چین نے قرضوں کے ذریعے امریکہ اور یورپ میں کس طرح اثر و رسوخ بڑھایا؟

چین

?️

چین نے قرضوں کے ذریعے امریکہ اور یورپ میں کس طرح اثر و رسوخ بڑھایا؟

چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران قرضوں کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ امریکی جریدے نیوزویک نے ورجینیا کے کالج ولیم اینڈ میری کے تحقیقی ادارے ایڈڈاٹا کی ایک تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے 24 سال کے دوران مجموعی طور پر 2.2 ٹریلین ڈالر کے بیرونی قرضے فراہم کیے، جن میں سب سے بڑا حصہ امریکہ کے حصے میں آیا۔

رپورٹ کے مطابق چین سے قرض لینے والے ممالک کی فہرست میں امریکہ 202 ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے، جب کہ روس 172 ارب، آسٹریلیا 130 ارب اور وینزویلا 106 ارب ڈالر کے ساتھ اس کے بعد آتے ہیں۔ یہ نتائج اس عام تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ چین زیادہ تر کم آمدنی والے ممالک کو قرض دیتا ہے۔ تحقیق کا کہنا ہے کہ چین کے تین چوتھائی قرضے دراصل امیر ممالک کو دیے گئے، جن کا ہدف سیاسی، سلامتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔

ایڈڈاٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریڈ پارکس نے بتایا کہ چین کی حقیقی قرض دہی پہلے کے اندازوں سے دو سے چار گنا زیادہ ہے اور اس کا بڑا حصہ اہم انفراسٹرکچر، اسٹریٹیجک معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً سیمی کنڈکٹر صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوا۔ رپورٹ کے مطابق چین کی اقتصادی سفارتکاری نے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ مغربی طاقتوں کی پالیسیوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی حکومتوں نے بھی مختلف ادوار میں بندرگاہوں، کانوں اور اہم تنصیبات میں سرمایہ کاری کے لیے چینی ماڈل سے متاثر ہوکر اقدامات کیے، جن میں ارجنٹینا کے لیے 20 ارب ڈالر کا حالیہ امریکی پیکیج بھی شامل ہے۔

تحقیق کا کہنا ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ اپنے امدادی اداروں میں بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے، جن میں یو ایس ایڈ کے کچھ حصوں کے خاتمے اور وسائل کو امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کی طرف منتقل کرنے کی تجاویز شامل ہیں، تاکہ اس کی قرض دینے کی صلاحیت 60 ارب سے بڑھا کر 250 ارب ڈالر کی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک اگرچہ اپنی مالیاتی حکمتِ عملیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں، تاہم چین کو ایک بنیادی برتری حاصل ہے کیونکہ اس کا سیاسی نظام نجی کمپنیوں کو قومی اہداف کے تحت کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جب کہ مغربی جمہوریتوں میں ایسی ہم آہنگی ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی خصوصیت عالمی سطح پر چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو مزید مستحکم کرسکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

طالبان خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں: او آئی سی

?️ 30 مئی 2022سچ خبریں:اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے افغانستان میں لڑکیوں

پاکستان سرحدی حملوں کو روکنے کے لیے طالبان حکومت سے تعاون چاہتا ہے

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: پاکستانی وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے ملک کے

پاک ایران پارلیمنٹ فرینڈشپ گروپ: ایران پاکستان تعاون کو مضبوط بنانا خطے کے مفاد میں ہے

?️ 11 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاک ایران پارلیمنٹ فرینڈشپ گروپ کے سربراہ نے کہا

بڑھتے گھریلو اخراجات نے پاکستانیوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، سروے

?️ 19 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) گزشتہ کئی سالوں کے دوران معاشی ترقی کی

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کا پی کے کے کے انحلال پر پہلا ردعمل

?️ 13 مئی 2025سچ خبریں:  ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کابینہ اجلاس کے

پاکستان کی مسلح افواج پر ہمیشہ سے یقین رہا ہے، صدر مملکت

?️ 11 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے

صحت کے نظام پر جرمن شہریوں کے اعتماد میں نمایاں کمی

?️ 30 مارچ 2023سچ خبریں:تازہ ترین سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً

طالبان کا سویلینز کی ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جھوٹ، پاکستان کی افغانی عوام سے لڑائی نہیں۔ ترجمان پاک فوج

?️ 18 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے