?️
سچ خبریں: لبنانی پارلیمان میں حزب اللہ کے ایک رکن نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو لبنان میں جنگ کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔
لبنانی پارلیمان میں وفاداری برائے مزاحمت کے فرکشن کے رکن حسن فضل اللہ نے علاقائی پیش رفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران حزب اللہ اور محورِ مزاحمت کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کو لبنان میں جنگ کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے اور اس نقطہ نظر کو ایران کی قیادت، حکومت اور عوام کی حمایت حاصل ہے۔
فضل اللہ نے کہا: موجودہ پیش رفت صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پورے علاقے خاص طور پر لبنان کو اپنی لپیٹ میں لیں گے۔
انہوں نے لبنانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تشکیل پانے والے علاقائی ماحول سے فائدہ اٹھائے؛ کیونکہ حزب اللہ ایران کے کردار اور موقف پر اعتماد رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کا اصل مسئلہ "جنوبی لبنان کی آزادی اور صہیونی حکومت کی جارحیت کا مقابلہ کرنا” ہے، اور اس موضوع کو "فیصلہ کن اور وجودی” قرار دیا۔
فضل اللہ نے کہا: صہیونی حکومت کا ہدف لبنانی سرزمین پر قبضہ اور اس کے باشندوں کی جبری نقل مکانی ہے، اسی لیے حزب اللہ اپنے سامنے مزاحمت جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں دیکھتی۔
انہوں نے مزید کہا: اس راستے سے کوئی بھی پسپائی یا چشم پوشی جنوبی لبنان کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
اس لبنانی رکن نے لبنانی حکومت کی صہیونی حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے عمل پر بھی تنقید کی اور کہا: امریکہ بغیر کوئی واضح کامیابی حاصل کیے، بیروت پر مراعات حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ لبنانی حکومت کو دوسری فریق کے ساتھ کسی بھی گفتگو کو جنگ بندی، مہاجرین کی واپسی، قیدیوں کی رہائی اور حملہ آور افواج کے انخلاء سے مشروط کرنا چاہیے۔
حزب اللہ کے رکن نے آخر میں لبنان میں داخلی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اختلافات اور داخلی دباؤ کے باوجود، ترجیح دشمن کا مقابلہ کرنا اور ملک کے استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب صہیونی حکومت کی جانب سے لبنان کے علاقوں پر قبضے اور جارحیت جاری رہنے کے باوجود (جس کا مقصد غزہ کی پٹی کی طرح ایک حفاظتی پٹی بنانا ہے)، لبنانی حکومت نے اس حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ داخلی مخالفتوں کے باوجود کیا گیا ہے اور مذاکرات امریکی ثالثی میں ہونے ہیں۔
اسی سلسلے میں، امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ 25 اردی بہشت کو لبنانی حکومت اور صہیونی حکومت کے درمیان واشنگٹن میں براہ راست مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی مزید 45 دن کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت اس سازش کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ لبنان کی اسلامی مزاحمت کو اس کی حکومت کے ذریعے غیر مسلح کیا جائے، اور بیروت کو تل ابیب کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جائے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ انصاف نہیں، ناانصافی کا حامی ہے،نیتن یاہو کو گرفتار کیا جانا چاہیے: اقوام متحدہ کی رپورٹنگ آفیسر
?️ 12 جولائی 2025 سچ خبریں:اقوام متحدہ کی رپورٹنگ آفیسر فرانچسکا آلبانیز نے کہا ہے
جولائی
یوکرین بحران جغرافیائی تبدیلی اور طاقت کے توازن میں تبدیلی کے دہانے پر
?️ 2 جون 2025سچ خبریں: یوکرین کا بحران اپنے تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہے،
جون
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی لیبی فوجی سربراہ سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
?️ 18 دسمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
دسمبر
جنگ کے بعد غزہ کے ساتھ کیا کریں گے؟ امریکہ کا اعلان
?️ 23 اکتوبر 2024سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور اس کے
اکتوبر
صیہونی نوجوان اسرائیل سے بھاگنے کا سوچ رہے ہیں
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: تازہ ترین سروے کے نتائج کے مطابق جو اسرائیل ہیوم
جولائی
انخلا بھی اور بمباری کی ؛افغانستان کے خلاف نئی امریکی سازش
?️ 8 اگست 2021سچ خبریں:امریکہ ایک طرف افغانستان نے مکمل انخلا کا ڈھونگ رچا رہا
اگست
امریکی صدارتی انتخابات کے انگلینڈ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں: ہینڈلزبلاٹ اخبار نے اپنے ایک مضمون میں انگلینڈ اور ملکی
جنوری
فلسطین کے حامی امریکی شہریوں کا اس ملک کی حکومت سے مطالبہ
?️ 6 جون 2021سچ خبریں:امریکہ میں فلسطینی حقوق کے کارکنوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی
جون