نیتن یاہو کی معافی کے اسرائیل پر ممکنہ اثرات

نیتن یاہو

?️

سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست نے مقبوضہ علاقوں میں ایک شدید سیاسی و قانونی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

صیہونی حکومت کے صدر کے دفتر کے بعض ذرائع نے نیتن یاہو کی درخواست کو غیر معمولی اور دور رس اثرات کی حامل قرار دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ ہرزوگ بے مثال داخلی و خارجی سیاسی دباؤ کے باوجود کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے تمام قانونی نقطہ نظر کا جائزہ لیں گے۔

نیتن یاہو کی معافی کی درخواست کو ان کے مخالفین اور سیاسی تجزیہ کاروں نے عدالتی نظام کے وقار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیار پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کی معافی بدعنوانی کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے، اور نیتن یاہو معافی کے ذریعے سیاسی استثنیٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ کسی جوابدہی کے بغیر برسراقتدار رہ سکیں۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں بشمول یائر لیپڈ اور یائر گولان نے نیتن یاہو کے اقتدار سے دستبردار ہوئے اور اپنے الزامات کا صراحتاً اعتراف کیے بغیر کسی بھی معافی جاری کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ دوسری طرف، نفتالی بینٹ نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل داخلی انتشار اور خانہ جنگی کے دہانے پر ہے، اور انہوں نے نیتن یاہو کے احترام کے ساتھ سیاسی ریٹائرمنٹ کا مطالبہ کیا تاکہ اس بحران کا خاتمہ ہو سکے جس سے صیہونی برسوں سے دوچار ہیں۔

اس کے برعکس، حکومت میں شامل جماعتوں نے فوراً معافی کی درخواست کی حمایت کر دی اور دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات جعلی ہیں۔ جنگی وزیر یسرائیل کاٹز اور وزیر خزانہ بیٹسیلیل سموتریچ کی حمایت اس کی دو مثالیں ہیں۔

صیہونی صحافی گیڈی وائز، جو سب سے پہلے نیتن یاہو سے منسوب بدعنوانی کے مقدمات کو منظر عام پر لائے تھے، نے حالیہ معافی کی درخواست پر تنقید کی ہے اور اسے ایک فاسد اسکیم قرار دیا ہے جو قانون نافذ کرنے والے نظام پر نیتن یاہو کے حملے کی انتہا ہے۔

ہارٹز اخبار میں ایک مضمون میں وائز نے ہرزوگ پر سخت تنقید کی اور ان پر الزام لگایا کہ وہ اپنے مقدمے سے بچنے کے لیے نیتن یاہو کے ساتھ مل گئے ہیں۔

وائز کا ماننا ہے کہ معافی کی درخواست ظاہر کرتی ہے کہ نیتن یاہو کا سیاسی منظر نامے سے دستبردار ہونے کا ارادہ نہیں ہے، بلکہ وہ مجرم کا جرم کے منظر پر واپسی کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

وائز کے خیال میں، معافی کی درخواست کا اقدام قانونی و سیاسی اختلاف سے بالاتر ہے، کیونکہ یہ صیہونی حکومت کے سیاسی نظام میں بحران کی گہرائی کو آشکار کرتا ہے اور داخلی تقسیم کی بے مثال سطح کو عکس انداز کرتا ہے۔ نیز یہ اقدام قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے اور صیہونیوں کی سیاسی زندگی میں بدعنوانی کی ثقافت کو مستحکم کرنے کے مقصد سے معافی کے آلے کے خطرناک استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔

یدیعوت احرونوت اخبار کی سیاسی امور کی نامہ نگار موران ازولای نے ایک اور رپورٹ میں لکھا کہ ابتدائی تیاریوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہم آہنگی کے باوجود، معافی کی درخواست نے صیہونی حکومت کے قانونی اور سیاسی نظاموں میں وسیع پیمانے پر جھٹکا پہنچایا ہے۔

اس صیہونی تجزیہ کار کے مطابق، نیتن یاہو الزامات تسلیم کیے یا ندامت ظاہر کیے بغیر، حتیٰ کہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیے بغیر مکمل بریت کی درخواست کر رہے ہیں، حالانکہ سات اکتوبر کے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کی وزارت عظمیٰ جاری رکھنے کی اہلیت شک کے دائرے میں ہے۔

ازولای کا مزید کہنا ہے کہ اگر ہرزوگ یہ درخواست قبول کرتے ہیں تو نیتن یاہو کو عدلیہ کے خلاف اپنی جنگ میں سب سے بڑا فائدہ حاصل ہوگا۔ لیکن اگر درخواست مسترد کر دی جاتی ہے، تو نیتن یاہو اپنی پرانی پوزیشن پر واپس چلے جائیں گے اور آنے والے انتخابات توقع سے کہیں زیادہ کشیدہ ہوں گے۔

اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے ازولای نے زور دیا کہ صیہونی حکومت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، کیونکہ یہ معاملہ محض ایک بدعنوانی کا کیس نہیں ہے، بلکہ سیاسی نظام کی شناخت اور مستقبل اور سیاستدانوں کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں قانون کی حکمرانی کی حد کے بارے میں جنگ ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کے سابق جنگجوؤں نے یوکرین کے لیے اپنے پاؤں کھول دیے

?️ 26 مارچ 2022سچ خبریں:  عبرانی ذرائع نے یوکرائنی عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کے

اسرائیلیوں نے کسی بھی قسم کی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روکا

?️ 21 فروری 2024سچ خبریں:غزہ بھر میں بھوک کے بحران میں شدت آنے اور اس

سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے مزید مؤثر حکمت عملی کی ضرورت

?️ 17 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)غیرمعمولی سیلاب کی بڑی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں

ایران کے شہید رہبر کی بنیادی پالیسیوں پر عمل جاری رہے گا: یمنی صحافی

?️ 4 جولائی 2026سچ خبریں:ایک یمنی صحافی نے ایران کے شہید رہبر کی تشییع جنازہ

عرب حکمراں امریکہ اور اسرائیل کے آلہ کار ہیں:سید حسن نصراللہ

?️ 22 مئی 2022سچ خبریں:حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے شہید مصطفی

سعودی عرب کے ساتھ امریکی ہتھیاروں کے معاہدے پر بین الاقوامی تنقید میں اضافہ

?️ 20 ستمبر 2021 (سچ خبریں)تازہ ترین رائے شماری کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے

ایران کے بارے میں غیر مربوط موقف پر اسرائیلی وزیر جنگ کو سرزنش

?️ 24 اپریل 2026سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن چینل 14 نے انکشاف کیا

زلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے کیسے باہر نکالا گیا؟

?️ 2 مارچ 2025 سچ خبریں:امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز نے وضاحت کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے