ایران کے خلاف جنگ پر عالمی میڈیا کا ردعمل

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر عالمی میڈیا کے تجزیے، آبنائے ہرمز کی کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اسرائیلی معیشت پر دباؤ، اور خطے میں ممکنہ بڑے بحران کے خطرات پر تفصیلی رپورٹ۔

ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے نہ صرف اس آپریشن کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح فریقوں کے لیے اسٹریٹجک بن‌بست، میدانِ جنگ کی ناکامیوں اور سیاسی مشکلات کے بڑھتے ہوئے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔

یہ جنگ، جو وسیع حملوں اور بے گناہ شہریوں خصوصاً طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، تیزی سے انسانی، سکیورٹی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کر گئی اور اس نے بین الاقوامی میڈیا میں مختلف ردعمل کو جنم دیا۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی حاصل ہوئی اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں توسیع بھی کی، تاہم اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک پہنچنے کا راستہ اب بھی پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔

دنیا کے مختلف میڈیا اداروں نے اپنے مخصوص زاویۂ نگاہ کے مطابق اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان ردعمل کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتِ حال اور اس کے مستقبل کو زیادہ واضح انداز میں سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

مغربی میڈیا

بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کی خبر دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کی امن تجاویز پر ایران کے جواب کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بطور ثالث ارسال کیا، جس میں فوری جنگ بندی اور اس بات کی معتبر ضمانت کا مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔

برطانوی میڈیا نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 105.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے، جنگ کے ابتدائی دنوں یعنی 28 فروری سے عملی طور پر بند ہے۔

بی بی سی نے یہ بھی کہا کہ صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ کے خاتمے کی شرط ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو خارج کرنے کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ اپریل کے آغاز سے اعلان کردہ جنگ بندی زیادہ تر برقرار رہی، لیکن توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ اس دوران بڑی توانائی کمپنیوں نے غیر معمولی منافع حاصل کیا، یہاں تک کہ سعودی آرامکو کے پہلے سہ ماہی منافع میں 25 فیصد اور برٹش پٹرولیم کے منافع میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔

پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ قطر کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملہ، امارات اور کویت کی فضائی حدود میں بیک وقت ڈرونز کی موجودگی، اور باہمی دھمکیوں نے نازک جنگ بندی کو شدید آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اماراتی وزارت دفاع نے دو ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار قرار دیا، تاہم کسی فریق نے باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔

پولیٹیکو نے مزید کہا کہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کے 60 فیصد افزودہ 440 کلوگرام یورینیم کے ذخائر کا مستقبل ہے۔ اسی دوران ایرانی خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایک ایرانی فوجی ترجمان نے کہا کہ مسلح افواج جوہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے مکمل الرٹ پر ہیں اور دشمن کی جانب سے ان مواد کو اغوا کرنے کے لیے ہیلی بورن یا دراندازی کی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی آئل ٹینکروں یا تجارتی جہازوں پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں امریکی اڈوں اور دشمن کے بحری جہازوں پر شدید حملے کی صورت میں دیا جائے گا۔ سفارتی میدان میں پاکستان اور قطر اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستانی وزیراعظم نے اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ علاقائی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ قبول نہ کیا گیا تو مکمل بمباری دوبارہ شروع کی جائے گی۔

عرب اور علاقائی میڈیا

الجزیرہ نے اپنے ایک تجزیہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ بڑھتی کشیدگی اور خطے میں بحران کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے خطرات پر روشنی ڈالی۔ تجزیہ کار نے لکھا کہ حالیہ پیش رفت سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران اختلافات کے حل کے لیے ایک عمومی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں اور آبنائے ہرمز میں دونوں جانب سے عائد رکاوٹوں میں کمی شامل تھی۔

ٹرمپ نے سفارتی ماحول پیدا کرنے کے لیے پروجیکٹ فریڈم نامی آپریشن روک دیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو توڑنا تھا۔ کہا گیا کہ یہ فیصلہ بعض عرب اور خلیجی ممالک کے دباؤ اور پاکستان کی ثالثی کی حمایت کے تحت کیا گیا۔ اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں اور سپاہ پاسداران نے امریکی بحری جہازوں اور امارات میں اہداف پر حملے کر کے آبنائے ہرمز میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کی، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں اور سپاہ کی کشتیوں پر حملے کیے۔

رپورٹس کے مطابق ممکنہ معاہدے کے مسودے میں ایران کی یورینیم افزودگی کو طویل مدت کے لیے معطل کرنا، افزودگی کی سطح کو 3.67 فیصد تک محدود کرنا اور 60 فیصد افزودہ یورینیم روس منتقل کرنا شامل ہے۔ اس کے بدلے ایران کو امریکی پابندیوں میں نرمی اور بحری پابندیوں میں کمی کا فائدہ ملے گا۔

تجزیہ کار کے مطابق ایران اب بھی آبنائے ہرمز میں اپنے دباؤ کے عنصر کو برقرار رکھنے پر اصرار کر رہا ہے، تاہم امریکی حملوں نے اس کی فوجی صلاحیتوں کو محدود کیا ہے۔ تجزیہ خبردار کرتا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطہ دوبارہ وسیع جنگ کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

المیادین نے ایک تجزیہ میں وضاحت کی کہ حزب اللہ نے اپنی عسکری حکمت عملی کو جدید بنا کر اسرائیل کے خلاف غیر متوازن جنگ کے تصور کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ تجزیہ کار نے اس تصور کی جڑوں کو خلیج فارس کی جنگ کے بعد امریکی فوجی نظریے سے جوڑا، جو دشمن کی کمزوریوں، نفسیاتی جنگ، غیر روایتی حربوں اور غیر متوقع ٹیکنالوجی کے استعمال پر مبنی تھا۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی مزاحمت اور حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے اسی ماڈل کو اختیار کیا۔ 2006 کی جنگ اور حالیہ جھڑپوں کے بعد حزب اللہ نے اسمارٹ اٹریشن یعنی ذہین فرسودگی کی حکمت عملی اپنائی، جس میں منظم پسپائی، منتشر فورسز، مختصر گوریلا کارروائیاں اور خودکش ڈرونز کا وسیع استعمال شامل ہے۔ مرکزی آپریشن رومز پر انحصار کم کرنا اور اسرائیلی الیکٹرانک نگرانی سے بچنے کے لیے انسانی پیغام رساں استعمال کرنا بھی اہم تبدیلیوں میں شامل ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق ان تبدیلیوں کے باعث اسرائیلی فوج فضائی اور انٹیلی جنس برتری کے باوجود جنوبی لبنان میں مسلسل نقصانات اور تھکاوٹ کا شکار ہے اور اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں کر سکی۔

رأی الیوم نے خبردار کیا کہ اگر ایران ایک طرف اور امریکہ و اسرائیل دوسری طرف دوبارہ جنگ میں داخل ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ ایک ہمہ گیر بحران میں داخل ہو جائے گا جس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور سیاست کو بھی متاثر کریں گے۔ تجزیہ کار کے مطابق سب سے خطرناک منظرنامہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے شروع ہوگا، جہاں سے دنیا کے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے کی بندش تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے، ٹرانسپورٹ لاگت میں اضاضہ اور عالمی اقتصادی جمود کا باعث بن سکتی ہے۔

تجزیے میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل ممکنہ طور پر جنگ کے آغاز میں ایران کے فوجی اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے، تاہم ایران کا جواب بھی محدود نہیں رہے گا اور وہ خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات، بندرگاہوں اور اسرائیل کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایسی صورتحال خطے کو شدید سکیورٹی اور اقتصادی افراتفری میں دھکیل سکتی ہے۔

تجزیہ کار نے یہ بھی کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ امریکہ کے لیے بھی بحران پیدا کرے گا اور اس کے داخلی سیاسی حالات اور انتخابات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ تجزیہ کے اختتام میں کہا گیا کہ جنگ کا پھیلاؤ تمام فریقوں اور عالمی معیشت کے لیے طویل المدتی بھاری نقصان کا سبب بنے گا۔

الشرق الاوسط نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ عالمی بحران اب صرف معیشت کے لیے خطرہ نہیں رہے بلکہ عالمی اقتصادی ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ چھ برسوں میں دنیا تین بڑے بحرانوں کا سامنا کر چکی ہے: کورونا وبا، روس یوکرین جنگ، اور ایران، امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی۔ ان بحرانوں نے بالترتیب صحت، خوراک اور توانائی کے شعبوں کو متاثر کیا، تاہم بعض صنعتوں کے لیے بڑے مواقع بھی پیدا کیے۔

رپورٹ کے مطابق دفاعی صنعت سب سے بڑی فائدہ اٹھانے والی صنعت بن کر ابھری، کیونکہ یوکرین جنگ کے بعد کئی ممالک نے اپنے فوجی بجٹ میں اضافہ کیا اور عالمی عسکری اخراجات نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے۔ اسلحہ ساز کمپنیوں نے بھی بھاری منافع کمایا۔ اسی طرح جنگی خطرات میں اضافے کے باعث انشورنس انڈسٹری میں جہازوں اور بحری نقل و حمل کے بیمے کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔

مشاورتی کمپنیاں بھی کورونا کے دوران ترقی کرتی رہیں کیونکہ حکومتوں اور کمپنیوں کو بحران سے نمٹنے اور معیشت دوبارہ کھولنے کے لیے فوری حل درکار تھے۔ توانائی کے شعبے میں بھی کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھیں اور بحران زدہ علاقوں سے باہر موجود کمپنیوں کو فائدہ ہوا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بحرانوں نے سپلائی چین کے تصور کو بدل دیا ہے۔ کمپنیاں اب صرف لاگت میں کمی نہیں بلکہ مزاحمتی صلاحیت اور بحران کے دوران تسلسل برقرار رکھنے کو بھی اہمیت دے رہی ہیں کیونکہ لچک سے محروم کئی کمپنیاں مارکیٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔

الجزیرہ نے ایک اور تجزیہ میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے جغرافیائی سیاسی اثرات اور مشرق وسطیٰ کے مستقبل پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تجزیہ کار کے مطابق جنگ کا حتمی نتیجہ یہ طے کرے گا کہ جنگ کے بعد علاقائی نظم کون تشکیل دے گا۔ اگر امریکہ اور اسرائیل اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے تو موجودہ طاقت کا توازن برقرار رہے گا اور ایران ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر باقی رہے گا، جسے بعض عرب ممالک اسرائیل کی مکمل بالادستی سے کم نقصان دہ سمجھتے ہیں۔

تاہم اگر اسرائیل سیاسی کامیابی حاصل کرتا ہے تو عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل مزید پھیلے گا اور ثقافتی، تعلیمی اور میڈیا شعبوں تک بھی پہنچ جائے گا۔ تجزیہ کار کے مطابق خطے کا ڈھانچہ بدستور ایران، ترکی اور اسرائیل کی تین بڑی طاقتوں پر قائم رہے گا اور مشرق وسطیٰ تین قطبی نظام کی طرف بڑھے گا۔

تجزیہ میں اسٹیفن والٹ کے اتحاد کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے مصر، ترکی، سعودی عرب اور حتیٰ پاکستان جیسے عرب و اسلامی ممالک کے درمیان علاقائی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ اسرائیلی خطرات کو محدود کیا جا سکے اور ایران کی ممکنہ توسیع پسندی کو روکا جا سکے۔ تاہم تجزیہ کار نے نتیجہ اخذ کیا کہ داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کا سب سے قابل اعتماد راستہ ہے کیونکہ عرب دنیا اب بھی علاقائی توازن کی بحالی کے لیے مشترکہ منصوبے سے محروم ہے۔

چینی اور روسی میڈیا

روسی ویب سائٹ اسپوتنک نے مشرق وسطیٰ کے امور کے تجزیہ نگار فرہاد ابراہیموف سے گفتگو میں تہران کے خلاف واشنگٹن کے دباؤ میں اضافے کے مقاصد کا جائزہ لیا۔ ابراہیموف کے مطابق امریکی حکومت محدود حملوں اور فوجی دباؤ میں اضافے کے ذریعے ایران کو ایسے معاہدے پر جلد آمادہ کرنا چاہتی ہے جو واشنگٹن کے مفادات کے مطابق ہو۔

ان کے مطابق امریکہ کے حالیہ اقدامات زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہیں، تاہم وہ دونوں فریقوں کے درمیان پائیدار معاہدے کے امکانات کو انتہائی کمزور سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ ہو بھی جائے تو مستقبل میں اس کی خلاف ورزی کا امکان برقرار رہے گا کیونکہ دونوں کے درمیان گہرا عدم اعتماد اور ساختی مفادات کا ٹکراؤ موجود ہے۔

ابراہیموف نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امید کر رہے تھے کہ مئی کے وسط میں چین کے سرکاری دورے سے قبل مشرق وسطیٰ کی صورتحال امریکہ کے حق میں مستحکم ہو جائے تاکہ وہ بیجنگ کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل کر سکیں۔

چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی نئی تجویز؛ جنگ کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ اور بحری محاصرہ ختم کرنے کے عنوان سے رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے نئے مسودے میں تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی، ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت نہ ہونے کی ضمانت، اور امریکی پابندیوں و بحری محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

شنہوا کے مطابق تہران نے ابتدائی معاہدے کے بعد ایران کی تیل فروخت پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے آزاد کرنے کے لیے 30 روزہ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد پاکستان کے شہر اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری رہے، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں، جن میں ایرانی کمانڈروں اور اعلیٰ حکام کی ہلاکت ہوئی، نے موجودہ بحران کو مزید شدت دی۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر دیا۔

شنہوا کے مطابق حالیہ ہفتوں میں تہران اور واشنگٹن نے پاکستان کے ذریعے جنگ کے خاتمے کے لیے متعدد تجاویز اور پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔

روسی نشریاتی ادارے آر ٹی نے آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایٹم بم کی مانند ہے کے عنوان سے رپورٹ شائع کی، جس میں اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو تہران کے لیے سب سے بڑا جغرافیائی سیاسی دباؤ قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں ایران کے رہبر کے مشیر محمد مخبر کے حوالے سے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایٹم بم کے برابر ہے اور تہران حالیہ جنگ کے بعد اس خطے میں اپنی اسٹریٹجک کامیابیاں ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان محدود جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیج عمان میں دو ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور اسے ایران کے خلاف بحری محاصرے کا حصہ قرار دیا۔ دوسری جانب تہران نے ان حملوں کو بحری دہشت گردی قرار دیتے ہوئے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے کا الزام عائد کیا۔

اشا ٹوڈے نے لکھا کہ آبنائے ہرمز اب ایران کا سب سے اہم جغرافیائی سیاسی ہتھیار بن چکی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس برآمد ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈی کو شدید دھچکا پہنچا سکتی ہے۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کا مقصد بحری آزادی کو برقرار رکھنا اور ایران کے اثر و رسوخ کو اس اہم راستے پر مضبوط ہونے سے روکنا ہے۔

رپورٹ میں عالمی توانائی سلامتی پر خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ کئی تجزیہ نگار خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں بحران کے جاری رہنے سے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ اور عالمی معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی دوران ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی دباؤ جاری رہا تو وہ آبنائے ہرمز کے قانونی نظام پر نظرثانی کر سکتا ہے، جو کشیدگی کو مزید خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔

صہیونی میڈیا

ایک صہیونی میڈیا ادارے نے لکھا کہ ایران کے خلاف جنگ نے سستے ڈرونز کے مقابلے میں اربوں ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی افادیت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں اور اس نے مختلف ممالک کو اپنے عسکری خریداری پروگراموں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔

صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے ایران کے خلاف جنگ کے اسباق کے عنوان سے رپورٹ میں لکھا کہ میدانِ جنگ کے نتائج نے سنجیدہ تکنیکی نظرثانی کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی سستے ڈرونز ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے جدید ریڈار اور فضائی دفاعی نظام ناکارہ بنانے میں کامیاب رہے۔ اس کے علاوہ MQ-9 Reaper اور Hermes 900 سمیت کئی طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ڈرون بھی مار گرائے گئے۔

یروشلم پوسٹ نے لکھا کہ چین اس جنگ کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے اور ایران و امریکہ کے درمیان جنگی اخراجات کے عدم توازن کو اپنی فوجی جدید کاری کی حکمت عملی میں استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ میں جنگ رمضان کے دوران ایران کی حیران کن حکمت عملیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ جب ایک سستا خودکار ڈرون اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار نظام کو تباہ کر دیتا ہے تو ہر وزارت دفاع مہنگے ہتھیاروں کی افادیت پر سوال اٹھانے لگتی ہے۔

اخبار نے مزید کہا کہ اسلحہ خریداری کی حکمت عملی تیزی سے بڑے روایتی پلیٹ فارمز سے ہٹ کر خودکار نظاموں اور بڑی تعداد میں حملہ آور فرسٹ پرسن ڈرونز کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

ایک اور صہیونی میڈیا ادارے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ بیجنگ واشنگٹن کی خواہش کے مطابق تہران پر دباؤ ڈالنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

اسرائیل ہیوم نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ایران کا معاملہ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات میں بھی زیر بحث آئے گا کیونکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ چین تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کرے، تاہم بیجنگ ایسی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ اقتصادی معاہدوں میں امریکہ کے اتحادیوں جیسے تائیوان، جاپان اور جنوبی کوریا کے مفادات قربان ہو سکتے ہیں۔

اسرائیل ہیوم نے مزید لکھا کہ خلیجی عرب ممالک امریکہ کی جنگی حکمت عملی سے مطمئن نہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات میں ان کے مفادات نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال نے چین کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ایک صہیونی عہدیدار نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں صہیونی حکومت اپنی مالی حفاظتی گنجائش کھو چکی ہے اور اب اسے کفایت شعاری کی پالیسی اپنانا پڑ سکتی ہے۔

صہیونی اخبار گلوبز نے بجٹ کمیشن کے نائب سربراہ کے حوالے سے خبردار کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں اقتصادی صدمے کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور تل ابیب قرض، معیارِ زندگی اور سکیورٹی کے درمیان مشکل انتخاب کے دہانے پر کھڑا ہے۔

تمر لوی بونه نے رایخمن یونیورسٹی میں اقتصادی پالیسی کانفرنس کے دوران کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے اسرائیلی معیشت منفی رجحان کا شکار ہے۔

انہوں نے اوسط 2.6 فیصد شرح نمو، کریڈٹ ریٹنگ میں کمی اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کے تیزی سے بڑھتے تناسب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا مالی بوجھ تقریباً 358 ارب شیکل تک پہنچ چکا ہے۔

صہیونی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اسرائیل اپنی مالی حفاظتی حد کھو چکا ہے اور مستقبل میں کسی نئے بحران یا جنگ کی صورت میں فوری مالی وسائل فراہم کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق قرضوں پر سود کی لاگت 20 ارب شیکل سے تجاوز کر چکی ہے اور اس کا مالی دباؤ کئی وزارتوں کے بجٹ کے برابر ہے۔

لوی بونه نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل معیارِ زندگی کی عالمی درجہ بندی میں تنزلی کا شکار ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرض، فلاح اور سکیورٹی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ طور پر ٹریوما اکانومی جیسے ماڈل پر غور کرنا ہوگا، جیسا کہ جنگ یومِ کیپور کے بعد اختیار کیا گیا تھا، جہاں بجٹ کو جنگ اور بحران کے اثرات کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے۔

مشہور خبریں۔

آئی ایم ایف سے پاکستان ایک ارب 18 کروڑ ڈالر کی قسط کی منظوری کیلئے کوشاں

?️ 29 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)  پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر

سندھ: ڈی آئی جی کو سکرنڈ آپریشن میں 4 شہریوں کے قتل کی تحقیقات کی نگرانی کا حکم

?️ 16 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) سندھ ہائیکورٹ نے شہید بینظیر آباد پولیس کے ڈی

روپے کی قدر میں اضافے کے باوجود اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی

?️ 29 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں برس 5 ستمبر کے بعد سے ڈالر

امیر کویت کا بیٹا اس ملک کا وزیر اعظم مقرر

?️ 25 جولائی 2022سچ خبریں:کویت کے امیر نے اپنے بڑے بیٹے شیخ احمد نواف الاحمد

مغربی ممالک ہمیں شکست نہیں دے سکتے:روس

?️ 30 جون 2025 سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ مغرب

بھارتی پولیس تازہ کارروائیوں میں سوشل میڈیا صارفین کو نشانہ بنارہی ہے

?️ 21 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

ڈیموکریٹک ووٹرز بھی بائیڈن سے مایوس

?️ 11 جولائی 2022سچ خبریں:    پیر 10 جولائی کو جاری ہونے والے نیویارک ٹائمز/سینا

ایف بی آر نے نان فائلرز کیخلاف 14 اکتوبر کے بعد کارروائی کا عندیہ دیدیا

?️ 8 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے نان فائلرز کیخلاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے