اسٹیک ہولڈرز کا وی پی این رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی اینز) کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز نے تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کردیا جب کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی وزارت داخلہ سے وی پی این رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی درخواست کی ہے۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ذرائع پی ٹی اے نے بتایا کہ وی پی اینز کی رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا امکان ہے، رجسٹریشن کی میعاد ختم ہونے کے قریب ہوتے ہی وی پی اینز کی رجسٹریشن کا عمل تیز ہوگیا ہے، پی ٹی اے روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد وی پی این رجسٹرڈ کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے کی وی پی اینز کی رجسٹریشن کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے، اسٹیک ہولڈرز نے وی پی اینز کی رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان بنانے کی بھی درخواست کی ہے۔

وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کو بلاک کرنے کے احکامات دیے تھے، وی پی اینز کی رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہے۔

ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی اینز) کو رجسٹرڈ کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز نے تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کردیا جب کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی وزارت داخلہ سے وی پی این رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی درخواست کی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کی بندش پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جب کہ چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا تھا کہ وی پی این کے بغیر آئ ٹی انڈسٹری نہیں چل سکتی، اگر انٹرنیٹ ایک دن بند رہے تو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، 10 لاکھ سے زائد فری لانسرز وی پی این استعمال کررہے ہیں، اگر کوئی وی پی این رجسٹرڈ کرائے، تو انٹرنیٹ بند ہونے سے اس کا کاروبار متاثر نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ اگر کوئی وی پی اینز رجسٹرڈ کرائے، تو انٹرنیٹ بند ہونے سے اس کا کاروبار متاثر نہیں ہوگا، ہر فری لانسر کو وی پی این کی ضرورت بھی نہیں، خفیہ کام کرنے والے اسے استعمال کرتے ہیں،اب تک پی ٹی اے نے ہزاروں وی پی اینز کی رجسٹریشن کر لی ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ وی پی این کی رجسٹریشن کررہے ہیں، اس وقت پاکستان میں ٹاپ کے 27 وی پی اینز ہیں، اس وقت پاکستان میں وی پی این کے ذریعے جو دل کرے دیکھ سکتے ہیں، پی ٹی اے میں علمائے کرام کو بلایا تھا، کہ لوگ فحش مواد دیکھ رہے ہیں،علما سے مدد مانگی تھی کہ جو غیر اخلاقی ویب سائٹس بلاک کرتے ہیں، لوگ اسے زیادہ ہٹ کرتے ہیں، ایکس (سابقہ ٹویٹر) فروری 2024 سے پاکستان میں بلاک ہے۔

اس موقع پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے واضح کیا کہ وی پی اینز سوشل میڈیا نہیں لیکن اس کے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی ممکن ہے، وی پی اینز غیر اخلاقی مواد میں نہیں آتا ہے، اگر وی پی اینز کے ذریعے لوگ غیر اخلاقی مواد دیکھ رہے ہیں، تو اسے بلاک ہونا چاہیے، پیکا ایکٹ میں کہیں وی پی این کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے وزارت داخلہ کے احکامات پر عملدرآمد کروانے کا پابند ہے، پی ٹی اے نے وی پی اینز کی رجسٹریشن کے لیے 30 نومبر کی ڈیڈ لائن مقرر کررکھی ہے۔

پی ٹی اے نے یکم دسمبر سے غیر رجسٹرڈ وی پی اینز کو بلاک کرنے کا اعلان کررکھا ہے،30 نومبر کے بعد ملک میں غیر رجسٹرڈ شدہ وی پی این کام کرنا بند ہو جائیں گے۔

مشہور خبریں۔

حوثی غزہ کی پٹی کی صورت حال کے حوالے سے ملک کی بے عملی پر تنقید کرتے ہیں

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تحریک کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے

امریکی ہیلی کاپٹر کا حادثہ واشنگٹن کے لیے ایک نیا پیغام ہے: الیانوف

?️ 10 جون 2026سچ خبریں:  بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے میخائل اولیانوف نے

 غزہ کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ اسرائیل کی مکمل سلامتی کی ضمانت ہے

?️ 1 اکتوبر 2025 غزہ کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ اسرائیل کی مکمل سلامتی کی ضمانت

7 اکتوبر کی ناکامی کی تحقیقات کا نتیجہ شائع ہونے کو تیار، لمحہ فکریہ!

?️ 17 فروری 2025 سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹی وی چینل نے اتوار کی

امریکی کانگریس کو ایران کے ساتھ معاہدے کے خلاف متحرک کیا جائے: نیتن یاہو

?️ 23 فروری 2022سچ خبریں:سابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران کے خلاف موجودہ امریکی

پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔ وزیراعظم

?️ 29 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی

اسد قیصر نےپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوبارہ جلد بلانے کا عندیہ دے دیا

?️ 11 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کا

ایران کو ہر صورت مذاکرات کرنا ہوں گے؛ٹرمپ کی خوش فہمی

?️ 26 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے