?️
مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کے خاتمے کا ٹرمپ منصوبہ کیوں ناکام ہو رہا ہے؟
عربی ذرائع کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا طاقت کے ذریعے امن کا تصور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے بجائے مزید عدم استحکام کو جنم دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی حقیقی مذاکرات اور منصفانہ حل کے بجائے دباؤ، دھمکی اور عسکری برتری کے ذریعے فریقین کو مخصوص فیصلے قبول کرنے پر مجبور کرنے پر مبنی ہے، جو خطے کی سیاسی اور عوامی زمینی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
تاریخی طور پر طاقت کے ذریعے امن کا نظریہ امریکہ میں پرانا ہے، مگر ٹرمپ کے دور میں اسے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ پر لاگو کیا گیا، جہاں اس کا مقصد عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر مجبور کرنا بتایا جاتا ہے۔ اس سوچ کے تحت فلسطینیوں، شامیوں اور لبنانیوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی حقیقت کو تسلیم کریں جو ان پر طاقت کے ذریعے مسلط کی جا رہی ہے، نہ کہ برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے ذریعے طے ہو۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جلد بازی کے پیچھے اسرائیل کو خطے میں ناقابلِ چیلنج طاقت کے طور پر مضبوط کرنا، خطے کے قدرتی وسائل پر رسائی، اور عرب ممالک کو اسرائیل کے ساتھ کھلے تعلقات پر آمادہ کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کو درپیش معاشی مشکلات اور ممکنہ معاشی بحران کے پیش نظر واشنگٹن دنیا کے وسائل پر مزید کنٹرول چاہتا ہے، جیسا کہ وینزویلا کے تیل اور اثاثوں کے خلاف اقدامات اس رجحان کی مثال کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔
اس حکمتِ عملی کے تحت فلسطینیوں پر دباؤ ہے کہ وہ اپنی بنیادی سیاسی اور قومی خواہشات سے دستبردار ہو جائیں، جبکہ عرب ممالک کو اسلحے کے سودوں اور سیکیورٹی ضمانتوں کے بدلے اسرائیل کو عملی طور پر تسلیم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس عمل میں لالچ اور دھمکی دونوں ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔
شام اور لبنان پر دباؤ کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں معاشی پابندیوں، سیاسی دباؤ، سیکیورٹی بحران اور اسرائیلی عسکری کارروائیوں کے ذریعے حالات اس سمت میں دھکیلے جا رہے ہیں کہ وہ مزاحمتی پالیسی ترک کریں۔ لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی کو خاص ہدف بنایا جا رہا ہے، جبکہ شام میں مسلسل حملے اور مداخلت حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق ایسا کوئی بھی امن جو عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کیا جائے، دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔ تاریخ میں مصر کے صدر انور سادات کی مثال دی جاتی ہے، جنہوں نے اسرائیل سے معاہدہ کیا مگر اس کے نتیجے میں انہیں شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ مصر اور اردن کے عوام آج بھی اسرائیل کے ساتھ حقیقی عادی تعلقات کو قبول نہیں کرتے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی حکمتِ عملی میں حقیقی امن کو کبھی مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہی، بلکہ اس کا مقصد ہمیشہ اپنے لیے سیکیورٹی زون بنانا اور ہمسایہ ممالک کو کمزور کرنا رہا ہے۔ امریکہ کے مفادات معاشی اور عالمی بالادستی سے جڑے ہیں، جبکہ اسرائیل کا واحد مقصد اپنی سلامتی ہے، خواہ اس کے لیے خطے میں مزید کشیدگی کیوں نہ پھیلانی پڑے۔
نتیجتاً تجزیہ یہی ہے کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا جانے والا امن نہ صرف کمزور بنیادوں پر کھڑا ہوتا ہے بلکہ حالات بدلتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے معاہدے جبری ہوتے ہیں اور عوامی مزاحمت کے باعث دیرپا نہیں ہو سکتے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی کا امکان زیادہ ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر جنگ کا امکان کم ہے کیونکہ وہ بھی کسی حتمی حل تک نہیں پہنچا سکتی۔
آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ “طاقت کے ذریعے امن” دراصل ایک غیر حقیقی تصور ہے، کیونکہ امن اور جبر دو متضاد تصورات ہیں جنہیں ایک ساتھ جوڑا نہیں جا سکتا، اور تاریخ میں کوئی بھی ایسا امن دیرپا ثابت نہیں ہوا جو بزور طاقت مسلط کیا گیا ہو۔


مشہور خبریں۔
صیہونی نقل مکانی کے منصوبے ناکامی کی جانب گامزن
?️ 29 اپریل 2025سچ خبریں: صیہونی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، مقبوضہ فلسطین میں صیہونیوں کی
اپریل
واٹس ایپ میسیجز کے ریپلائیز تھریڈ کی صورت میں پیش کرنے کا امکان
?️ 17 مارچ 2025سچ خبریں: انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کے ماہرین کی جانب
مارچ
غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات
?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز نے آج ایک باخبر اہلکار کے حوالے
نومبر
برطانیہ کا فلسطین کے خلاف خطرناک منصوبہ
?️ 16 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکی امن منصوبے کے تحت سامنے آنے والا ٹونی بلر پلان
اکتوبر
مشرقی افغانستان میں فائرنگ ؛ صحافی کا قتل
?️ 3 اکتوبر 2021سچ خبریں:افغانستان کے شہر جلال آبا کےد علاقے واٹر پمپ میں ایک
اکتوبر
شاہ رخ کا عالیہ بھٹ کے ساتھ کام کرکے خوشی کا اظہار
?️ 26 نومبر 2021ممبئی (سچ خبریں)بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کا کہنا ہےکہ انہیں
نومبر
کے-الیکٹرک صارفین کیلئے بجلی 7 روپے 43 پیسے فی یونٹ سستی
?️ 28 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نومبر کے
دسمبر
امریکی انٹیلی جنس چیف کے مقبوضہ فلسطین کے دورے کا راز
?️ 13 اگست 2021سچ خبریں:بہت سے لوگوں نے امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ ولیم برنس
اگست