?️
سچ خبریں: ایک صہیونی کالم نگار نے میڈیا اور سوشل سائٹس میں اسرائیل کے فوجی سنسر شپ کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ کے دوران یہ سنسر شپ کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
فلسطینی شہاب نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کی فوجی سنسر شپ کو نہ صرف اس حکومت کی فوج کے اندر عمل میں لایا جاتا ہے بلکہ یہ صیہونی ذرائع ابلاغ ،طوفان الاقصیٰ اور غزہ جنگ کے حوالے سے شائع ہونے والے تمام مواد پر بھی استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صہیونی معاشرے میں پھوٹ میڈیا تک پہنچی
اس حوالے سے اسرائیلی کالم نگار Hagai Miter کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ملٹری سنسر شپ نے غزہ میں مزاحمتی قوتوں کے خلاف فوج کی ہلاکتوں کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور 2023 میں اس حوالے سے سینکڑوں رپورٹس اور تجزیوں کو شائع ہونے سے روک دیا ہے۔
میٹر نے مزید کہا کہ 2023 میں اسرائیلی فوجی سنسرشپ نے اسرائیلی میڈیا میں 613 تجزیوں کی اشاعت کو روکا جو 2022 کے مقابلے میں تقریباً 4 گنا زیادہ ہے، اس کے علاوہ سنسر نے اس سال 2703 خبروں کو ہٹایا یا ان میں ترمیم کی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے7 اکتوبر کے آپریشن اور طوفان الاقصیٰ کے بعد صحافیوں کی سرگرمیوں پر اسرائیل کی فوجی سنسر شپ میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہوا ہے ، کہا کہ اس مسئلے میں اسٹوڈیوز کے اندر کی صورتحال شامل نہیں ہے نیز تمام میڈیا اور سوشل سائٹس اس سنسر شپ کے تابع بھی۔
اس صہیونی تجزیہ کار نے مزید کہا ہے کہ شائع شدہ خبروں میں سنسر شپ 20% سے بڑھ کر 31% ہو گئی ہے اور سنسر شپ کے نظام نے جن خبروں کو شائع ہونے سے روکا ہے ان کی تعداد 7% سے بڑھ کر 31% ہو گئی ہے، یہ اعداد و شمار اسرائیلی فوج کے نگرانی کے نظام نے فراہم کیے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ پچھلی بار تل ابیب میں صحافیوں کی اتنی بڑی تعداد میں شدید سینسر شپ کا مشاہدہ غزہ میں 2014 کی جنگ میں تھا، جب فوج کے نگرانی کے نظام نے 3122 خبروں اور رپورٹوں کی اشاعت میں مداخلت کی۔
اس صہیونی قلمکار کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ جنگ کے دوران سنسر شپ کی تعداد 5916 سے بڑھ کر 10,527 ہو گئی ہے اور مانیٹرنگ اور سنسر شپ کے نظام کے نمائندے ہر وقت اسٹوڈیوز میں موجود رہتے ہیں نیز نیوز میڈیا اور سوشل سائٹس کو ان کے کہنے کے مطابق بولنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے خلاف اسرائیل کی فوجی سنسرشپ اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ صحافیوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے اسرائیلی سنسر کی نگرانی کے بغیر صہیونی جنگی کونسل کی صورتحال سے متعلق رپورٹیں شائع کیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: خاموشی اور جرم
یاد رہے کہ اس سے پہلے بعض صیہونی صحافیوں نے اس حکومت کی جنگی کونسل کے اجلاسوں میں شدید اختلافات اور وسیع کشیدگی کی خبر دی تھی۔


مشہور خبریں۔
ہانگ کانگ کے میڈیا میڈیا کا دعوی، واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نئی کشیدگی
?️ 17 دسمبر 2025 ہانگ کانگ کے میڈیا میڈیا کا دعوی، واشنگٹن اور بیجنگ کے
دسمبر
فردوس عاشق کی ٹک ٹاک اسٹار پر تنقید
?️ 13 جولائی 2021لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے
جولائی
اسرائیل ہماری قومی استحکام کو نشانہ بنانے پر تلا ہوا ہے: لبنانی صدر
?️ 17 اکتوبر 2025سچ خبریں: لبنان کے صدر جنرل جوزف عون نے کہا ہے کہ
اکتوبر
غزہ میں 3 سالہ صیہونی جارحیت کے ہولناک اعداد و شمار؛ 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید
?️ 7 اکتوبر 2026سچ خبریں:غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری صیہونی جنگ کے 3
اکتوبر
سرایا القدس نے جنین میں 3 مجاہدین کی شہادت کی اطلاع دی
?️ 28 اگست 2026سچ خبریں:فلسطینی جہاد اسلامی سے وابستہ سرایا القدس نے مغربی کنارے میں
اگست
نیتن یاہو کے دفتر کو ایک مشکوک لفافہ موصول ہوا
?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم کے دفتر نے نیتن یاہو کو
جنوری
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی بھارت میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟
?️ 27 جنوری 2023سچ خبریں:مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی گزشتہ روز اپنے بھارت کے دورہ
جنوری
کے الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ
?️ 4 جون 2021کراچی (سچ خبریں) کے الیکٹرک صارفین کے لئے بجلی کی قیمتوں میں
جون