?️
سچ خبریں:امریکی امن منصوبے کے تحت سامنے آنے والا ٹونی بلر پلان غزہ میں ایک بین الاقوامی عبوری حکومت قائم کرنے کی تجویز دیتا ہے، جس کی سربراہی برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلر کریں گے، مبصرین کے مطابق یہ منصوبہ فلسطین پر برطانوی قیمومیت کی بحالی اور غزہ پر بیرونی تسلط کا نیا خاکہ ہے۔
غزہ کے انتظام سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے میں شامل ایک شق، جسے ٹونی بلر پلان کے نام سے شہرت ملی ہے، دراصل غزہ کی پٹی پر آہستہ آہستہ غیر ملکی قیمومیت (بین الاقوامی سرپرستی) مسلط کرنے کا منصوبہ ہے،کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد برطانوی قیمومیت کو ایک نئے سیاسی و قانونی فریم ورک میں دوبارہ زندہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا غزہ منصوبہ, عرب دنیا کے لیے ایک نیا امتحان
مئی 1948 میں برطانیہ کے ہائی کمشنر سر ایلن کننگھم نے فلسطین پر برطانوی قیمومیت کے خاتمے کے ساتھ ہی یہ علاقہ صہیونیوں کے حوالے کیا، آج اس کے77 سال بعد، جب امریکہ، برطانیہ اور مغربی طاقتوں کی پشت پناہی سے غزہ دو سالہ تباہ کن جنگ سے گزر چکا ہے، عالمی قوتیں ایک بار پھر اسی قیمومیت کو بین الاقوامی عبوری انتظامیہ کے نام سے زندہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔
جنگ بندی کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مصر، قطر، ترکی اور بعض عرب ممالک نے ایک عارضی بین الاقوامی حکومتی ڈھانچے کی تجویز پیش کی، جسے "GIT” (Gaza International Transitional Authority) یعنی غزہ بین الاقوامی عبوری اتھارٹی کہا جاتا ہے۔
اس منصوبے کے مطابق:
- اس اتھارٹی کی سربراہی برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلر کریں گے۔
- یہ ادارہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت تین سالہ عبوری مدت کے لیے قائم کیا جائے گا۔
- اس مدت میں یہ ادارہ غزہ کا سب سے اعلیٰ سیاسی و قانونی اختیار رکھے گا — قانون سازی، تقرریاں، پالیسی سازی اور انتظامی فیصلے سب اسی کے ہاتھ میں ہوں گے۔
ٹونی بلر پلان کی ساخت اور تفصیلات
١. بین الاقوامی کونسل (GIT Council):
یہ کونسل 7 تا 10 ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں ٹونی بلر صدر کے طور پر شامل ہوں گے۔ ارکان کا تقرر اقوام متحدہ کے ذریعے شریک ممالک کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
اس میں ایک فلسطینی نمائندہ، اقوام متحدہ کا ایک نمائندہ، اور چند مسلم شخصیات شامل ہوں گی تاکہ اسے علاقائی مقبولیت حاصل ہو سکے۔
٢. مرکزی دفاتر:
عبوری قیادت کا پہلا دفتر مصر کے علاقے العریش میں قائم ہوگا، جب کہ مرکزی دفتر اردن یا قاہرہ میں رکھا جائے گا۔
٣. ادارے اور ایجنسیاں:
- غزہ اقتصادی و سرمایہ کاری ادارہ: تمام اقتصادی نگرانی اور سرمایہ کاری منصوبوں کا ذمہ دار۔
- ایگزیکٹو آرگنائزیشن آف فلسطین: ایک علیحدہ انتظامی ادارہ جو فلسطینی اتھارٹی سے الگ ہوگا۔ یہ تعلیم، صحت، عدلیہ اور عوامی خدمات کے امور سنبھالے گا۔
- عدالتی کونسل: عرب یا فلسطینی جج کی سربراہی میں قائم ہوگی، جس میں 5 تا 7 قانونی ماہرین شامل ہوں گے۔
- یونٹ آف ایگزیکٹو پروٹیکشن: جی آئی ٹی کی قیادت، دفاتر اور سفارتی سرگرمیوں کے تحفظ کی ذمہ دار۔
- بین الاقوامی سکیورٹی فورس: ایک کثیرالقومی فوجی ڈھانچہ، جس کا مقصد غزہ میں مزاحمتی گروہوں کی واپسی روکنا ہوگا۔
٤. مالی و سلامتی ڈھانچہ:
اس منصوبے میں سالانہ بجٹ 90 ملین ڈالر سے شروع ہو کر 164 ملین ڈالر تک بڑھانے کی تجویز ہے۔
سکیورٹی کمشنر کے اختیارات میں فلسطینی پولیس، بین الاقوامی فورس، اور حفاظتی یونٹوں کی نگرانی شامل ہوگی۔
فلسطینی خودمختاری کا خاتمہ؟
ٹونی بلر کا منصوبہ اگرچہ "عبوری” اور "اصلاحاتی” حکومت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، مگر اس میں اقتدار کی منتقلی کا کوئی واضح وقت نہیں دیا گیا۔
اقتدار کی منتقلی کو فلسطینی اتھارٹی کی کارکردگی سے مشروط کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عبوری قیمومیت لامحدود مدت تک جاری رہ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غزہ کو ایک نیم نوآبادیاتی خطے میں تبدیل کر دے گا، جہاں فیصلے فلسطینیوں کے نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں ہوں گے۔
برطانوی اہداف: ایک نیا قیمومتی نظام
سیاسی مبصرین کے مطابق، برطانیہ اس منصوبے کے ذریعے اپنی تاریخی قیمومیت کو نئی شکل میں زندہ کرنا چاہتا ہے۔
غزہ کی تعمیرنو کے نام پر ایک بین الاقوامی حکومت قائم کر کے، مغربی طاقتیں فلسطینی مزاحمت کو کمزور، اور سیاسی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا غزہ منصوبہ ایک تباہی ہے:برطانوی اخبار
تاہم، معاہدے کے اگلے مراحل اور جنگ بندی کی عملی صورت ہی یہ طے کرے گی کہ آیا ٹرمپ کا امن منصوبہ اور تونی بلر کی قیمومیت حقیقت بن پاتی ہے یا نہیں۔


مشہور خبریں۔
غزہ کے ہسپتال پر وحشیانہ حملے کے بعد مسلمان حکومت کس چیز کی منتظر ہیں ؟
?️ 18 اکتوبر 2023سچ خبریں:غزہ کے المعمدانی اسپتال میں صیہونی حکومت کی جانب سے کیے
اکتوبر
عراق کے مصائب کے ذمہ دار امریکہ اور انگلستان
?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں: بحرین کے اخبار الخلیج نے عراق اور مغربی رابطے
ستمبر
بجٹ دستاویزات پر وزیر خزانہ کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 22 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) 24 جون کو شیڈول اختتامی خطاب کا انتظار کیے
جون
آرمی چیف سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق
?️ 17 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن
اپریل
ٹرمپ اور ان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے درمیان ایران کے معاملے پر ڈیوڈ کیمپ میں گھنٹوں بحث کیا ہوا ؟
?️ 10 جون 2025سچ خبریں: خبررساں ویب سائٹ Axios کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور
جون
شہباز شریف کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے :شیخ رشید
?️ 16 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو
مئی
ملک میں 78 سال سے بہت واقعات ہوئے، غلطیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔ خواجہ آصف
?️ 9 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ
فروری
اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر سیکڑوں صیہونی سرگرداں، فرار کی لہر میں تیزی
?️ 30 مارچ 2026سچ خبریں:ایرانی حملوں کے خوف کے باعث صیہونیوں کے انخلا میں اضافہ،
مارچ