?️
چین اور یمن کے درمیان براہِ راست تجارتی شروع ہونے سے اسرائیل کی تشویش بڑھ گئی
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، چین اور یمن کے درمیان براہِ راست تجارتی راستہ قائم ہونے کی خبر نے تل ابیب کو شدید تشویش اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ چند روز قبل صنعاء کے دفترِ کشتیرانی نے اعلان کیا کہ چین سے براہِ راست جہاز رانی کا ایک نیا راستہ بندر حدیدہ تک شروع کیا گیا ہے، جو اس وقت انصاراللہ (حوثی) کے زیرِ انتظام ہے۔
یہ نیا تجارتی راستہ چینی شپنگ کمپنی ZBM کے ذریعے چلایا جائے گا، جو چین کے تین بڑے بندرگاہوں جن میں چینگڈاؤ بھی شامل ہے — کو براہِ راست یمن کے بندر حدیدہ سے منسلک کرے گا۔
کمپنی کے مطابق، یہ لائن باقاعدہ تجارتی سفر اور مسابقتی نرخوں کی پیشکش کرے گی تقریباً ۴۳۰۰ ڈالر فی ۲۰ فٹ کنٹینر اور ۵۹۵۰ ڈالر فی ۴۰ فٹ کنٹینر۔ اس کے ساتھ ساتھ، کمپنی مکمل لاجسٹک خدمات بھی فراہم کرے گی — یعنی سامان کی نقل و حمل کا تمام عمل، فیکٹری سے لے کر یمن میں آخری منزل تک، کمپنی خود منظم کرے گی تاکہ صارفین کو کسی تیسرے فریق پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
یہ اقدام یمن کے لیے ایک اہم اقتصادی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ملک کو براہِ راست چین جیسے معاشی سپر پاور تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس پیش رفت سے یمن کی اقتصادی خودکفالت میں اضافہ اور محاصرے پر انحصار میں کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل اس پیش رفت کو ایک خطرناک جغرافیائی و سیاسی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ صہیونی ذرائع کے مطابق، بندر حدیدہ وہی بندرگاہ ہے جسے اسرائیل حالیہ مہینوں میں کئی بار نشانہ بنا چکا ہے، اور جسے وہ ہتھیاروں کی ترسیل کے مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، چین کی جانب سے اس بندرگاہ کے ساتھ براہِ راست تعاون، اسرائیل کے لیے ایک نئی چیلنجنگ صورتِ حال پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف اسرائیل کے فوجی حملے سیاسی طور پر متنازع ہو جائیں گے بلکہ چین جیسے عالمی طاقت سے ممکنہ اقتصادی و سفارتی کشیدگی بھی جنم لے سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کا یہ اقدام صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی پیغام بھی ہے۔ چین، جو طویل عرصے سے اسرائیل اور تائیوان کے بڑھتے تعلقات پر ناراضی ظاہر کر رہا ہے، اب بالواسطہ طور پر صہیونی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور تائیوان کے تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے تائیوان کو اسرائیل کا مشرقی دوست قرار دیتے ہوئے لکھا کہ دونوں جمہوریت کے دفاع میں ایک جیسے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔” اس دوران دفاعی اور عسکری تعاون بھی بڑھا ہے، جسے بیجنگ اپنی خودمختاری کے لیے سرخ لکیر کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
اسی پس منظر میں، چین کا یمن کے ساتھ تجارتی لائن قائم کرنا — خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے — صہیونی حکومت کے لیے ایک اسٹریٹجک دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
مختصراً، یہ تجارتی راستہ نہ صرف یمن کی اقتصادی خودمختاری کو تقویت دے گا بلکہ چین کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے اقتصادی و سیاسی کردار کے طور پر مضبوط کرے گا — اور اسرائیل کے لیے ایک نیا دردِ سر بن جائے گا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
جنوبی شام میں امداد کی تقسیم میں اسرائیل کی فریب کاری
?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد حکومت کے گرنے کے بعد
نومبر
سردار سلیمانی کو ترکی صحافی کا خراج عقیدت
?️ 3 جنوری 2023سچ خبریں: ترک صحافی نے حاج قاسم سلیمانی کی عظیم کاوشوں
جنوری
چین نے امریکا سے تعلقات بگاڑنے کے لئے نہیں کہا: منیر اکرم
?️ 4 دسمبر 2021اسلام آباد/اقوام متحدہ (سچ خبریں)اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم
دسمبر
یومِ قدس؛ امام خمینی کا اسلامی منصوبہ، انسانیت کے لیے پیغام اور وحدتِ امت کا موقع
?️ 28 مارچ 2025 سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی جہاد تحریک کے نمائندے ناصر ابوشریف نے
مارچ
بغداد میں لگاتار تین خوفناک دھماکے
?️ 20 جون 2022سچ خبریں:عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس ملک کی انٹیلی جنس
جون
سعودی خاتون کو قید کی سزا
?️ 19 اکتوبر 2022سچ خبریں: سعودی عرب انصاف اور آزادی کا مطالبہ کرنے والی
اکتوبر
فلوریڈا میں میری حویلی پر حملہ فوجی بغاوت جیسا تھا: ٹرمپ
?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں: ریاستہائے متحدہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
ستمبر
پنجاب حکومت نے بلدیاتی نظام میں اہم فیصلہ کیا
?️ 2 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے بلدیاتی نظام میں خصوصی افراد کے
دسمبر