نتن یاہو کے متضاد بیانات نے اسرائیل میں نیا تنازع کھڑا کر دیا

نتن یاہو

?️

نتن یاہو کے متضاد بیانات نے اسرائیل میں نیا تنازع کھڑا کر دیا
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو کی جانب سے غزہ میں قید اسرائیلی قیدیوں کی تعداد سے متعلق ایک مرتبہ پھر متضاد اعداد و شمار پیش کیے جانے پر اسرائیل کے اندر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی روزنامہ معاریو کے مطابق، نتن یاہو نے عملیات طوفان الاقصیٰ کی دوسری برسی کے موقع پر امریکی قدامت پسند صحافی بن شاپیرو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قیدیوں کی تعداد کے بارے میں غلط معلومات دیں، جس سے عوامی ناراضی مزید بڑھ گئی۔
نتن یاہو نے گفتگو کے آغاز میں اس آپریشن کو اسرائیل کی تاریخ کا سب سے دردناک اور خوفناک واقعہ قرار دیا اور تسلیم کیا کہ حماس ابھی تک شکست نہیں کھا سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پوری قوت استعمال کریں گے تاکہ حماس کو شکست دے سکیں اور اپنے قیدیوں کو واپس لائیں۔
تاہم، جب ان سے قیدیوں کی درست تعداد پوچھی گئی تو وہ واضح جواب نہ دے سکے اور کئی بار اعداد و شمار میں غلطی کر بیٹھے۔ معاریو نے اس رویے کو "آج کا سب سے چونکا دینے والا لمحہ قرار دیا۔
نتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ۴۰ قیدیوں کو رہا کر کے اپنی طاقت اور عزم کا مظاہرہ کیا، جن میں سے ۲۰ زندہ تھے، حالانکہ اصل تعداد ۴۸ قیدیوں کی بتائی گئی ہے۔
اس سے قبل  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی حکام کے برعکس مختلف اعداد و شمار بیان کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ تقریباً ۳۲ یا شاید ۳۸ قیدی مارے جا چکے ہیں، بلکہ ممکن ہے کہ یہ تعداد ۴۰ کے قریب ہو۔ ان کے بیانات سے بھی اسرائیلی عوام اور قیدیوں کے اہلِ خانہ میں غصے کی لہر دوڑ گئی، جس کے نتیجے میں قدس اور تل ابیب میں حکومت مخالف مظاہروں کی کال دی گئی۔
معاریو کے مطابق، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس وقت ۴۸ اسرائیلی قیدی موجود ہیں، جن میں سے تقریباً ۲۰ زندہ ہیں۔ اگر ٹرمپ کے اندازے درست مانے جائیں تو زندہ قیدیوں کی تعداد صرف ۱۰ رہ جاتی ہے۔
اسی دوران، اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایک سابق اہلکار نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی حکومت کے لیے اندرونی سیاسی مفادات قیدیوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حماس کو فوجی لحاظ سے شکست دینا ممکن نہیں اور تجویز دی کہ موجودہ مذاکرات میں اسرائیل کو حماس کو سیاسی طور پر شکست دینے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ صرف قیدیوں کی رہائی پر۔

مشہور خبریں۔

متنازع آئینی پیکج اگلے ہفتے پارلیمان میں پیش کیے جانے کا امکان

?️ 27 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئینی پیکج پر اتفاق رائے نہ ہونے کے

ٹرمپ کا ایک بار پھر اوباما کی گرفتاری کا مطالبہ

?️ 12 مئی 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما کو غدار

جرمنی نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کو محکوم کیا

?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں:       جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے مقبوضہ بیت

حزب اللہ کا اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے قریب نیا میزائل 

?️ 27 اپریل 2026 سچ خبریں:صہیونی حکومت کے میڈیا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے

اسرائیل کے سیکورٹی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کا غزہ کی جنگ میں شکست کا اعتراف

?️ 23 فروری 2025 سچ خبریں: اسرائیل سیکیورٹی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ نے اعلان کیا کہ

پڑھائی کے دوران موبائل استعمال کرنے سے کیا ہوتا ہے؟

?️ 29 جولائی 2023سچ خبریں: اقوام متحدہ نے تعلیمی اداروں میں اسمارٹ فون کے استعمال

سعودی لڑاکا طیاروں نے یمن کے الجوف اور البیضاء صوبوں پر بمباری کی

?️ 2 جنوری 2022سچ خبریں:  یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی جنگجوؤں کے حملوں کا

ہم سعودی اتحاد کے ساتھ تمام قیدیوں کے تبادلے کے لیے تیار ہیں: یمن

?️ 2 مئی 2023سچ خبریں:یمن کی قومی سالویشن حکومت کی قومی قیدیوں کے امور کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے