ایران کے خلاف جنگ نے خلیجی ممالک کی معیشتوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے: نیویارک ٹائمز

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف جاری جنگ اور یمن میں بڑھتی کشیدگی نے خلیج فارس کے ممالک کی تجارتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کو متاثر کیا ہے، جبکہ سیاحت، ٹیکنالوجی اور تیل پر انحصار کم کرنے کے منصوبے بھی خطرے سے دوچار ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ نویں ماہ میں داخل ہونے اور یمن میں جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورت حال نے تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت، ٹیکنالوجی اور تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں اقتصادی تنوع پیدا کرنے کے منصوبوں کو بھی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

رپورٹ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مجموعی معیشت رواں سال 5 فیصد سکڑ سکتی ہے۔ کویت، بحرین اور قطر میں یہ شرح 10 فیصد سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے، کیونکہ ان ممالک کی توانائی کی برآمدات کا تقریباً مکمل انحصار آبنائے ہرمز پر ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے بھی اتوار کو اعلان کیا کہ رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ملک کی معیشت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.8 فیصد سکڑ گئی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ تیل کے شعبے کی سرگرمیوں میں 20.4 فیصد گراوٹ بتائی گئی ہے۔

فضائی نقل و حمل اور سرمایہ کاری متاثر

نیویارک ٹائمز کے مطابق، جنگ کے اثرات سعودی عرب کے فضائی نقل و حمل کے شعبے پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ سعودی فضائی کمپنی ریاض ایئر کو بین الاقوامی مسافروں کو ایک متبادل ہوائی اڈے سے بسوں کے ذریعے منتقل کرنا پڑ رہا ہے، جو کمپنی کے متاثرہ مرکزی آپریشنل مرکز سے ساڑھے چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

اسی طرح سعودی عرب کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس بھی اگلے سال تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں آرامکو کے صدر دفتر اور ایک اہم تیل پائپ لائن پر حملے کے علاوہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو لاحق خطرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آمدورفت گزشتہ سال کی سطح سے اب بھی کم ہے، جبکہ بعض بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے خطے کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔

اخبار کے مطابق، سکیورٹی خدشات کے باعث ایکسن موبل کے چیف ایگزیکٹو نے بھی ابوظبی میں پیر سے شروع ہونے والی توانائی کانفرنس دیپیک میں شرکت نہیں کی۔

دبئی میں عالمی کریڈٹ ریٹنگ ادارے موڈیز کے نائب صدر اوریلیئن مالی نے کہا کہ سیاحت، فضائی نقل و حمل، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے اعتماد میں کمی سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، عدم اعتماد کی صورت حال طویل ہونے سے خطے کے غیر تیل پر مبنی اقتصادی ماڈل کو نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ ماڈل بنیادی طور پر سلامتی اور استحکام پر انحصار کرتا ہے۔

تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستوں کی تلاش

رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی ترسیل کرنے والی پائپ لائنوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔ تاہم، جنگ طویل ہونے کی صورت میں علاقائی حکومتوں کو متبادل برآمدی راستوں کی تعمیر اور فوجی اخراجات میں اضافے کے لیے مزید مالی وسائل مختص کرنا پڑ سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے بھی بندرگاہوں اور متبادل پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری بڑھا کر آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار صفر تک لانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ عمان رواں سال خطے کی واحد معیشت ہوگی جس کی شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کرے گی۔ 2025 میں عمان کی اقتصادی ترقی 2.4 فیصد رہی تھی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز پر وسیع انحصار کے بغیر بحیرۂ عرب کے راستے برآمدات کا امکان اس مثبت پیش گوئی کی اہم وجوہات قرار دی گئی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے منصوبے بھی خطرے میں

نیویارک ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے اثرات خلیجی ممالک کے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ سال اس شعبے میں مجموعی طور پر 120 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ابتدائی دنوں میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ڈیٹا سینٹرز پر حملوں کے بعد نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے مقامات کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنے اور میزائلوں و ڈرون حملوں سے تحفظ کے لیے بعض تنصیبات زیرِ زمین تعمیر کرنے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس کے باوجود بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 2027 میں علاقائی معیشتوں کی بحالی کی پیش گوئی کی ہے۔ ادارے کے مطابق، اگر جنگ بتدریج کم ہوتی ہے اور توانائی کا شعبہ جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آتا ہے تو سعودی عرب کی معیشت 7.9 فیصد جبکہ قطر کی معیشت 18.8 فیصد ترقی کر سکتی ہے۔

تاہم، آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ جنگ کے اقتصادی اثرات کے حوالے سے اب بھی انتہائی غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔

مشہور خبریں۔

بجلی صارفین کے لیے مختلف سلیب متعارف

?️ 3 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں) بجلی صارفین کیلئے 10 سلیب متعارف‘ ہر سلیب کے مختلف

سیاسی دباؤ کے درمیان ٹرمپ کے یوکرین مذاکرات سے دستبردار ہونے کا امکان 

?️ 13 فروری 2026 سچ خبریں:امریکی جریدے دی اٹلانٹک کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ

حکومت پنجاب کا 6 ڈویژن میں جمعے، ہفتے کو تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

?️ 23 نومبر 2023لاہور: (سچ خبریں) نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے صوبے میں

شمالی امریکی ملک میکسیکو میں پولیس قافلے پر حملہ، ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے

?️ 20 مارچ 2021میکسیکو (سچ خبریں) شمالی امریکی ملک میکسیکو میں پولیس قافلے پر نامعلوم

غزہ میں امدادی تنظیموں کے سب سے بڑے چیلنج کیا ہیں؟

?️ 27 دسمبر 2025سچ خبریں:  غزہ میں غیر سرکاری تنظیموں کے ریلیف نیٹ ورک کے ڈائریکٹر

مقبوضہ کشمیر :بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں1989سے اب تک 96ہزار290سے زائد کشمیری شہید

?️ 7 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ

یمنی فوج کا جیزان میں سعودی جارح ٹھکانوں پر میزائل حملہ

?️ 25 دسمبر 2021سچ خبریں:  یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحیی ساری نے کہا کہ خدا

‏پاناما پیپرز نے دنیا کے بڑے کرپٹ لوگوں کے بیرون ملک چھپائے اثاثوں کو بے نقاب کیا

?️ 3 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے