ٹرمپ سمجھتے تھے بمباری سے ایران جھک جائے گا، مگر ایسا ہوا نہیں؛ امریکی صحافی کا اعتراف

ایران

?️

سچ خبریں:امریکی صحافی ڈینیل ڈی پیٹریس نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو امید تھی کہ شدید بمباری ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گی، مگر ایران نے آبنائے ہرمز کو اسٹریٹجک دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکی پالیسی کو چیلنج کر دیا۔

امریکی صحافی ڈینیل ڈی پیٹریس نے کہا ہے کہ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کوئی مسئلہ نہیں تھی، لیکن اب یہ ایران کے ہاتھ میں ایک طاقتور اسٹریٹجک کارڈ بن چکی ہے۔

شکاگو ٹریبیون کے لیے اپنی رپورٹ میں ڈینیل ڈی پیٹریس نے لکھا کہ جنگ سے پہلے روزانہ سینکڑوں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا تھا اور جہازوں کو نہ فائرنگ کا سامنا ہوتا تھا اور نہ ہی ڈرون حملوں کا۔ ان کے مطابق اس وقت ایران کو اس آبی گزرگاہ کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ ان کے بقول ڈونلڈ ٹرمپ کو امید تھی کہ ایران پر شدید بمباری اسے خوفزدہ کر کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ڈی پیٹریس کے مطابق ایران نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کو روایتی جنگ میں شکست سے بھی زیادہ خطرناک سمجھا۔ اسی لیے ایران نے اپنی حکمت عملی کے تحت جنگ کے دائرے کو خلیجی ممالک تک پھیلانے کی کوشش کی تاکہ ایک طرف ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو اور دوسری طرف خلیجی ممالک ٹرمپ پر جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی میں آبنائے ہرمز کی بندش بھی شامل تھی اور تہران ہر قیمت پر اس مرحلے سے گزرنے کے لیے تیار دکھائی دیا۔

امریکی صحافی نے مزید لکھا کہ یہ حکمت عملی بڑی حد تک کامیاب رہی ہے اور ایران درحقیقت ٹرمپ کو مزید کشیدگی بڑھانے سے روک رہا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے اور ایران کا مؤقف پہلے سے زیادہ سخت ہو چکا ہے۔

ڈی پیٹریس نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز اب ایران کے ہاتھ میں ایک اہم اسٹریٹجک برگ بن چکی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے صورتحال مختلف تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور امریکی پابندیوں کے خاتمے تک وہ جوہری مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا۔

رپورٹ کے اختتام پر امریکی صحافی نے لکھا کہ اس پوری صورتحال میں ٹرمپ خود اپنے سب سے بڑے دشمن بن گئے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسقاط حمل کے معاملے میں ٹرمپ کا یو ٹرن

?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں: ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ریپبلکن اسقاط حمل کے حقوق کے

’ہتھیار ڈالنا کوئی آپشن نہیں‘، نگران وزیراعظم کا دہشت گردوں کےخلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم

?️ 23 اگست 2023کراچی: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ

عراق سے امریکی فوجیوں کا خروج ہماری اولین ترجیح : الفتح

?️ 5 اکتوبر 2021سچ خبریں: عراقی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے کہا کہ ملک سے غیر

200 یونٹس استعمال کے ریٹ کا 201 یونٹ پر یکدم بدل جانا مصیبت ہے، سعد رفیق

?️ 9 جون 2025لاہور: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے سینئر

وزیر اعظم نے مدثر نارو کے اہلخانہ سے ملاقات کی

?️ 9 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے

یونیسیف کی خضدار میں سکول بس پر خوفناک حملے کی شدید مذمت

?️ 21 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) یونیسیف نے خضدار میں سکول بس پر خوفناک

الاقصیٰ طوفان صہیونی دشمن کے انجام کا آغاز

?️ 17 فروری 2024سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کی عسکری القسام بٹالین کے ترجمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے