یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مابین کشیدگی 

?️

سچ خبریں:  یمن کے مشرقی ساحلی شہر المکلا کے اہم بندرگاہ پر حالیہ واقعات، جہاں سعودی قیادت والے اتحاد نے امارات سے منسوب اسلحہ اور فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے پر فضائی حملہ کیا، نے بین الاقوامی میڈیا میں وسیع پزیرائی حاصل کی ہے۔
یہ واقعہ، جو ابتدائی طور پر عرب اتحاد کے دائرے میں ایک محدود آپریشنل اختلاف سمجھا جا سکتا تھا، مغربی میڈیا کی تحلیل میں یمن جنگ میں دو اہم شراکت داروں کے درمیان کھلے تصادم اور گہری خلیج کی واضح علامت بن گیا ہے۔ کئی مبصرین اسے "خطرناک اسٹریٹجک خلیج” قرار دے رہے ہیں۔
دنیا بھر کے میڈیا، خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں، اس واقعے کو ایک الگ حادثہ نہیں بلکہ یمن کی جنگ کے سفر میں ایک اہم موڑ سمجھ رہے ہیں۔ یہ وہ نقطہ ہے جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات کا ٹکراؤ اب پوشیدہ نہیں رہا اور عملی میدان میں کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ نے لکھا ہے کہ یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب اسلحہ اور فوجی سازوسامان کا ایک قافلہ سعودی قیادت والے اتحاد سے رابطہ کیے بغیر امارات کی بندرگاہ الفجیرہ سے حضرموت صوبے کی بندرگاہ المکلا منتقل کیا گیا۔ ریاض کے مطابق، یہ سازوسامان جنوبی منتقلی کونسل سے وابستہ فورسز کے لیے بھیجا گیا تھا، جو ابوظبی کی براہ راست حمایت یافتہ ہے اور جس کا اسٹریٹجک ہدف جنوبی یمن کو مرکزی حکومت سے علیحدہ کرنا بتایا جاتا ہے۔
انڈیپنڈنٹ نے زور دیا کہ سعودی عرب کی جانب سے اس قافلے پر بمباری کا امارات کے لیے ایک واضح پیغام تھا۔ ریاض کے نقطہ نظر سے حساس اور اسٹریٹجک علاقوں، خاص طور پر سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں کے قریب، علاحدگی پسند قوتوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ سیکورٹی کی سرخ لکیروں سے تجاوز سمجھا جاتا ہے۔
تاکٹیکل اختلاف سے آگے
میڈیا کی ایک قابل ذکر تعداد اس نکتے پر زور دیتی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلاف کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ سن 2019 سے، جب سے متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی براہ راست فوجی موجودگی کم کی، دونوں ممالک کے اہداف میں اختلافات کے اشارے واضح ہو رہے تھے۔ تاہم، میڈیا کا ماننا ہے کہ المکلا میں جو کچھ ہوا، وہ پوشیدہ اختلافات کے مرحلے سے آگے نکل کر کھلے تصادم کے دور میں داخل ہونے کی علامت ہے۔
اطالوی اخبار انسائیڈ اوور نے اپنے صاف گو تجزیے میں اس صورت حال کو "یمن مخالف اتحاد کے دل میں خطرناک اسٹریٹجک خلیج” قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ اس بحران کا انصاراللہ سے براہ راست تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ریاض اور ابوظبی کے یمن اور خطے کے نظم و نسق کے مستقبل کے بارے میں بنیادی طور پر مختلف نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔
یمن کے بارے میں دو متضاد نقطہ نظر
انسائیڈ اوور کے تجزیے کے مطابق، سعودی عرب یمن کو اپنی قومی سلامتی کے بڑے مساوات کا ایک حصہ سمجھتا ہے، ایک بفر اسٹیٹ جس کا استحکام سرحدی خطرات کو روکنے کے لیے اہم ہے۔ اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات یمن کو اپنے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کے منصوبے میں ایک اہم کڑی کے طور پر دیکھتا ہے، ایک ایسا منصوبہ جو افریقہ کے ساحل پر واقع بندرگاہوں سے شروع ہوتا ہے اور جنوبی یمن اور بحیرہ عرب تک پھیلا ہوا ہے۔
اس اخبار نے زور دے کر کہا کہ ابوظبی کی جانب سے جنوبی علیحدگی پسند قوتوں کی حمایت کوئی وقتی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور اہم بحری مقامات پر کنٹرول کے طویل مدتی اسٹریٹجی کا حصہ ہے۔ ایسی اسٹریٹجی جو لازمی طور پر سعودی عرب کی سیکیورٹی ترجیحات کے ہم آہنگ نہیں ہے۔
ہم آہنگ اتحاد کے بیانیے کا خاتمہ
سوئس اخبار لوٹن نے بھی تنقیدی انداز میں لکھا ہے کہ حالیہ واقعات نے "ہم آہنگ عرب اتحاد” کے سرکاری بیانیے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس اخبار کے خیال میں یمنی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاعی معاہدے کے خاتمے اور 24 گھنٹوں کے اندر اماراتی فوجیوں کے انخلا کے احکامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض اور ابوظبی کے درمیان سیاسی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
لوٹن نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے متضاد مفادات ابتدائی مشترکہ اہداف، یعنی انصاراللہ کے خلاف کارروائی، پر حاوی ہو گئے ہیں اور اس نے یمن کی جنگ کو ایک اور پیچیدہ مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
جنوبی یمن: پراکسی مقابلے کا میدان
فرانسیسی میڈیا نے بھی تشویش کے ساتھ ان واقعات کا احاطہ کیا ہے۔ اخبار لبریشن نے رپورٹ دی ہے کہ جنوبی منتقلی کونسل سے وابستہ فورسز نے دسمبر کے آغاز میں قبضہ کیے گئے علاقوں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے اور کھل کر سعودی حمایت یافتہ حکومت کے احکامات کی مخالفت کر رہی ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ علیحدگی پسندوں کا اپنے موقف پر قائم رہنے کا اصرار ظاہر کرتا ہے کہ وہ یمنی ریاستی ڈھانچے سے وابستگی کے بجائے بیرونی پشت پناہی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
لو موندے نے محتاط لہجے میں اماراتی فوجیوں کے انخلا کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی علامت قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ یہ انخلا لازمی طور پر جنوبی یمن میں ابوظبی کے اثر و رسوخ کے خاتمے کا اشارہ نہیں ہے۔
اتحاد کے مستقبل پر سوالات
اطالوی اخبار Asia News نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ "اتحاد کس طرف جا رہا ہے؟” لکھا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ٹکراؤ اب کوئی عارضی اختلاف نہیں رہا، بلکہ خطے کے نظم و نسق کے بارے میں دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں گہرے تضاد کی عکاسی ہے۔ اس میڈیا ہاؤس کے خیال میں ہنگامی حالت کا اعلان، دفاعی معاہدے کے خاتمے اور فضائی و بحری پابندیوں ک نفاذ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب کا نقطہ نظر اختلافات کے انتظام سے ہٹ کر متحدہ عرب امارات کے خلاف براہ راست روک تھام کی پالیسی کی طرف مائل ہو رہا ہے۔
علاقائی حدود سے باہر اثرات
میڈیا کی تشویش صرف یمن تک محدود نہیں رہی۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے خبردار کیا ہے کہ عالمی توانائی کے بازار میں دو اہم کھلاڑیوں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، کے درمیان کشیدگی کے علاقے سے باہر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور تیل و گیس کے بازاروں کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف، اکونومسٹ نے لکھا ہے کہ یمن کی جنگ اس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اتحاد خود اپنے آپ سے لڑ رہا ہے اور تنازع کا مرکز اب انصاراللہ نہیں رہا، بلکہ سابق اتحادیوں کے درمیان مقابلہ ہے۔ گارڈین نے جنوبی یمن میں خانہ جنگی کے پھوٹ پڑنے اور غیر مستحکم صورتحال کے پڑوسی ممالک میں پھیلنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
امریکی نقطہ نظر
امریکہ میں، وال اسٹریٹ جرنل نے اس تصادم کو واشنگٹن کے مفادات کے تناظر میں دیکھا ہے اور لکھا ہے کہ ریاض اور ابوظبی کے درمیان خلیج امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے مساوات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن ایران کو روکنے اور خطے کے بحرانوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اخبار کے خیال میں امریکہ کے دو اہم اتحادیوں کے درمیان اختلافات کے جاری رہنے سے حریف کھلاڑیوں کو زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔
خلاصہ
دنیا بھر کے میڈیا کی مجموعی رپورٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ تصادم کوئی عارضی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ یمن کے بحران کے ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہونے کی علامت ہے۔ ایسا مرحلہ جہاں خطے کی طاقتوں کی مسابقت اس ملک کی تقدیر پر پہلے سے کہیں زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان میڈیا ذرائع کے نقطہ نظر سے، اگر اس خلیج کو مؤثر طریقے سے منظم نہیں کیا گیا تو نہ صرف عرب اتحاد، بلکہ خلیج فارس، بحیرہ احمر اور حتیٰ کہ عالمی توانائی بازار کے سلامتی کے مساوات بھی سنگین چیلنجز کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کا شام کے شہر عین العرب میں ایک نیا اڈہ بنا نے کا ارادہ

?️ 3 جنوری 2025سچ خبریں: امریکہ کی قیادت میں داعش مخالف کے نام سے مشہور

اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے اکسانا ایک نفسیاتی عمل ہے: المانیٹر

?️ 12 جون 2025سچ خبریں: ایک مغربی میڈیا نے صہیونی ریژیم کے ایران پر ممکنہ

صہیونی ریاست کا مستقبل؛ داخلی بحران، عالمی دباؤ اور عدم استحکام کے چیلنز

?️ 26 اپریل 2025 سچ خبریں:موجودہ عالمی منظرنامے میں اسرائیل کو داخلی و خارجی بحرانوں

نتن یاہو صہیونی عوامی رائے کو تبدیل کرنے میں ناکام

?️ 20 مئی 2025سچ خبریں:  امریکی-صہیونی دوہری شہریت کی حامل غزہ کی قیدی، اور محمد السنوار

مبینہ بیٹی چھپانے کا معاملہ، نااہلی کیس میں عمران خان کے وکیل کو جواب جمع کرانے کی مہلت

?️ 20 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ بیٹی کوکاغذات میں

’پاکستان آئیڈل‘ کا شاندار آغاز، باصلاحیت گلوکاروں نے اسٹیج پر اپنی آواز کا جادو جگایا

?️ 5 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) ملک کا سب سے بڑا موسیقی کا مقابلہ ’پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا پی ٹی آئی احتجاج کے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

?️ 28 نومبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے

اسرائیلی فوجیوں کے پاس بلٹ پروف جیکٹ نہیں:صہیونی میڈیا

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی اخبار نے قابض حکومت کے فوجیوں کے پاس بلٹ پروف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے