?️
2025 صنعا اور تحریکِ انصاراللہ کے اقتدار کا سال
سال 2025 یمن کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا، جس نے اس محصور ملک کو خطے میں عملی مزاحمت کی علامت بنا دیا۔ تحریکِ انصاراللہ کی قیادت میں یمنی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں کی گہرائی میں ہوشیارانہ کارروائیوں اور امریکا و صہیونی بحری بیڑوں کے خلاف مؤثر بحری بازدارندگی کے ذریعے یہ ثابت کر دیا کہ قومی ارادہ اور اسٹریٹجک بصیرت دشمن کی عسکری برتری پر غالب آ سکتی ہے۔
2025 جدید یمن کی تاریخ اور علاقائی و عالمی معادلات میں اس کے مقام کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس برس یمنی مسلح افواج نے میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور غیر متوازن جنگی حکمتِ عملیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محورِ مزاحمت کے ایک فعال بازو کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کی اور خطے کی پیش رفت پر یمن کے عملی و اسٹریٹجک اثر کو نمایاں طور پر بڑھایا۔
یہ سال اس حقیقت کا مظہر بنا کہ قومی ہم آہنگی اور دانشمندانہ حکمتِ عملی عالمی طاقتوں کے مقابل بھی واقعات کا رخ محورِ مزاحمت کے حق میں موڑ سکتی ہے اور دشمنوں کو مہنگے اور غیر مؤثر ردِعمل پر مجبور کر سکتی ہے۔
عملی سطح پر، یمنی افواج نے مقبوضہ علاقوں میں گہرائی تک حملے کر کے صہیونی حکومت کے نام نہاد محفوظ حصار کو توڑ دیا۔ جدید میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حساس اور اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے والی ان کارروائیوں نے نہ صرف فلسطینی مزاحمت کے ساتھ عملی یکجہتی کا پیغام دیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ یمن کی عسکری صلاحیت دشمن کو کسی بھی مقام پر جواب دینے کی طاقت رکھتی ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں صہیونی حکومت پر دفاعی اخراجات کا بوجھ بڑھا اور مختلف محاذوں پر بیک وقت دفاعی نظام استعمال کرنا پڑا، جو ان کارروائیوں کے نفسیاتی اور عملی اثرات کا ثبوت ہے۔ اس سے فلسطینی مزاحمت کا حوصلہ بھی بلند ہوا اور یہ واضح ہوا کہ فلسطین کی حمایت محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ میدان میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسی دوران یمن نے بحری محاذ کو دشمنوں کے خلاف ایک اسٹریٹجک بازدار ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ بحری ڈرونز، اینٹی شپ میزائلوں اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں امریکی اور صہیونی بحری بیڑوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کی اہم تجارتی اور عسکری گزرگاہیں متاثر ہوئیں۔
ان کارروائیوں نے امریکا اور صہیونی حکومت کو بحری راستوں کے تحفظ کے لیے اضافی وسائل اور افواج تعینات کرنے پر مجبور کر دیا اور یہ ثابت ہوا کہ محورِ مزاحمت کی بازدار طاقت روایتی عسکری قوتوں سے کہیں زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ یہ کارکردگی محدود وسائل کے ذریعے وسیع اسٹریٹجک نتائج حاصل کرنے کی ایک واضح مثال تھی۔
ان پیش رفتوں کے جواب میں امریکا اور صہیونی حکومت نے فضائی حملوں اور یمنی کمانڈروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کیں، مگر یہ اقدامات انصاراللہ کی عملی صلاحیت کو کم کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس، ان حملوں نے داخلی اتحاد اور عوامی حمایت کو مزید مضبوط کیا۔
غیر فوجی اہداف اور بنیادی ڈھانچے پر صہیونی حملوں نے اس حکومت کی اسٹریٹجک ناکامی کو نمایاں کیا، جبکہ امریکا کی جانب سے یمنی بحری اور میزائل کارروائیوں کو روکنے کی کوششیں بھی میدانِ جنگ کی پیچیدگی اور یمنی افواج کی ابتکار کے باعث ناکام ثابت ہوئیں۔
داخلی محاذ پر، 2025 میں یمن کے جنوب اور مشرق میں ہونے والی پیش رفت بھی اہم رہی۔ جنوبی عبوری کونسل نے اماراتی حمایت اور امریکا و صہیونی حکومت کی ضمنی ہم آہنگی کے ساتھ حضرموت اور المہرہ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کا مقصد یمن کو تقسیم کرنا اور محورِ مزاحمت کے کردار کو کمزور کرنا تھا۔
تاہم تحریکِ انصاراللہ نے قومی وحدت پر زور دے کر اور علیحدگی پسند منصوبوں کا مقابلہ کر کے یہ واضح کیا کہ داخلی اتحاد اور قومی ارادہ دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا سکتا ہے اور فلسطین کی عملی حمایت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
ان تمام پیش رفتوں کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی نمایاں رہے۔ یمن کی کامیاب کارروائیوں نے خطے میں جارح طاقتوں کے روایتی تصور کو چیلنج کیا اور یہ ثابت کیا کہ صرف عسکری طاقت کے بل بوتے پر اقوام اور مزاحمتی تحریکوں کی مرضی کو دبایا نہیں جا سکتا۔
انصاراللہ کی داخلی مشروعیت میں اضافہ اور قومی اعتماد کی مضبوطی نے خطے کی دیگر اقوام اور مزاحمتی تحریکوں کو یہ پیغام دیا کہ شدید دباؤ اور محاصرے کے باوجود بھی معادلات بدلے جا سکتے ہیں۔
سال 2025 نے یہ بھی ثابت کیا کہ انصاراللہ کی قیادت میں یمن بیک وقت داخلی اور علاقائی بحرانوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ گہرائی میں عسکری کارروائیاں، بحری جنگ، فلسطینی مزاحمت کے ساتھ ہم آہنگی اور علیحدگی پسند منصوبوں کا مقابلہ—یہ سب اسٹریٹجک بصیرت اور فیصلہ سازی کی اعلیٰ صلاحیت کا ثبوت ہیں۔
مجموعی طور پر، 2025 یمن اور محورِ مزاحمت کے لیے ایک تاریخی اور فیصلہ کن سال رہا۔ یمنی مسلح افواج کی عملی قوت، بحری کارروائیوں کی مؤثریت، داخلی اتحاد اور فلسطین کی عملی حمایت نے یہ دکھا دیا کہ عالمی عسکری طاقتوں اور ان کے علاقائی اتحادیوں کے مقابل بھی قومی سلامتی، علاقائی اثر و رسوخ اور مؤثر بازدارندگی ممکن ہے۔
انصاراللہ کی قیادت میں یمن اس سال عملی مزاحمت، اسٹریٹجک دانش اور قومی ارادے کی علامت بن کر ابھرا، جس کے نتیجے میں محورِ مزاحمت مضبوط ہوا، صہیونی حکومت کے خلاف بازدارندگی بڑھی اور امریکا و اس کے اتحادیوں کی ناکامی مزید عیاں ہو گئی۔ 2025 کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مغربی ایشیا کا مستقبل پہلے سے زیادہ اقوام اور مزاحمتی تحریکوں کے ہاتھ میں ہے، اور یمن اس راستے کا ایک کلیدی اور فیصلہ کن کھلاڑی بن چکا ہے۔


مشہور خبریں۔
35 سال بعد شیخ اسیران جنین کی رہائی
?️ 30 مئی 2025سچ خبریں:فلسطینی مجاہد رائد سعدی المعروف شیخ اسیران جنین 35 سال بعد
مئی
امیر جماعت اسلامی کا حکومت کو انتباہ
?️ 2 اگست 2024سچ خبریں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ
اگست
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے
?️ 17 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارتی دہشت گرد فوج گذشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ
اپریل
دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بند کمروں سے نکل کر فیصلے کرنا ہوں گے: سہیل آفریدی
?️ 12 نومبر 2025پشاور: (سچ خبریں) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے
نومبر
فرانس کی صورتحال اور مغربی ممالک کے انسانی حقوق کے کھوکھلے دعوے
?️ 8 جولائی 2023سچ خبریں: مغربی ممالک کے پاپولزم اور عدم تشدد کے نعرے دوسرے
جولائی
غزہ میں بھوک اور جنگ سے بچوں کی ہلاکتون کے بارے میں اقوام متحدہ کا لرزہ خیز انکشاف
?️ 14 اگست 2025غزہ میں بھوک اور جنگ سے بچوں کی ہلاکتون کے بارے میں
اگست
نیپرا نے بجلی کا فی یونٹ 4 روپے 74 پیسے مہنگا کردیا ہے
?️ 9 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نیپرا نے بجلی کا فی یونٹ 4 روپے
دسمبر
صیہونی حکومت کی غنڈہ گردی کے خلاف حزب اللہ کی مقاومت جائز
?️ 25 نومبر 2021سچ خبریں: اسلامی مقاومتی تحریک حماس کے ترجمان عبداللطیف القانو نے آسٹریلیا
نومبر