائل حملے، ان واقعات پر امریکہ کی شرمناک خاموشی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی دھمکیوں سے پسپائی کو موضوع بنایا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایرانی حکام نے اپنی سابقہ جنگی حکمت عملی کی جگہ ایک نئی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔ تہران نے کشیدگی میں اضافے سے بچنے کے لیے تحمل، حساب شدہ اور محتاط جوابی کارروائی کی پالیسی ترک کرتے ہوئے انتقامی اور انتہائی فوری جوابی حملے، جنگ کا دائرہ وسیع کرنے اور جدید اور درست نشانے والے میزائلوں کو میدان جنگ میں لانے کا راستہ اپنایا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد مخالف فریق کو اچانک شدید دباؤ اور صدمے سے دوچار کرنا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی اور صہیونی فریق کو پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔
عطوان نے ایرانی حکام کی متعدد دھمکیوں کو اس حکمت عملی کی علامت قرار دیا، جن میں قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری محسن رضایی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے بیانات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کو اردن اور خطے کے دیگر علاقوں میں موجود اپنے فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملوں کا شدید خدشہ ہے۔
عطوان کے مطابق اسی بے بسی کے باعث صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے زیر زمین پناہ گاہ سے دھمکی دی کہ اگر ایران نے مقبوضہ علاقوں پر حملہ کیا تو تل ابیب ایسے حملے کرے گا جن کا تہران تصور بھی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی نئی سیاسی قیادت اور فوجی کمانڈروں نے محتاط حملے سے وسیع پیمانے پر حملے کی طرف رخ کرلیا ہے اور ان تمام جدید ہتھیاروں کو استعمال کیا ہے جو ماضی کی جھڑپوں میں میدان جنگ میں نہیں لائے گئے تھے۔
ان کے بقول اس حکمت عملی کا مقصد دشمن کے اہداف پر فوری اور پیشگی حملہ کرکے قوت مدافعت کی پالیسی کو مضبوط بنانا اور دشمن کے پہلے حملے کا انتظار نہ کرنا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے ایران کی نئی دفاعی حکمت عملی کو اس طرح بیان کیا ہے کہ اگر ایران کی تیل برآمدات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی گئی تو آبنائے ہرمز یا کسی بھی دوسرے مقام سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔
عطوان کے مطابق اس کا مطلب آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش جاری رکھنا، پورے خطے میں امریکی تیل کے کنوؤں اور تیل کمپنیوں کو نشانہ بنانا اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرنا ہے۔
عطوان نے مزید کہا کہ عرب دنیا کے تقریباً تمام تیل پیدا کرنے والے ممالک، بالخصوص خلیج فارس کے ممالک، گزشتہ 5 ماہ کے دوران اپنی تیل اور گیس کی برآمدات سے ایک ڈالر بھی قومی خزانے میں جمع نہیں کراسکے۔
ان کے مطابق اس صورتحال نے ان ممالک کو شدید بجٹ خسارے سے دوچار کردیا ہے اور انہیں یا تو مغربی بینکوں میں موجود اپنے مالی ذخائر استعمال کرنے پڑ رہے ہیں یا خسارہ پورا کرنے کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے۔
اس کے علاوہ ان میں سے بیشتر ممالک نے جنگ کے طویل ہونے کے امکان کے پیش نظر داخلی اخراجات کو محدود کرنے اور کفایت شعاری کی پالیسیاں اختیار کرلی ہیں۔
عطوان نے نیتن یاہو کی ایران کے خلاف دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی حکومت کے وزیر اعظم ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی کوششوں میں بارہا ناکامی کے باوجود دھمکیاں دے رہے ہیں۔
تاہم جس حقیقت کو نیتن یاہو نظر انداز کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا فیصلہ صہیونی حکومت کے چند ہی گھنٹوں میں زوال کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ایران مخالف جارحیت میں امریکی شرکت سے نیتن یاہو کی پسپائی کی ایک بڑی وجہ ایرانی دقیق میزائلوں اور لبنان، یمن اور عراق میں موجود مزاحمتی قوتوں کے میزائلوں کا خوف تھا۔
عطوان کے مطابق نیتن یاہو گزشتہ 2 برس کے دوران 3 مرتبہ ایران کے خلاف جارحیت آزما چکے ہیں اور اس کا نتیجہ مقبوضہ علاقوں میں کئی شہروں کی تباہی کی صورت میں سامنے آیا، جن میں تل ابیب کا وسیع علاقہ، حیفا، دیمونا، ایلات اور صفد شامل ہیں۔ تاہم ان کے بقول نیتن یاہو نے ان تباہ کاریوں کی تصاویر کو میڈیا میں نشر ہونے کی اجازت نہیں دی۔
عطوان نے اپنے تجزیے کے اختتام پر لکھا کہ یہ اسرائیل نہیں ہے جو پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگیا ہے، بلکہ ایران ہے جس نے تاریخ میں اپنا نام اس حیثیت سے درج کرایا ہے کہ وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو براہ راست یا اپنے اتحادیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی جرأت کی۔


مشہور خبریں۔
اناج کے معاہدے میں ترکی کا کردار انتہائی قابل تحسین
?️ 14 اگست 2022سچ خبریں: ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے
اگست
ایران کے بارے میں ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ؛ جنگ جلد ختم ہوجائے گی
?️ 1 اکتوبر 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں اپنے سابقہ
اکتوبر
سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین کا تحریک انصاف کے بارے میں بیان
?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے
جولائی
وینزویلا کی عبوری صدر کا اعلان: نکولس مادورو ہی وینزویلا کے قانونی صدر ہیں
?️ 13 فروری 2026وینزویلا کے عبوری صدر کا اعلان: نکولس مادورو ہی وینزویلا کے قانونی
فروری
صہیونی وزارت جنگ کا ہیڈ کوارٹر قیدیوں کے اہل خانہ کے گھیرے میں
?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں صہیونی قیدیوں کے اہل خانہ تل
دسمبر
صہیونیوں کے خلاف بولنے پر برطانوی یونیورسٹی کے پروفیسر برطرف
?️ 3 اکتوبر 2021سچ خبریں:برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے عہدیداروں نے سماجیات کے ایک پروفیسر
اکتوبر
غزہ میں متعدد صیہونی قیدیوں کی خودکشی کا پردہ فاش
?️ 4 جولائی 2024سچ خبریں: فلسطین الیوم ویب سائٹ کے مطابق فلسطین کی اسلامی جہاد
جولائی
متحدہ عرب امارات نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر عائد سفری پابندیوں کے حوالے سے اہم اعلان کردیا
?️ 4 جون 2021دبئی (سچ خبریں) متحدہ عرب امارات نے کورونا وائرس کے پیش نظر
جون