63 فیصد صیہونی طلباء تعلیم ترک کرنے کے خواہاں

63 فیصد صیہونی طلباء تعلیم ترک کرنے کے خواہاں

?️

سچ خبریں:صیہونی ریاست میں کیے جانے والے حالیہ سروے کے نتائج نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ 63 فیصد صہیونی طلباء تعلیم ترک کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

الجزیرہ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ایک حالیہ سروے کے نتائج نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ 63 فیصد صہیونی طلباء تعلیم کو خیرباد کہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اکنامک گلوب میڈیا نے صہیونی سائنسی مراکز کے خلاف خطرے کی گھنٹی بجائی

اس سروے میں خاص طور پر ایک سال سے جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں مختلف محاذوں پر پھیلی کشیدگی کے اثرات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ روزنامہ معاریو نے شائع کی، جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ بڑی تعداد میں صہیونی طلباء تعلیم چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سروے کے مطابق، صہیونی طلباء میں ترک تعلیم کی یہ بڑھتی ہوئی خواہش تعلیمی نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

اس رپورٹ کے ذریعے ماہرین نفسیات نے ان طلباء میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل، تعلیمی مشکلات اور سخت ذہنی حالات کے بارے میں بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی اور جنگ کے حالات کے نتیجے میں طلباء کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے، اور یہ ایک نہایت ہی فکر انگیز مسئلہ ہے۔

سروے کے نتائج، جو مقبوضہ علاقوں میں پبلک مینٹل ہیلتھ انسٹیٹیوشنز کی جانب سے نومبر کے اوائل میں مرتب کیے گئے، نے مزید ظاہر کیا کہ 64 فیصد ماہرین نفسیات نے جنگی حالات کی وجہ سے اپنے پاس نفسیاتی مسائل کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔

اس سروے کے مطابق، 61 فیصد مریضوں نے بتایا کہ انہیں ماہرین نفسیات سے مشورہ لینے کے لیے کم از کم چھ ماہ کا طویل انتظار کرنا پڑا، جبکہ 12 فیصد مریضوں نے کہا کہ ان کا انتظار ایک سال سے زائد کا رہا۔

سروے کے نتائج میں واضح کیا گیا ہے کہ صہیونی طلباء کو نفسیاتی مراکز میں بھیجے جانے کی سب سے بڑی وجوہات میں جنگی خدشات، عدم توجہ، ڈپریشن اور جنگی دباؤ شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق، 76 فیصد طلباء جنہوں نے نفسیاتی مشاورت حاصل کی، انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے مسائل میں فوج کی جانب سے جبری بھرتی کے مطالبات، مسلسل خطرے کی گھنٹیاں اور جنگ میں زخمی یا جاں بحق ہونے والے صہیونیوں کے ساتھ نزدیکی تعلقات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: طلباء تحریک کس چیز کی علامت ہے؟ لبنانی یونیورسٹی پروفیسر

رپورٹ کے مطابق، 63 فیصد طلباء ترک تعلیم کے بارے میں غور کر رہے ہیں، جبکہ 10 فیصد طلباء نے اپنی تعلیم کو مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔

اس صورتحال کے تحت صہیونی معاشرے میں تعلیمی اور نفسیاتی مسائل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

شہریوں کو پہلے سے زیادہ احتیاط کرنا ہوگی: عثمان بزدار

?️ 23 جولائی 2021لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کورونا کی چوتھی لہر

ہندوستان غزہ کی نسل کشی میں صہیونیوں کا ساتھی کیوں بنا؟

?️ 3 جولائی 2024سچ خبریں: حالیہ دنوں میں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے دوران

عمران خان کو تھکی ہوئی اپوزیشن ملی ہے: وزیر داخلہ

?️ 19 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر،وزیر داخلہ نے کہاکہ یہ عمران خان

فلسطین کی آزادی تک مسلح کاروائیاں جاری رہیں گی:حماس

?️ 26 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطینی کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے صیہونیوں کو انتباہ دیتے

حکومتی اتحاد میں اختلافات‘ پیپلزپارٹی کا اظہار ناراضگی

?️ 4 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں) حکمران اتحاد کی دو سب سے بڑی شراکت دار مسلم

ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہیں گے:یمنی عہدیدار

?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے رکن نے کہا کہ ہمارے

لیول پلیئنگ فیلڈ تو کیا ہمیں فیلڈ ہی نہیں دی گئی، بلا چھین لیا گیا، بیرسٹر گوہر

?️ 28 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے

وزیرداخلہ شیخ رشید نے پنجاب میں2 ماہ کیلئے رینجرز تعینات کرنے کا اعلان کردیا ہے

?️ 27 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق آج اسلام آبار میں پریس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے