?️
سچ خبریں: اسرائیلی فوج میں افرادی قوت کی شدید کمی اور حریدی (انتہائی مذہبی یہودیوں) کو لازمی فوجی خدمت میں شامل کرنے کے فیصلے پر جاری احتجاج کے ساتھ ہی یہ بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ایک سخت گیر ربی کی جانب سے اسرائیلی آرمی چیف پر سخت لفظی حملے نے سیاسی اور فوجی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جس سے لازمی فوجی خدمت سے متعلق اندرونی اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 11 (کان) کے مطابق حریدی افراد کو فوج میں بھرتی کرنے کی پالیسی کے خلاف احتجاج کے دوران بنی براک شہر میں مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔ مظاہرین نے اسرائیلی آرمی چیف “ایال زمیر” کے خلاف سخت نعرے بازی کی، جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
مظاہرین نے ہائی وے نمبر 4 بلاک کر دی اور مقبوضہ یروشلم (القدس) میں بھی ٹریفک اور نظام زندگی متاثر ہوا۔ اس دوران بعض مظاہرین نے اسرائیلی میڈیا کے صحافیوں، جن میں چینل 11 اور 13 کے رپورٹرز شامل تھے، پر بھی حملہ کیا۔
ربی کا سخت بیان اور سیاسی ردعمل
سفاردی حریدی برادری کے معروف ربی “آریہ یزدی” نے احتجاجی مظاہرے کے دوران آرمی چیف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج مذہبی اقدار کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے ایال زمیر کو سخت الفاظ میں “ملعون آرمی چیف” قرار دیا۔
ان کے اس بیان کے وقت شاس پارٹی کے چار اراکین بھی مظاہرے میں موجود تھے اور انہوں نے اس کی حمایت کی۔
یہ بیان اسرائیلی سیاسی و عسکری حلقوں میں شدید غصے کا باعث بنا۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان ریمارکس کو “شرمناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کے باوجود فوج اور اس کے کمانڈرز کے خلاف اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے۔
شاس پارٹی کی وضاحت
شاس پارٹی نے بعد میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے ربی آریہ یزدی کے بیانات سے لاتعلقی اختیار کی اور کہا کہ یہ ان کے مذہبی رہنماؤں یا جماعتی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے۔
اپوزیشن کا سخت ردعمل
اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حریدی عناصر عوام کو فوج کے خلاف اکسا رہے ہیں جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
سابق آرمی چیف “گادی آئزنکوت” نے بھی ان حملوں کو “ریڈ لائن” عبور کرنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ یہ سب سیاسی تقسیم اور نفرت کے بڑھنے کا نتیجہ ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر جنگ اور موجودہ اپوزیشن رہنما “آویگدور لیبرمن” نے اس واقعے کو “اسرائیل کی شرمناک صورتحال” قرار دیا اور کہا کہ حکومت اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے قومی سلامتی کو قربان کر رہی ہے۔
وزیر جنگ کا ردعمل
اسرائیلی وزیر جنگ “اسرائیل کاتس” نے آرمی چیف اور فوجی قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کو خطرناک اور ناقابل قبول قرار دیا۔
حریدی رہنماؤں کا مؤقف
دوسری جانب شاس کے روحانی پیشوا ربی اسحاق یوسف نے حریدی طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی طالب علم کو گرفتار کیا گیا تو تمام حریدی افراد احتجاجاً خود کو جیل کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حریدی طلبہ کو تعلیم سے روکنا اسرائیل کی ناکامی اور فوجی نقصان کا سبب بنے گا۔
فوجی بحران کی اصل وجہ
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج شدید افرادی قلت کا شکار ہے۔ عدالتی اور فوجی ذرائع کے مطابق فوج کو فوری طور پر ہزاروں اضافی اہلکاروں کی ضرورت ہے، جبکہ تقریباً 12 ہزار اہلکاروں کی کمی پہلے ہی تسلیم کی جا چکی ہے۔
فوجی کمانڈروں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ لازمی فوجی مدت میں توسیع بھی اس کمی کو پورا کرنے میں ناکام ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کے جاری رہنے کے باعث فوج پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
بڑھتی ہوئی مشکلات
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج میں بھرتی سے فرار، زخمی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اور ذہنی صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق کئی فوجی جنگی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے خدمات چھوڑ رہے ہیں۔
اخبار “ہاآرتص” نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ فوج چھوڑنے کے کئی واقعات جنگ سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن حکومت عوامی ردعمل کے خوف سے مکمل اعداد و شمار ظاہر نہیں کر رہی۔
نتیجہ
اس طرح اسرائیل میں لازمی فوجی خدمت کا مسئلہ صرف ایک انتظامی بحران نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی، مذہبی اور سماجی تنازع بن چکا ہے، جو فوجی ادارے اور حکومت دونوں کے لیے سنگین چیلنج پیدا کر رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی میڈیا کو بھی اپنی غیر قانونی ریاست کی تباہی کا یقین
?️ 25 جون 2023سچ خبریں:عبرانی میڈیا نے مقبوضہ علاقوں کے موجودہ حالات کو پیچیدہ ایام
جون
امریکہ کثیر الجہتی تجارتی نظام کا سب سے بڑا تباہ کن
?️ 12 اپریل 2025سچ خبریں: چین اور امریکہ کے درمیان باہمی محصولات پر حالیہ بڑھتی
اپریل
پنجاب کابینہ؛ ملازمین کی بیواؤں کو تاحیات پنشن دینے کی منظوری
?️ 5 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب کی کابینہ کے اجلاس میں صنعتی کارکنوں کے
اگست
اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں تلاش کرنے میں تاخیر کی ذمہ داری نتن یاہو پر ہے
?️ 18 اکتوبر 2025اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں تلاش کرنے میں تاخیر کی ذمہ داری نتن
اکتوبر
داسو سمیت تمام منصوبوں پر سیکیورٹی مزید بہتر بنا رہے ہیں، چیئرمین واپڈا
?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سجاد غنی کا
مارچ
صیہونی جنگی طیاروں کی بیروت پر بمباری
?️ 28 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی جنگی طیاروں نے جنوبی بیروت کے علاقے الشویفات پر حملہ
مئی
امریکی سینیٹر کا اسرائیل مخالف مطالبہ
?️ 3 جنوری 2024سچ خبریں: امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ پر صیہونی حکومت کے
جنوری
اسرائیل لبنان کی دلدل میں غرق
?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان کے خلاف صیہونیوں کی جارحیت میں شدت اور خاص طور
ستمبر