قیدیوں کے تبادلے میں حماس کیسے صیہونیوں کو ذلیل کرتی ہے؟ امریکی اخبار کی زبانی

قیدیوں کے تبادلے میں حماس کیسے صیہونیوں کو ذلیل کرتی ہے؟ امریکی اخبار کی زبانی

?️

سچ خبریں:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ حماس قیدیوں کی رہائی کی تقریب کو اسرائیل کی توہین میں تبدیل کر رہی ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی تقریبات کو اسرائیل کی تحقیر کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قیدیوں کا تبادلہ؛ حماس کا اقدام اور مزاحمتی قوت کا میدانی مظاہرہ

الجزیرہ کے مطابق، وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ حماس پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اب بھی غزہ میں حکمران ہے، اس مقصد کے لیے وہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے طریقہ کار کو ایک ایسی تقریب میں تبدیل کر رہی ہے جو صیہونی حکومت کی بے بسی کو واضح کرتی ہے۔

اخبار کے مطابق، حماس نے پہلی بار اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے دوران اس حکمت عملی کو اپنایا، جہاں ہزاروں فلسطینی، حماس کے قیدیوں کو لے جانے والی گاڑیوں کے ساتھ جمع ہو گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دو اسرائیلی قیدیوں کو حماس نے اپنے شہید رہنما یحییٰ السنوار کے تباہ شدہ گھر کے قریب آزاد کیا، جبکہ تیسرے قیدی کی رہائی کو بھی ایک سیاسی علامت میں بدل دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حماس ہر اسرائیلی قیدی کی رہائی کو ایک پیچیدہ واقعے میں تبدیل کر رہی ہے، تاکہ اپنی طاقت اور اسرائیل کی کمزوری کو نمایاں کر سکے۔

ان تقریبات کے ذریعے، حماس نہ صرف اپنی مزاحمتی ساکھ کو مضبوط کر رہی ہے بلکہ جنگ بندی کے معاہدے میں اسرائیلی مشکلات میں اضافہ بھی کر رہی ہے۔

اسرائیلی انٹیلیجنس کے سابق سینئر اہلکار یوسی کوبرواسر نے کہا کہ حماس قیدیوں کی رہائی کو ایک تھیٹر شو میں تبدیل کر رہی ہے، جس کا مقصد اسرائیلی عوام اور فوج کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، جب اسرائیلی عوام نے ٹی وی اسکرینوں پر فلسطینی عوام کے ہجوم کو قیدیوں کے استقبال کے لیے جمع ہوتے دیکھا تو وہ حیران اور صدمے میں تھے۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے آخر میں قیدیوں کے تبادلے کے مناظر نے اسرائیلی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا، اس موقع پر ایک بڑا بینر بھی نصب کیا گیا تھا، جس پر لکھا تھا کہ جبالیہ، اسرائیلی اسپیشل فورسز ‘جفعاتی بریگیڈ’ کا قبرستان ہے۔

یہ بینر اسرائیلی سوسائٹی میں مزید اضطراب اور اشتعال کا سبب بنا، کیونکہ اس نے حماس کے خلاف اسرائیلی فوج کی ناکامی کو یاد دلایا۔

مزید پڑھیں: قیدیوں کا تبادلہ صیہونیوں کو کتنا مہنگا پڑے گا؟صیہونی جنگی کابینہ کے رکن کی زبانی

رپورٹ کے مطابق، حماس اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو صرف ایک انسانی مسئلہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مزاحمتی فتح کے طور پر پیش کر رہی ہے، جو اسرائیل کے لیے سفارتی اور نفسیاتی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ میں ترک افواج کا داخلہ تل ابیب کی سرخ لکیر ہے: نیتن یاہو

?️ 23 اکتوبر 2025سچ خبریں: 12 ٹی وی، جو اسرائیلی ریاست کے زیرانتظام ہے، نے

سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک، متعدد گرفتار

?️ 2 مئی 2023خیبر پختونخوا 🙁سچ خبریں) خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے

عراقی وزیر اعظم جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس قتل کیس میں کیا کر رہے ہیں؟

?️ 22 اگست 2023سچ خبریں: عراق کے وزیر اعظم نے ایران، عراق، شام اور لبنان

نیتن یاہو کی بارہ سالہ حکمرانی کا خاتمہ

?️ 14 جون 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت کی پارلیمنٹ نے بہت ساری بحث و مباحثے کے

فلسطینی قوم کی بڑھتی ہوئی بغاوتکو روکنا مشکل

?️ 2 اکتوبر 2022سچ خبریں:    فلسطین کی اسلامی استقامتی تحریک حماس نے ایک بیان

ایرانی صدر کے دورہ پاکستان اور میڈیا

?️ 25 اپریل 2024سچ خبریں: ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کی

قاہرہ میں روسی سفارت خانے پر تل ابیب کی جانب سے بے مثال تنقید

?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:    یوکرین کی جنگ کے بعد ماسکو اور تل ابیب

کوئی بھی مصری فوجی کے حملے کی بات نہیں کرے گا:نیتن یاہو

?️ 7 جون 2023سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم نے اپنی کابینہ اور پارلیمنٹ کے ارکان سے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے