غزہ میں انسانی بحران ؛ ہزاروں بچے ابھی تک لاپتہ

غزہ

?️

سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے چند ماہ گزرنے کے باوجود بعد بھی ہزاروں بچے ابھی تک لاپتہ ہیں۔

صہیونی افواج نے 11 اکتوبر 2025 سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ پر حملے، محاصرہ اور جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے حملوں میں شہداء کی تعداد 72,329 تک پہنچ چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 172192 ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی کے بعد بھی 750 افراد شہید اور 2090 زخمی ہو چکے ہیں۔

اس تمام صورتحال کے درمیان سب سے دردناک پہلو ہزاروں بچوں کا لاپتہ ہونا ہے، جن میں سے بڑی تعداد اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہے۔

غزہ میں ہزاروں خاندان شدید انسانی بحران کا شکار ہیں۔ 2900 سے زائد بچوں کی گمشدگی درج کی جا چکی ہے، جن میں سے تقریباً 2700 بچوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ اب بھی ملبے تلے موجود ہیں اور ان کے اہل خانہ ان کی کوئی خبر حاصل نہیں کر پا رہے۔

لاپتہ بچوں کے اہل خانہ نہایت کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، سرحدی راستے بند ہیں اور انسانی امداد و طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔

فلسطینی لاپتہ افراد کے مرکز کے مطابق، مجموعی طور پر 7 سے 8 ہزار افراد لاپتہ ہیں، جن میں 2700 بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 200 بچے مختلف حالات میں غائب ہوئے ہیں، جیسے امداد کے انتظار کے مقامات، فوجی چوکیوں کے قریب یا جبری نقل مکانی کے راستوں پر۔

مرکز کی سربراہ ندی نبیل کے مطابق، شدید بھوک اور قحط نے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث بہت سے بچوں کو اپنے خاندانوں کی ذمہ داریاں اٹھانی پڑ رہی ہیں، جیسے ایندھن اور خوراک کی تلاش۔ یہی حالات کئی بچوں کی گمشدگی کا سبب بھی بنے ہیں۔

دوسری جانب، مسلسل بمباری کے باعث کئی گھروں کے ملبے اجتماعی قبروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ بھاری مشینری، ایندھن اور امدادی وسائل کی کمی کے باعث امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے میں ناکام ہیں، جس سے لاشیں طویل عرصے تک ملبے تلے دبی رہتی ہیں۔

ایک متاثرہ والد مجدل سعداللہ نے بتایا کہ ان کا آٹھ سالہ بیٹا احمد، غزہ شہر کے مغربی علاقے میں گھر پر بمباری کے بعد لاپتہ ہو گیا۔ امدادی ٹیمیں ابھی تک اسے ملبے سے نہیں نکال سکیں۔ وہ بارہا اپنے تباہ شدہ گھر گئے، لیکن انہیں صرف خاموشی اور گرد و غبار ملا۔

متعدد خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے اپنے بچوں کی تلاش میں ہیں، مگر اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

یہ صورتحال غزہ میں جاری انسانی بحران کے سب سے تکلیف دہ پہلوؤں میں سے ایک بن چکی ہے۔

غزہ بحران، لاپتہ بچے، انسانی سانحہ، فلسطین، جنگ غزہ، صہیونی حملے، ملبے تلے بچے، جنگ بندی، انسانی امداد، غزہ محاصرہ، فلسطینی شہری، جنگی تباہی

مشہور خبریں۔

غزہ جنگ اور صہیونی فوجیوں کی خود کشی

?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں: اگرچہ صہیونی حکام فوجی خودکشیوں کے صحیح اعداد و شمار

اسرائیلی حکام کو ادیس ابابا اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا: افریقی یونین کے عہدیدار

?️ 20 فروری 2023سچ خبریں:46 افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے صیہونی حکومت

پی ٹی آئی کا کل سے مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے کا اعلان

?️ 30 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد

ایران کی جوہری سائٹس پر امریکی حملے جنگی جرائم ہیں۔ مشاہد حسین سید

?️ 22 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے کہا

جرم کا انکشاف؛ برطانوی فوج افغانستان میں لوگوں کو مارنے کا مقابلہ کرتی ہے

?️ 1 دسمبر 2025سچ خبریں: ایک سابق سینئر برطانوی افسر نے افغانستان میں ملک کی

عمران خان کی آنکھ کا علاج خصوصی اسپتال میں ماہرین چشم سے کرایا جائیگا۔ عطاء تارڑ

?️ 14 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے بانی پی ٹی

نیتن یاہو اور اسموٹریچ بین گوئیر سے خوفزدہ کیوں ہیں؟

?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کے قریب صہیونی اسیروں کے

غزہ جنگ کے بارے میں صیہونی جنرل کا اہم اعتراف

?️ 16 جون 2024سچ خبریں: ایک صیہونی جنرل نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے