?️
ٹرمپ اور نیتن یاہو مشترکہ پالیسیوں سے غزہ میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے
فلسطینی تجزیہ کار اور مصنف فرحان علقم نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیز ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور ان کے اقدامات کے نتیجے میں غزہ میں روزانہ انسانیت کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جو کچھ غزہ میں پیش آ رہا ہے وہ کھلی نسل کشی اور نسلی صفائی ہے جسے صیہونی قابضین عام شہریوں کے خلاف روزانہ انجام دیتے ہیں جبکہ اسے روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔
علقم نے واضح کیا کہ فلسطینی اپنی سرزمین چھوڑنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گے اور ہر اس منصوبے کو رد کرتے ہیں جس کا مقصد انہیں جلا وطن کرنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا مسئلہ صرف ریویرا پروجیکٹ” تک محدود نہیں، بلکہ یہ خطہ اپنے قدرتی گیس کے ذخائر اور تجارتی اہمیت کے باعث بھی عالمی رقابت کا مرکز ہے، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے۔
فلسطینی تجزیہ کار کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے امن قائم کرنے کے بجائے ذاتی مفادات اور اسرائیلی-امریکی قبضے کو مضبوط بنانے کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہتے، اس کی مثال امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف کی پیچھے ہٹنے کی صورت میں سامنے آئی، جب مزاحمتی گروہوں کے ساتھ طے شدہ سمجھوتہ صرف نیتن یاہو کی مخالفت پر منسوخ کر دیا گیا۔
علقم نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادی قطر کو بھی نشانہ بنایا، جو امریکا کا بڑا فوجی اڈہ "العدید” رکھتا ہے اور مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا۔ ان کے بقول، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فلسطینی وفد پر حملے کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس فوجی اڈے کے دفاعی نظام کو غیر فعال کرنے کی اجازت دی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کا مقصد فرانس-سعودی منصوبے کو ناکام بنانا ہے، جس کے تحت فلسطین کو تسلیم کرنے کی تجویز تھی۔ اس کے بجائے ٹرمپ غزہ کو مغربی کنارے سے الگ کر کے ایک متبادل حکومت کے تحت چلانے کی تجویز پیش کر رہے ہیں، جس کی نگرانی سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر کریں گے۔ علقم کے مطابق بلیر کا کردار صرف مشرقِ وسطیٰ میں مزید انتشار پھیلانا ہے۔
آخر میں علقم نے کہا کہ فلسطینی عوام کی استقامت اور مزاحمت ہی تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی۔ انہوں نے 7 اکتوبر کو ہونے والے طوفان الاقصیٰ آپریشن کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا، جس نے فلسطین کے حوالے سے عالمی رائے عامہ میں بڑی تبدیلی پیدا کی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کی۔
یاد رہے کہ ٹرمپ پہلے غزہ کو ایک سیاحتی مقام میں بدلنے کے منصوبے پر بات کرتے رہے تھے، لیکن اب انہوں نے اس تجویز کو پسِ پشت ڈال کر ٹونی بلیر کے ذریعے بین الاقوامی انتظامی ماڈل کی طرف جھکاؤ دکھایا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
لبنان کی سرحد پر صیہونی جاسوس خواتین یونٹ کا کیا کردار ہے؟
?️ 15 نومبر 2021سچ خبریں: اتوار کے روز ایک صہیونی اخبار نے جاسوسی اور فوجی
نومبر
آرمی ایکٹ:اٹارنی جنرل کی فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد
?️ 18 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں
جولائی
خطے میں اسرائیلی دہشت گردی کے نتائج کے بارے میں شام کا انتباہ
?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: بیروت میں صیہونی حکومت کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں
ستمبر
جسٹس مسرت ہلالی، پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن گئیں
?️ 1 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جسٹس مسرت ہلالی نے پشاور ہائی کورٹ کی قائم
اپریل
ہندوستان کا نام بدل کر "بہارت” کر دیا گیا ہے
?️ 5 ستمبر 2023سچ خبریں: بھارتی میڈیا نے اعلان کیا کہ ملک کی حکومت جلد
ستمبر
نیب نے وزیراعظم کے مشیر امیر مقام کےخلاف بدعنوانی سے متعلق انکوائری بند کردی
?️ 19 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) قومی احتساب بیورو (نیب) خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کے مشیر
مارچ
نیتن یاہو نے خوف اور کمزوری کے باعث جنگ بندی قبول کی:یمن نیوز
?️ 24 جون 2025 سچ خبریں:یمن نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران
جون
عالمی ادارہ نباتات سے کپڑا بنانے میں پاکستان کی مدد کرنے کو تیار
?️ 30 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) گلوبل انوائرمنٹ فیسیلٹی (جی ای ایف) کی گورننگ باڈی
جون