نیتن یاہو کی تقریر کے دوران احتجاجی مظاہرے اور سفارتکاروں کا اعتراض،برطانوی میڈیا کی براہ راست رپوٹنگ 

نیتن یاہو کی تقریر

?️

نیتن یاہو کی تقریر کے دوران احتجاجی مظاہرے اور سفارتکاروں کا ہال کو ترک کرنا،برطانوی میڈیا کی براہ راست رپوٹنگ
برطانوی میڈیا نے وزیر اعظم اسرائیل بنیامین نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کو بڑے پیمانے پر احتجاجات اور درجنوں سفارت کاروں کے ہال سے نکلنے کے تناظر میں نمایاں طور پر کوریج دی۔
بی بی سی کے مطابق جیسے ہی نیتن یاہو نے تقریر شروع کی، کئی ممالک کے نمائندے اجلاس کا ہال چھوڑ گئے اور باہر موجود مظاہرین نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ اس منظر کو اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
روزنامہ گارڈین نے اپنی براہِ راست کوریج میں سرخی جمائی: نیتن یاہو کی جنرل اسمبلی میں تقریر، جبکہ درجنوں سفارت کار ہال سے نکل گئے۔ اخبار نے مزید لکھا کہ نیویارک کی سڑکوں پر فلسطینی پرچموں اور نعروں کے ساتھ احتجاج نے ماحول کو اسرائیل مخالف بنا دیا۔
ٹائمز لندن نے نیتن یاہو کی تقریر کے دوران بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کی سرخی لگاتے ہوئے کہا کہ خالی نشستیں اور سفارت کاروں کا سرد ردعمل تل ابیب کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی عالمی بے اعتمادی کا ثبوت ہیں۔
اسکائی نیوز نے نیویارک میں احتجاجی مناظر نشر کرتے ہوئے نیتن یاہو کی تقریر کو شدید بین الاقوامی دباؤ کے سائے میں قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ کا ماحول غزہ میں جاری جنگ پر سفارتی اور عوامی ناراضی کا عکاس تھا۔
دائیں بازو کے اخبار ڈیلی ٹیلیگراف نے بھی اس صورتحال کو نمایاں کیا اور لکھا کہ سفارت کاروں کا وسیع پیمانے پر اجلاس چھوڑنا، اسرائیل کے خلاف دنیا کے واضح عدم اعتماد کا پیغام ہے۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو ان دنوں غزہ میں جنگی جرائم کے باعث عالمی عدالت انصاف کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔ متعدد ممالک کے نمائندے اسرائیل کے حالیہ حملوں اور دو سال سے زائد عرصے پر محیط غزہ میں خونریزی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے نکل گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ غیرمعمولی بائیکاٹ اور نیویارک کی سڑکوں پر اسرائیل مخالف احتجاجات اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی برادری تل ابیب کی جنگی پالیسیوں سے سخت نالاں ہے۔ اس دوران یورپ کے کئی اہم ممالک بشمول برطانیہ، فرانس، اسپین اور بیلجیم فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔

مشہور خبریں۔

حماس کو تجویز کردہ جنگ بندی کے منصوبے میں اختلافات

?️ 3 جون 2024سچ خبریں: ایک عرب میڈیا آؤٹ لیٹ نے مبینہ باخبر ذرائع کے حوالے

صیہونی حکومت کی ناکامی ناقابل تلافی کیوں ہے؟

?️ 12 اکتوبر 2023سچ خبریں:عرب 48 نیوز کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس اور فلسطینی

ایران انٹرنیشنل کی مردہ لڑکی بی بی سی فارسی پر زندہ!

?️ 27 ستمبر 2022سچ خبریں:حالیہ دنوں میں ایران سے باہر فارسی زبان کے میڈیا نے

گوگل نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے خلاف احتجاج کرنے والے 28 ملازمین کو برطرف کردیا

?️ 18 اپریل 2024سچ خبریں: امریکا میں گوگل نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ معاہدے کے

سلمان اکرم راجا کی جیل حکام کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست مسترد کرنے پر شدید تنقید

?️ 19 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری

انتخابات کے دوسرے دور میں ایرانیوں کی شرکت میں اضافہ

?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: ایرانی صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹوں کی گنتی کے

احمد الحربی کہاں ہیں؟ ؛سعودی حزب اختلاف کا سوال

?️ 12 اپریل 2021سچ خبریں:سعودی اپوزیشن کو سعودی نقاد احمد عبد اللہ الحربی کے بارے

یمن جنگ میں ریاض کی غلط فہمیاں اور علاقائی حیثیت کے لیے سعودی عرب کا ناقابل واپسی راستہ

?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں:یمن جنگ میں شکست کی تلافی کے لیے سعودی عرب کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے