یمن میں سعودی اتحاد کی شکست اور پلان بی پر عمل درآمد

یمن

?️

سچ خبریں:یمن میں مرکزی منصوبے کی ناکامی کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد ایک متبادل پلان یاپلان بی کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس مرحلے کا بنیادی ہدف ایران اور انصار اللہ کے درمیان اختلافات کا بیج بونا ہے۔
جمعہ کے روز وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ یمن کی انصار اللہ تحریک اور ایران کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں انھیں اختلافات کی وجہ سے یمن میں ایرانی سفیر نے ملک چھوڑنے کا ارادہ کیا ہےجس کے بعد یمن کی انصاراللہ تحریک کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بغداد کے راستے ایرانی سفیر کی صحت کی خرابی کی وجہ سے ایک عراقی طیارے کے ذریعے صنعا میں ایرانی سفیر کی منتقلی کا معاہدہ طے پایا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ میڈیا میں شائع ہونے والی خبریں اور قیاس آرائیاں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں جبکہ سعودی میڈیا نے ایسی خبریں پھیلا کر ایران اور انصار اللہ کے تعلقات پر شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن اس تنازع میں سعودی عرب اور اس کے حامیوں کا کیا مقصد ہے؟ واضح رہے کہ یمنی انصار اللہ تحریک نے 2015 میں یمن کے اس وقت کے صدر منصور ہادی کے استعفیٰ اور فرار کے ساتھ صنعا اور یمن کے دیگر حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے انصار اللہ کو لبنانی حزب اللہ کا دوسرا ورژن قرار دیتے ہوئے اس تحریک کو شکست دینے پر زور دیا۔

منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانے کے بہانے سعودی عرب نے 2015 میں یمن پر حملہ کیا اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے چند ہفتوں میں یمن کو فتح کرنے کا وعدہ کیا،تاہم یمن کی جنگ چند مہینوں میں آٹھویں سال میں داخل ہو جائے گی جبکہ سعودی عرب اس جنگ میں اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا ہے اور اسے دوسری پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا پڑے گا۔

یمن میں اہم منصوبے کی شکست کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد ایک متبادل منصوبہ یا پلان بی کو نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس مرحلے کا اصل ہدف ایران اور انصار اللہ کے درمیان اختلاف پیدا کرنا ہے،واضح رہے کہ یمنی جنگ کے سات سالوں میں سعودی عرب نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ انصار اللہ کے تمام میزائل اور ڈرون ایران فراہم کرتا، درحقیقت انصار اللہ کی طاقت تہران کی حمایت کی وجہ سے ہے۔

یادرہے کہ اس مرحلے پر جب بن سلمان کے پاس یمنی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ پر گامزن ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، انھوں نے کم قیمت پر یمنی دلدل سے نکلنے کی کوشش کی ہے۔

 

مشہور خبریں۔

مقدمے کے بغیرگرفتاری ہوسکتی ہے نہ عدالتی حکم کے بغیر حراست میں رکھا جاسکتا ہے، سپریم کورٹ

?️ 15 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں

غزہ بحران اور تل ابیب کی تنہائی؛ کیا ٹرمپ اپنے اثر و رسوخ سے مساوات بدلنے کی کوشش کریں گے؟

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: غزہ کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنگین

فلسطین کے ساتھ غداری، اسرائیل کی سرزمین پر پہلے عرب ملک نے اپنا سفارت خانہ کھول دیا

?️ 15 جولائی 2021تل ابیب (سچ خبریں)  اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین روابط کا

بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں متعدد گھروں کو تباہ کردیا، درجنوں کشمیری شہید اور زخمی ہوگئے

?️ 15 مارچ 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان میں  میں

صیہونیوں کی ایران اور حزب اللہ کے خلاف لبنانی صحافی کی خدمات حاصل کرنے کی تفصیلات

?️ 21 فروری 2022سچ خبریں:لبنان کے سکیورٹی ذرائع نے صیہونیوں کے ہاتھوں ایران اور حزب

نیتن یاہو 4 دن کے بعد واشنگٹن سے تل ابیب پہنچے

?️ 12 جولائی 2025 سچ خبریں: نیتن یاہو، اسرائیل کے وزیر اعظم، نے واشنگٹن میں چار

لبنان کا صہیونی ریاست کے خلاف سلامتی کونسل میں شکایت کرنے کا اعلان

?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں:لبنان کے وزیر خارجہ صہیونی عناصر کی جانب سے ایک لبنانی

اقوامِ متحدہ میں پاکستان سے متعلق قرارداد کی منظوری پر بلاول بھٹو کا اظہارِ تشکر

?️ 9 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے