نیتن یاہو کے اقوام متحدہ میں دو یادگار مناظر!

نیتن یاہو

?️

سچ خبریں: صہیونی اخبار کے صحافی بین کاسیٹ نے اپنے ایک مضمون میں، جس میں صہیونی ریاست کے سرکردہ رہنماؤں کی غزہ کے بین الاقوامی قبضے کے لیے ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کا حوالہ دیا گیا ہے۔
 واضح رہے کہ لکھا کہ ٹرمپ کا صبر کسی وقت ختم ہو جائے گا اور اسے احساس ہو جائے گا کہ حماس پر مکمل فتح نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
اخبار نے مزید کہا کہ صہیونی کابینہ کے انتہا پسند وزراء بیٹسلایل سموترچ اور ایتامار بن گویر نے اس منصوبے کے خلاف اپنے کھلے خطرات کا اظہار کیا ہے، اس طرح لگتا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے پر عملدرآمد درحقیقت صہیونی کابینہ کے اتحاد کے خاتمے کے مترادف ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سات اکتوبر کی تباہی کے دو سال بعد، بنجمن نیتن یاہو شاید غزہ کی جنگ کے حوالے سے فیصلہ سازی کے آخری اور نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ اس کے سامنے دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ ٹرمپ کے منصوبے کی عمومی شرائط قبول کرے، جنگ میں فتح کا دعویٰ کرے اور انتخابات میں حصہ لے، یا پھر وہ اپنی ٹال مٹول کی پالیسی جاری رکھے، صہیونی قیدیوں کی جانوں کو مزید خطرے میں ڈالے اور ٹرمپ کے صبر کی آزمائش کرے۔
بین کاسیٹ کے مطابق، نیتن یاہو کو صہیونی ریاست کے مفادات اور اپنے محدود سیاسی مفادات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ لیکن نیتن یاہو اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو ایسی مشکل گھڑی میں ذاتی مفاد کو ترجیح دینے میں ذرہ برابر بھی تردد نہیں کریں گے۔
انہوں نے بنجمن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں تقریر کے تجزیے کے دوران کہا کہ یہ تقریر ایک آخری بیان جیسی لگی، کیونکہ اس میں فتح کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی اور امکان ہے کہ دو سال قبل حماس کی سرنگوں میں قید بیس اسرائیلی قیدی مر چکے ہوں گے۔
اس صہیونی تجزیہ کار نے نیتن یاہو کے غزہ کی سرحد پر بلند آواز والے اسپیکرز نصب کرنے کے اقدام کا مذاق اڑاتے ہوئے، جنگ کے دوران صہیونی فوجیوں کی المناک حالت کی طرف اشارہ کیا اور لکھا کہ ریزرو فوجیوں، جنہیں مسلسل تعینات کیا جا رہا ہے، نے اپنے دکھی خاندانوں، بند کاروباروں، قرضوں اور اپنی پریشانیوں کو چھوڑ کر جاکر وہ اسپیکرز نصب کیے جن کی آواز کسی نے نہیں سنی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس تقریر کے دو یادگار مناظر تھے: ایک تو غزہ کے کھنڈرات کے سامنے لگائے گئے اسپیکرز، اور دوسرا نیتن یاہو کی تقریر کے آغاز ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ہال سے دنیا کے نمائندوں کا اجتماعی طور پر اٹھ کر جانا، جو اسرائیل کی موجودہ حالت کی عکاسی کرتا ہے۔
بین کاسیٹ نے آخر میں زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو نے صہیونی ریاست کو ایسا نقصان پہنچایا ہے جس کی مرمت میں بہت زیادہ وقت لگے گا اور ہو سکتا ہے کہ یہ غزہ کی تعمیر نو سے بھی زیادہ طویل ہو۔

مشہور خبریں۔

مریم نواز کی رمضان المبارک میں سکیورٹی اقدامات سخت کرنے کی ہدایت

?️ 19 فروری 2026لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رمضان المبارک کے

ٹرک ڈرئیور نے سائیکل سواروں کو کچل دیا

?️ 20 جون 2021سچ خبریں:امریکی ریاست ایریزونا پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ٹرک ڈرائیور

چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کا مشترکہ منصوبہ

?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان نے چینی اثر و رسوخ کو روکنے

اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا معاملہ، نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کردیا

?️ 10 اپریل 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بین

صیہونی وزیر جنگ غزہ میں کیا کر رہے ہیں؟

?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی وزیر جنگ یوو گیلنٹ نے دعویٰ کیا کہ یہ

فلسطینیوں کی اربعین زائرین کی خدمت

?️ 15 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطین کے مقصد کی مرکزیت اور امام حسین کی تحریک سے

امیتابھ بچن کے  مداح تشویش میں مبتلا ہوگئے

?️ 5 جنوری 2022ممبئی (سچ خبریں) بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن کے حالیہ

وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

?️ 22 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے