?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد عالمی میڈیا نے اس کے وسیع سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک اثرات پر تفصیلی تجزیے شائع کیے ہیں، جن میں خطے کی طاقت کے توازن میں تبدیلی، توانائی بحران اور نئی عالمی صف بندی کو نمایاں کیا گیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ مغربی حکام اور امریکی میڈیا کے مطابق حملہ آور فریقین کو اسٹریٹجک ناکامی اور سیاسی و عسکری تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ جنگ، جس کا آغاز وسیع فضائی حملوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ہوا، جن میں معصوم طلبہ بھی شامل تھے، تیزی سے انسانی، سکیورٹی اور معاشی سطح پر ایک وسیع بحران میں تبدیل ہو گئی جس نے عالمی میڈیا میں مختلف ردعمل کو جنم دیا۔
دنیا کے مختلف میڈیا اداروں نے اپنے اپنے زاویہ نظر سے اس جنگ کی تصویر کشی کی ہے، جس کے ذریعے موجودہ صورتحال اور آئندہ کے امکانات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
برطانوی اور امریکی میڈیا
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تین ماہ کی جنگ نے خلیج کے عرب ممالک کی صورتحال کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے اور ان کے تحفظ کے تصور کو کمزور کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے حفاظتی ڈھال بننے کے بجائے انہیں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا ہدف بنا چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ نے اتحاد کے بجائے اختلافات کو مزید گہرا کیا ہے، جہاں امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اتحاد کو مزید مضبوط کیا، قطر نے مذاکرات میں ثالثی کا کردار اختیار کیا، سعودی عرب نے بیک وقت واشنگٹن سے روابط اور تہران کے ساتھ رابطہ کاری جاری رکھی جبکہ عمان نے آبنائے ہرمز سے متعلق خدمات کے معاوضے کے مطالبے سے امریکہ کو ناراض کر دیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک زلزلہ خیز تبدیلی پیدا کی، جس کے بعد امارات نے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور متبادل بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر سرمایہ کاری شروع کر دی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خطے کے دورے میں اتحادی ممالک کو تسلی دینے کی کوشش کی۔
امریکی جریدہ دی ہل نے ایران اور امریکہ کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں ایران کی شرکت اور اس کے سیاسی اثرات پر رپورٹ دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کو غیر معمولی سفری اور جغرافیائی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور اس پر لگائے گئے الزامات کو ایرانی فیڈریشن نے سختی سے مسترد کیا ہے۔
سی این این کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت جنگ کے خاتمے کی علامت ضرور ہے لیکن یہ مستقل امن نہیں بلکہ وقتی سیاسی وقفہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے تیزی سے تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے اثاثوں تک محدود رسائی اور تعمیر نو کے لیے ممکنہ فنڈز کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں، تاہم جوہری تنازع اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اب بھی بڑا چیلنج ہے۔
عربی میڈیا
عربی اخبار الشروق کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ ایک مرحلہ وار اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے، جو یا تو عارضی جنگ بندی، یا جزوی معاہدوں کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کے اثرات نہ صرف فریقین بلکہ خلیجی ممالک، ترکی، عراق، مصر اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں تک پھیل چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگ عالمی توانائی نظام کو متاثر کرنے کا باعث بنی، جس سے آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ نئی علاقائی سکیورٹی صف بندیاں بھی وجود میں آئیں۔
عمانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مشرق وسطیٰ ایک نئے سکیورٹی اور معاشی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں ایران اور امریکہ کی جنگ کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست مکمل طور پر تبدیل ہو رہی ہے۔
عربی 21 کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت کو اسرائیل میں گہری تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ خطے میں اسرائیل کے اثر و رسوخ میں کمی اور ایران کے کردار میں اضافے کا اشارہ ہے۔
چینی اور روسی میڈیا
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق امارات اور ایران کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور ایران و امریکہ کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد پر زور دیا تاکہ خطے میں کشیدگی ختم ہو سکے۔
روسی میڈیا رشیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران اور اسرائیل کا تنازع اب وقفے وقفے کی کشیدگی سے نکل کر مستقل اور براہ راست محاذ آرائی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس سے خطے میں روایتی دفاعی توازن کمزور ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوابی حکمت عملی کو زیادہ تیز اور سخت بنا دیا ہے اور اب وہ محدود ردعمل کے بجائے براہ راست اور فوری جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ اسی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹجک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔
رشیا ٹوڈے کے مطابق لبنان اس تنازع کا مرکزی میدان بنا ہوا ہے اور جب تک اسرائیل کی کارروائیاں جاری رہیں گی، خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے امکانات محدود رہیں گے۔


مشہور خبریں۔
بھارت پاکستان شطرنج؛ کس کا دماغ پڑھنا بہتر ہے؟
?️ 20 مئی 2025سچ خبریں: پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اسلامی جمہوریہ
مئی
شنگھائی تعاون تنظیم؛ ایک آزاد اور انسداد پابندیوں کے مالیاتی بلاک کی تشکیل
?️ 22 نومبر 2025سچ خبریں: شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن، جو کبھی علاقائی سلامتی کے طریقہ کار
نومبر
مغربی کنارے پر صیہونیوں کے وسیع حملے اور فلسطینیوں کی گرفتاریاں
?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: مغربی کنارے کے مختلف علاقوں بالخصوص جنین میں فلسطینیوں کے
دسمبر
کراچی: 8 ٹرینیں منسوخ، اوقات کار میں بھی تبدیلی
?️ 29 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں) کورونا وائرس کی لہر کے پیش نظر مسافروں کی
اپریل
لبنان کے پارلیمانی انتخابات میں سعودی نے کی نواف سلام کی حمایت
?️ 23 فروری 2022سچ خبریں: سعودی عرب نے لبنان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ
فروری
الجولانی حکومت نے شام کی جیلوں سے درجنوں غیر ملکی دہشت گردوں کو رہا کر دیا
?️ 7 اپریل 2025 سچ خبریں:مطلع ذرائع نے شام کی جیلوں سے دہشت گرد حکومت
اپریل
پیپلز پارٹی وفاق کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے عالمی امداد کی اپیل میں تاخیر پر حیران
?️ 13 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے سینیٹ
ستمبر
اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں پہلی بار 69 ہزار پوائنٹس کی حد عبور
?️ 8 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران تیزی
اپریل