?️
کابل (سچ خبریں) افغانستان میں قتل و غارت جاری ہے اور آئے دن بے گناہ افراد کو بغیر کسی جرم کے قتل کیا جارہا ہے اسی ظلم و بربریت کا تازہ ترین واقعہ اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ویکسین پلانے والی تین خواتین کو گولی مار کر قتل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق مہم کے سپروائزر وحیداللہ کا کہنا تھا کہ تمام خواتین بچوں کو ویکسین پلانے کے لیے گھر گھر جا کر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہی تھیں، گورنر ننگرہار کے دفتر کے ایک عہدیدار نے بھی واقعے کی تصدیق کی۔
مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق پولیو ورکرز میں سے ایک خاتون کے رشتہ دار کا کہنا تھا کہ ان کی بھتیجی نے اپنے اہل خانہ کے لیے پیسے جمع کرنے کے لیے پروگرام میں شمولیت کی تھی۔
حاجی مقبول کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے انہیں اس وقت گولی ماری جب وہ ڈیوٹی کے دوران بچوں کو ویکسین پلا رہی تھیں۔
عینی شاہد سیف اللہ نے کہا کہ تین مسلح افراد نے پولیو ورکرز کا پیچھا کیا اور فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو خواتین دم توڑ گئیں، ان کا کہنا تھا کہ خواتین ایک گھر کے سامنے رک کر دروازہ بجا رہی تھیں اور ان کے پاس میڈیکل بکس اور کچھ پرچے تھے، انہوں نے کہا کہ اسی موقع پر مسلح افراد ان کے قریب آئے اورلڑکیوں پر فائرنگ کرکے فرار ہوگئے۔
افغان وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ننگر ہار میں ویکسین مہم کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے، افغانستان میں امریکی کے نمائندے روس ولسن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ حملے افغانستان میں بچوں کے بہتر مستقبل کے خواب کے سامنے رکاوٹ ہیں، انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز پر حملے بے رحمی اور ناقابل بیان ہیں۔
خیال رہے کہ پولیو کا افغانستان اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر سے خاتمہ ہوگیا ہے جبکہ ویکسین کے حوالے سے بداعتمادی سے مسائل میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے۔
افغان حکومت کے عہدیداروں کا مؤقف ہے کہ طالبان اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں گھر گھر مہم کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔
پولیو ورکرز پر حملے اور تین افراد کی ہلاکت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان اور دیگر فریقین کے درمیان گزشتہ ایک سال سے جاری ہیں جبکہ کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
صحافیوں، انسانی حقوق کے ورکرز، سرکاری ملازمین اور نامور افراد کو نشانہ بنایا گیا اور اس لہر سے ملک بھر میں خوف پایا جاتا ہے۔
حکومت مسلح کارروائیوں کا الزام طالبان پر عائد کرتی ہے جبکہ طالبان شہریوں کو نشانہ بنان کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ 2 مارچ کو اسی طرح میڈیا سے منسلک تین خواتین کوجلال آباد میں قتل کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی شہرک سازی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے:برطانیہ
?️ 21 اگست 2025اسرائیلی شہرک سازی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے برطانیہ
اگست
فلسطینی کیوں لڑ رہے ہیں؟
?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں: مسلمانوں کے خلاف ظلم اور ناانصافی کا مقابلہ کرنے کے
نومبر
حزب اللہ کی طاقت تیزی سے بڑھ رہی ہے: صہیونی میڈیا کا اعتراف
?️ 4 نومبر 2025سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ حزب اللہ کی طاقت
نومبر
اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد پیش منظر؛ مغربی میڈیا کے تین ممکنہ منظرنامے
?️ 12 اپریل 2026سچ خبریں:اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی ناکامی
اپریل
’بنیادی حقوق کو بڑا دھچکا‘، سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی و سیاسی ماہرین کا ردِعمل
?️ 15 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے گزشتہ شب الیکشن کمیشن کے
جنوری
امریکہ سے ہندوستان کا بڑھتا ہوا فاصلہ
?️ 8 ستمبر 2025سچ خبریں: نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ یہ تصور رکھ سکتا
ستمبر
صیہونی فوج کا لبنان سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں: صہیونی ذرائع ابلاغ
?️ 29 جون 2026سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب کی
جون
چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی ریٹائرمنٹ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ غیر فعال ہوگئی
?️ 12 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا آفریدی
مارچ