ایران کے خلاف جنگ کے عالمی اثرات: امریکی اتحادیوں میں تشویش، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور سفارتی کوششیں تیز

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ کے عالمی اثرات نمایاں، خلیجی ممالک میں امریکی فوجی موجودگی پر تشویش، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور علاقائی سفارت کاری تیز ہو گئی۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں سلامتی، معیشت اور علاقائی سیاست سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، خلیجی ممالک امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، جبکہ ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان سمیت علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے بڑھا رہے ہیں۔

مختلف عالمی ذرائع ابلاغ نے اس جنگ کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے فوجی نقصانات، دفاعی بجٹ، توانائی کی برآمدات اور امریکہ کے علاقائی کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ان تجزیوں میں بعض مغربی حکام اور مبصرین نے جنگ کے اسٹریٹجک نتائج اور واشنگٹن کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق، صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے طریقۂ کار پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔

آئزنکوٹ اقتصادی دباؤ اور سفارت کاری کے امتزاج کے حامی ہیں، تاہم نیتن یاہو ایران کی موجودہ حکومت کے خاتمے پر اصرار کرتے رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق، نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات سے پہلے مشترکہ حملے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن واشنگٹن نے اس کی منظوری نہیں دی۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ جنگ کے بعد امریکہ مشرق وسطیٰ سے اپنی بیشتر فوج واپس بلا سکتا ہے۔

امریکی حکام اور علاقائی عہدیداروں کے مطابق، جنگ نے امریکہ پر اعتماد اور خطے میں اس کے روایتی سلامتی کے کردار کو متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ممکنہ طور پر اربوں ڈالر کے اخراجات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی ادارۂ مطالعات اسٹریٹجک کے تجزیے کے مطابق، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دفاعی اخراجات 2026ء میں بڑھ کر 228 ارب ڈالر ہو گئے۔

خلیجی ممالک کو فضائی دفاع اور میزائلوں کے ذخائر دوبارہ بڑھانے کے لیے مزید وسائل درکار ہو سکتے ہیں، جبکہ قطر کی مائع قدرتی گیس کی برآمدات میں نمایاں کمی اور بجٹ خسارے میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

عرب ذرائع ابلاغ

عرب ذرائع ابلاغ نے ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے تہران میں ہونے والے مذاکرات کو کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان تجزیوں کے مطابق، سعودی عرب اپنے واشنگٹن اور تہران کے ساتھ تعلقات استعمال کرتے ہوئے مذاکرات میں سہولت فراہم کر سکتا ہے، تاہم کسی معاہدے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

ممکنہ نتائج میں پائیدار معاہدہ، محدود مفاہمت یا مذاکرات کی ناکامی کے بعد مزید کشیدگی شامل ہیں۔

چینی اور روسی ذرائع ابلاغ

چینی اور روسی ذرائع ابلاغ نے بھی سفارتی سرگرمیوں کو نمایاں کیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں علاقائی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اضافے اور بوشہر جوہری بجلی گھر کی تعمیر جاری رہنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق، سفارتی رابطوں کی کامیابی کا انحصار عملی معاہدوں، باہمی اعتماد اور فریقین کے سلامتی سے متعلق خدشات دور کرنے پر ہوگا۔

 

 

 

مشہور خبریں۔

سندھ: سکرنڈ میں رینجرز کی کارروائی میں جرائم پیشہ افراد ہلاک، متعدد اہلکار زخمی

?️ 29 ستمبر 2023کراچی: (سچ خبریں) صوبہ سندھ میں بے نظیر آباد تعلقہ میں واقع

امریکہ اور اسرائیل ذلت کے ساتھ علاقے سے فرار ہو گئے: یمنی عہدیدار

?️ 2 نومبر 2025سچ خبریں:یمن کے حکومتی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے

کیا یہ جمہوریت ہے جو آپ کے ساتھ تو ٹھیک ورنہ غدار۔ بیرسٹر گوہر

?️ 1 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے

آگ سے کھیل رہے ہو؛حماس کا صیہونیوں سے خطاب

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:حماس کے ایک عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ

لبنانی صحافی: ٹرمپ نیتن یاہو تعلقات میں اختلافات کا مطلب اسرائیل کو سزا دینا نہیں ہے

?️ 10 مئی 2025سچ خبریں: لبنان کے ایک میڈیا کارکن نے ایک بیان میں کہا

ملکی سطح پر مہنگائی میں کمی نظر آرہی ہے

?️ 2 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں)تفصیلات کے مطابق ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ

آئین کی بالادستی کے بغیر پارلیمنٹ سمیت کوئی ادارہ نہیں چل سکتا، بلاول بھٹو

?️ 11 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

ایران کی شرائط میز پر؛ امریکہ کو طاقت کے نئے توازن کا سامنا

?️ 24 ستمبر 2026سچ خبریں:ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط واضح

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے