افغانستان ایک بار پھر لہولہان، درجنوں افراد ہلاک اور زخمی جبکہ متعدد مکانات تباہ ہوگئے

افغانستان ایک بار پھر لہولہان، درجنوں افراد ہلاک اور زخمی جبکہ متعدد مکانات تباہ ہوگئے

?️

کابل (سچ خبریں) افغانستان میں اگرچہ ایک عرصے سے امن برقرار کرنے کو کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اس دوران امن تو قائم نہیں ہوا لیکن سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں افراد بے گھر بھی ہوئے ہیں، لیکن کیا یہ حملے بند ہوں گے یا مزید افراد کو اس خطرناک دہشت گردی میں اپنی جانیں قربان کرنی ہوں گی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں کار بم دھماکے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 47 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ایک درجن سے زیادہ مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی ہسپتال کے ترجمان رفیق شیرزئی نے بتایا کہ جمعے کی شب ہونے والے دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، اس دھماکے سے 14 مکانات بھی تباہ ہوئے۔

افغانستان کے وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائین نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک اور زخمی ہونے والوں میں 11 زخمی افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں جبکہ دیگر میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہیں، ابھی تک کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

حملے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نیویارک میں ایک پریس بریفنگ میں افغانستان میں حملوں میں خطرناک اضافے کی مذمت کی جس میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ طالبان اور افغان حکومت نے ایک بار قطر میں مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔

سلامتی کونسل نے کہا کہ ان گھناؤنے حملوں میں سرکاری ملازمین، عدلیہ، میڈیا، صحت ورکرز، نسلی اور مذہبی اقلیتوں سمیت انسانی حقوق کے رضاکاروں بشمول نمایاں عہدوں پر رہنے والی خواتین، انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ دینے والے کو نشانہ بنایا گیا۔

داعش نے متعدد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ طالبان اور حکومت نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امن معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو سبوتاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مذاکرات کی سست رفتار اور بڑھتے ہوئے تشدد کے مدنظر امریکا نے امن پر عمل پیرا ہونے کی پیشکش کی جو گزشتہ ہفتے کے آخر میں سامنے آئی تھی۔

توقع کی جاتی ہے کہ دونوں فریقین آٹھ صفحات پر مشتمل اس منصوبے پر نظرثانی کریں گے جو امریکا نے ترکی میں ہونے کی تجویز پیش کی ہے۔

اس دوران امریکا ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے ساتھ طے شدہ امن معاہدے پر نظرثانی کر رہا ہے جس میں یکم مئی تک افغانستان سے بقیہ 2500 امریکی فوجیوں کے حتمی انخلا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

متحدہ عرب امارات میں امریکی ایف22 لڑاکا طیارے تعینات

?️ 15 فروری 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات کی جانب سے یمنی حملوں کو روکنے کے

یمنیوں کا جنوبی سعودی عرب پر حملہ، درجنوں سعودی فوجی ہلاک

?️ 21 اکتوبر 2021سچ خبریں:سعودی ذرائع ابلاغ نے سعودی ذرائع کے حوالے سے خبر دی

ہمارے پاس دشمن پر مزید حملوں کا منصوبہ ہے: یمن

?️ 22 مارچ 2024سچ خبریں:یمنی انقلاب کے رہنما عبدالملک بدر الدین الحوثی نے کہا کہ

افغان لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ناقابل معافی ہے:70 ممالک

?️ 21 مارچ 2023سچ خبریں:دنیا کے 70 سے زائد ممالک اور یورپی یونین نے مشترکہ

تعمیراتی منصوبوں میں خورد برد کیس: عدالت کا فواد چوہدری کو رہا کرنے کا حکم

?️ 1 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جہلم پنڈ دادن خان

سعودی عرب اور امریکہ جلد دفاعی معاہدے پر دستخط کریں گے

?️ 17 اکتوبر 2025سچ خبریں: مغربی ذرائع نے ایک قریب آنے والے معاہدے کی اطلاع

مائیک ہکابی اسرائیل میں امریکی سفیر منتخب

?️ 13 نومبر 2024سچ خبریں: نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا

واشنگٹن نے تل ابیب کو غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے

?️ 3 دسمبر 2025 واشنگٹن نے تل ابیب کو غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے